نفرت سے ننگےپن تک

صوبہ کرناٹک میں حجاب کا قضیہ حساس مسلمانوں کے لیے باعث تشویش ہے ۔ کئی ہفتوں سے دیکھا جا رہا ہے کہ حجاب کو ایک مذہبی شناخت کا نام دے کر مسلم لڑکیوں کو تعلیم سے محروم کیا جا رہا ہے اور یہ گھناؤنا کام وہ منافرکر رہے ہیں جن کا الزام ہے کہ مسلمان اپنی بیٹیوں کو گھروں میں محصور رکھتے ہیں اور تعلیم سے محروم رکھتے ہیں ۔ حجاب آج دنیا کے ہر ملک میں اپنایا جاتا ہے بلکہ مغربی ممالک میں کسی کالج/ یونیورسٹی میں اس کی انفرادی مخالفت ہوئی ہے تو غیر مسلم لڑکیوں نے حجاب پہن کر مسلم لڑکیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ان تنگ نظروں کے خلاف احتجاج درج کرایا ہے ۔میں ان خود ساختہ سیکولر اور لبرل لوگوں سے سوال کرتا ہوں جو طلاق ثلاثہ کے وقت آزادی نسواں اور فنڈامنٹل رائٹ کے نام پر حکومت کی کاسہ لیسی میں اپنے ایمان کو نیلام کرکے مسلمان اور اسلام کے خلاف ہفوات بک رہے تھے ۔۔ مذہب اسلام کو انتہا پسند اور عورت کا دشمن قرار دے رہے تھے ۔آج شخصی آزادی کے نام پر اسلام کوبدنام کرنے والے کہاں مر گئے؟ اگر ننگاگھومنا، شراب پینا، بنا رشتے کے مرد و زن کا ایک ساتھ وقت گزارنا بلکہ مرد کا مرد سے، عورت کا عورت سے شادی کرنا ان کے نزدیک فنڈامنٹل رائٹ میں آتا ہے تو اپنی مرضی سے مسلم لڑکیوں کا حجاب پہننا بنیادی حقوق میں سے کیوں نہیں ہے۔ ایک وزیر اعلی اپنے مذہبی لباس میں اقتدار کی کرسی پر بیٹھ سکتا ہے، ایک غنڈہ   پارلیمنٹ میں بیٹھ سکتا ہے،یا ہمارے ملک کا وزیراعظم پارلیمنٹ کی رسم سنگ بنیاد اپنے مذہبی ریت  ورواج کے مطابق منعقد کرسکتا ہے جبکہ ہمارا ملک سیکولر ملک ہے ۔تو ایسا دیکھ کرکیا ایسالگتا ہے کہ وہ ایک سیکولر ملک کا سربراہ ہے ؟آئینی عہدوں پر بیٹھ کر مذہب کی تشہیر کرنے والے، خزانہ عامرہ سے مذہبی مقامات کو ترقی دینے والے اور حکومتی اداروں کے توسط سے مذہبی تقریبات منعقد کرانے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اسکولوں میں میں بچوں کو سورج کی پرستش کرانا،سرکاری دفتر میں اپنے معبودوں کی تصویریں آویزاں کرنا ، گنیش پوجا اور سرسوتی وندنا کرانا انہیں پسند ہے، لیکن مسلم لڑکیوں کے حجاب پہننے سے انہیں تکلیف ہو رہی ہے ۔
 پورے ملک میں نفرت کی کھیتی کرنے والے وہی لوگ ہیں، جنہوں نے آصفہ کے مجرموں کی حمایت میں ریلی کی،سلی ڈیلس (SULLY DEALS) بلی باے ایپ( BULLY BUY APPS) اور کلب ہاؤس(CLUB HOUSE) جیسے ایپلی کیشن پر مسلم عورتوں کی تصویریں فروخت کے لیے اپلوڈ کی۔ یہ ہوس کے وہ پجاری ہیں جن کے مقاصد کو حجاب پورا نہیں ہونے دیتا ،اس لئے ان کو تکلیف ہو رہی ہے۔ ان سے ہمارا صرف اتنا کہنا ہے کہ بیشک تم اپنی بہنوں کو فحش کاموں میں ملوث رکھو یا ننگا گھماؤ لیکن ہماری بہنوں کے سروں سے حجاب کھینچنے کی کوشش مت کرو ،کیوں کہ ہم وہ قوم ہیں جو غیرت کے نام پر جان کا نذرانہ پیش کرنے سے گریز نہیں کرتی ہے۔