نعرہ نہیں نظریہ مستحکم کریں

بھارت کی اکثریتی آبادی کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والی آر ایس ایس اور اس کی طفیلی تنظیمو ں کا نعرہ ہے کہ بھارت فقط ہندوؤں کا ہے، لیکن زمینی حقائق اس کی نفی کرتے ہیں۔پاکستان کے اکثر مذہبی حلقوں کا خیال ہے کہ ملک پر خلافت قائم ہوگی، لیکن خلافت کے دعوے داروں کو انتخابات میں چند سیٹوں پر ہی قانع ہونا پڑتا ہے۔مصر کو جب ’’عرب بہار‘‘ نے لپیٹا تو اخوان المسلمون کو لگا کہ یہی موقعہ ہے کہ اقامت دین کے اپنے نعرے کو عملا ہی دیں، لیکن بااعتبار نتیجہ سب اُلٹا ہوگیا۔سعودی عرب کے فقیہوں کو لگا تھا کہ اُن کاملک اسلام کے خالص ترین ورژن کا نقیب ہے، لیکن آج وہ لوگ شراب خانوں اوررقص گاہوں کی تعمیر میں مصروف ہیں۔روس اور چین معاشی مساوات کے اشتراکی اصولوں کے دعوے دار تھے، لیکن آج دونوں ممالک کارل مارکس کو طلاق دے چکے ہیں اور سرمایہ داری میں امریکہ اور یورپ کو پچھاڑنا چاہتے ہیں۔ہٹلر اور مسولینی نے جرمنی اور اٹلی کو نسل پرستی کے جس وائرس سے پروان چڑھایا وہ اب گناہ کبیر ٹھہرا ہے، اب جرمنی شام اور عراق کے پناہ گزینوں کی محفوظ ترین جائے قیام بن گئے ہیں۔
نعرے درحقیقت وقتی طور پر جذبات کو مرتعش کرتے ہیں۔ لیکن مدلل نظریہ لانگ ٹرم تبدیلی کے لئے زمین ہموار کرتا ہے۔نیشنل کانفرنس نے اٹانومی کو بیچ کھانے کے بعد اٹانومی کا نعرہ دیا، پی ڈی پی نے کشمیریوں کو بے اختیار کرنے میںکوئی کسر اُٹھا نہ رکھی لیکن سیلف رُول کا نعرہ دیا۔ دونوں جماعتوں کا کوئی ٹھوس نظریہ نہیںہے، محض نعرے ہیں۔ سلوگن ازم سیاسی اقتدار کا شارٹ کٹ ہوتا ہے جبکہ ٹھوس نظریہ سیاسی ارتقاء کا موجب بنتا ہے۔
 کشمیر کے اجتماعی شعورپر بھی ایک نعرہ غالب ہے۔ ’’ہم کیا چاہتے ، آزادی‘‘۔ یہ نعرہ معاشرے کے رگ و پے میں اس قدر گہرائی تک سرایت کرگیا ہے کہ 2006میں کانگریس رہنما کھیم لتا ووکھلو نے شیرکشمیرپارک میں لوگوں سے پہلے کہا کہ وہ نعرہ دیں گی تو اس کا جواب ’’تعمیر و ترقی‘‘ دینا۔ چنانچہ انہوں نے پوری قوت کے ساتھ چلا کر بولا، ’’ہم کیا چاہتے‘‘، جواب میں ’’آزادی‘‘ کی گونج اس قدر سماعت شکن تھی کہ کھیم لتا جی ہی نہیں غلام نبی آزاد سمیت سبھی کانگریسی حیران ہوگئے۔
اگر کسی نعرے کے سماجی تقدس کا حال یہ ہو، تو اس نعرے کی پشت پر ٹھوس نظریہ ہونا لازمی ہے۔ بعض حلقے اعتراض کریں گے کہ صاحب آزادی نعرہ نہیں نظریہ ہی ہے۔کیونکہ تاریخ گواہ ہے، 1947کے واقعات شاہد ہیں، اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں وغیرہ وغیرہ۔آزادی کے لئے سرگرم مزاحمتی گروہوں کا غالب حلقہ مزاحمت کو اسلامی نقطہ نگاہ سے دیکھتا ہے اور باور یہ کیا جاتا ہے کہ مسلم اکثریتی خطہ ہونے کے ناطے آزادی کا مطلب خلافت الٰیہہ ہے۔اس نظریہ کو قبول عام تو حاصل ہے لیکن اس نظریہ پر پوری قوم مجتمع نہیں ہے۔ ہندنواز سیاسی خیمہ الگ بولی بولتا ہے، جبکہ مکمل خودمختاری کے نقیب حلقے کچھ اور ہی کہتے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ ایسا کون سا نظریہ ہے جس پرقوم مجتمع ہوسکے؟ تین دہائیوں سے لوگ سڑکوں پر آزادی کا نعرہ دے رہے ہیں، لیکن آج تک قیادت نے آزادی کو ڈیفائن نہیں کیا۔
قرائن سے ہی لوگ اخذ کرتے ہیں کہ کشمیریوں کو بھارت کا اقتدار ِ اعلیٰ تسلیم نہیں ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ حکومت ہند کشمیریوں کو ذلیل کرکے علیحدگی پسند رحجانات پیدا کررہی ہے۔ بعض دیگر حلقے کہتے ہیں کہ بھارت کو اگر واقعی سپر پاور بننا ہے تو کشمیریوں اور پاکستان سے بات چیت کرے ۔اقتدار سے چمٹے سیاسی پہلوانوں کا کہنا ہے کہ بھارت آئینی شقوں کا پاس کرتے ہوئے کشمیریوں پر رحم کرے۔
ایک طرح سے نعروں کی مسابقت آرائی ہے ، جسے ہم عرف عام میں کشمیر پالیٹکس کہتے ہیں۔
گاندھی نے جب سوراج کا نعرہ دیا تو اس کی پشت پر مکمل نظریہ تھا۔ وہ نظریہ پورے بھارت میں مقبول ہوا۔ اس کے ساتھ برہمن بھی جڑا، مسلمان بھی اور دلت بھی۔جناح نے بھی ایک نعرہ دیا۔ اس کی پشت پر یہ نظریہ تھا کہ برصغیر کا مسلمان ہندوؤں کا غلام نہیں بلکہ علیحدہ وجود رکھتا ہے۔گاندھی اور جناح دونوںنے اپنے نعروں کو ٹھوس نظریوں کی بنیاد پر عملایا۔کشمیریوں نے سات دہائیوں سے نعرے دئے، نظریہ کبھی پروان نہیں چڑھا۔شیر کشمیر نے جو پاٹھ پڑھوایا اُس نے دو نسلوں کو مدہوش کردیا۔اس کے بعد بخشی ، صادق اور میرقاسم آئے اور اپنا اپنا نعرہ دے کر چلے گئے۔ نعروں کی مدت حیات محدود ہوتی ہے۔لیکن تاریخ کے جس مرحلے پر ہم ہیں ، اِدھر نعروں کا استحصال بھی ہوتا ہے۔اسی لئے نعرے کی پشت پر ٹھوس نظریہ ہونا لازمی ہے۔
فی الوقت تحریک کا جیسا تیسا نظریہ جو ہے، اس کا لب لباب یہ ہے کہ کشمیریوں کو استصواب ِ رائے کا حق دیا جائے۔قائدین تو یہاں تک کہہ گئے ہیں کہ اگر رائے شماری میں بھارت کوزیادہ ووٹ ملے تو فیصلے کو قبول کیا جائے گا۔ یہ یونہی نہیں کہ انجنئیررشید ایک منتخب ایم ایل اے ہونے کے باوجود رائے شماری کا راگ الاپ رہے ہیں۔اس نظریہ کی باپت پوچھا جاسکتا ہے کہ لداخ کے بودھ، جموں کے ڈوگرے اور مسلمانوں میں ہی دوسرے ہندنواز حلقے بھی یہی چاہتے ہیں کیا؟  فرض کریں بھارت کل کو یہ کہے کہ صرف کشمیری بولنے والے سُنی مسلمانوں کا ریفرینڈم ہوگا، کیونکہ جموں اور لداخ میں مسلہ ہی نہیں۔پچاس ساٹھ لاکھ کشمیریوں کو تقسیم کرنا کون سا بڑا مسلہ ہے۔اہم پہلو یہ بھی ہے کہ جو نوجوان جان دے رہے ہیں وہ خالص اسلامی جذبات کے تحت ایسا کررہے ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ شہادت کے عوض جنت ملے گی۔اُن کا ارمان بھی یہی ہے کہ بھارت سے آزاد ہوجائے تو کشمیر ایک خالص اسلامی مملکت بن جائے گا۔لیکن انہیں خراج عقید ت پیش کرنے والے سہ فریقی بات چیت ، فوجی انخلاء اور رائے شماری کی بات کرتے ہیں۔یہی کھلا تضاد تحریک کو کھوکھلا کررہا ہے اور اسی تضاد کے طفیل اغیار تحریک کااستحصال کررہے ہیں۔
فی الوقت عالم یہ ہے کہ دنیا نہ پاکستان کی سن رہی ہے نہ کشمیریوں کی۔ ہڑتالیں محض مقامی اخبارات کی سرخیوں تک محدود ہیں، چیخ و پکار بانہال ٹنل سے آگے نہیں جاتی۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ہمارے نعرے کی پشت پر کوئی ایسا نظریہ نہیں ہے کہ جس پر بلالحاظ مذہب و فکر سبھی حلقے مجتمع ہوجاتے۔
ظلم و زیادیتوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو آزادی کا وجہ جواز بنانا ایک عبوری نظریہ ہے۔جب ایسا کیا جاتا ہے تودنیا بھارت سے کہتی ہے کہ پاکستان کے ساتھ معاملات ٹھیک کرو۔ فرض کریں بھارت اور پاکستان کے درمیان دوستی ہوجاتی ہے، دونوں کشمیر پر لین دین کے لئے آمادہ ہوجاتے ہیں ۔ اُسوقت آپ کیا مطالبہ کریں گے؟ 
نظریہ سازی کوئی آسان کام نہیں ہے۔ درحقیقت قائد کا کام نظریہ سازی ہی ہوتا ہے۔وہ حالات کی رو میں نہیں بہتا۔لیکن نظریہ سازی کے لئے اپنی زمین اور اس کے حالات کا بھرپور ادراک ہونا اور کچھ تیکھے سوالوں کا جواب ڈھونڈنا لازمی ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں یہ تیکھے سوال دہائیوں سے تشنہ جواب ہیں۔
( بشکریہ: ہفت روزہ نوائے جہلم سری نگر)
