نظمیں

 اندر کی آواز

 جو تیرا قرض ہے مجھ پر
اٹھایا جا نہیں سکتا
قدم لرزاں ، جہت نا آشنا، وحشت
مگر
مرا عزم ِ  جواں ہے ہم سفر اور میں
امنگوں، چاہتوں کی ایک گٹھڑی کو لئے سر پر
بڑھا ہی جا رہاہوں، پر
گلی کے موڑ پر جو سانس لینے کو ہوں رک جاتا 
تو یکسر اک  نیا منظر ابھرتا ہے
تری خوشبو سنور کر جب 
مری آنکھوں کے پردے سے
منعکس ہونے لگتی ہے
تو میری پتلیاں مجھ کو،افق سے پار ، اُس جانب
نجانے کس نگر میں چھوڑ دیتی ہیں
جہاں نہ ـ ’’تو ‘‘ کا ہے قصہ
جہاں نہ  ’ میں ‘‘کی باتیں ہیں
جہاں بے چارگی کے موسموں سے پھل اترتے ہیں
جہاں وحشت ہی وحشت ہے
عجب سکتہ سا طاری ہے
زبانیں سب کی جیسے کاٹ ڈالی ہوں
مگر اک روشنی سی ہے
کہ جس کو دیکھ کر میںنے جسارت کی
میں استفسار کر بیٹھا
جواب آنے لگے لیکن
میری حیرت بھی حیراں تھی 
کہ جو آواز آتی تھی ، مرے اندر سے آتی تھی ، مرے اندر سے آتی تھی ۔
 
ذوالفقار نقوی 
جموں ، ۔  9797580748  
 
 
 
 

سر بہ سر دیکھتا ہُوں

 
میں جب اپنا ادبی سفر دیکھتا ہُوں
تصوّر میں ہمراہ نفر دیکھتا ہُوں
ہُوئی متحرک جب سے ہے جشمِ بینا
مَیں اقبالؔ کو سر بہ سر دیکھتا ہُوں
علامہؔ ہے شعرا میں اقلیم صو‘رت
گراں اُس کا شعری سفر دیکھتا ہُوں
پڑھا جب سے حافظؔ و رومیؔ کو مَیں نے
مَیں خود کو تصوّف کا گھر دیکھتا ہُوں
مجھے ناز ہے اپنی بالیدگی پر
میں ’’بانگِ درا‘‘ کا اثر دیکھتا ہُوں
ملی جب سے آزادؔ و منشاؔ کی صحبت
مَیں باغانِ عِلم و ہُنر دیکھتا ہُوں
یہی اِک مُطالعہ کا ہے فیض عُشّاقؔ
سخن کا میں شمس و قمر دیکھتا ہُوں
نوٹ،۱۔ پروفیسر جگن ناتھ آزادؔ،۲۔ روفیسر منشا الرحمن خان منشاؔ
 
عشاقؔ کشتواڑی
  صدر انجمن ترقی اُردو (ہند) شاخ کشتواڑ
فون نمبر9697524469
 
 

’’ بکھرتا وجود‘‘

 
یہ کیسا بے ہنگم آوازوں کا شور ہے
میرے وجود کا ایک ایک ٹکڑا بکھرا پڑا ہے
میرے بدن کا انگ انگ ٹوٹ چکاہے
میرے جسم کی بوٹیاں نوچی گئیں
سوختہ جسم فقط صحرا میں آویزاں خوابوں کا متلاشی
خیالات ہواؤں میں معلق
میں کہاں اور میرا وجودکہاں!
خیالی پلاؤ،پکی پکائی چیزوں کو کھانے کی عادت
ارے یہ سفر کٹھن ہے،گویا منزل بھی سراب
راہ میں کتنے راہبر ملے
جو  روحانیت کے داعی سمجھے جاتے تھے
لیکن درحقیقت خود بے یار و مددگار
بھول بھلیاں،گورکھ دھندا
اس آب و گِل میں سبھی کی سازشیں شامل تھیں
جنہوں نے میرے وجود کو بھون ڈالا
میرے وجود کا لاغر بھوگ پرندوں کی نظر ہوگیا
اُف یہ وجو د  تو  بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکا ہے۔
 
صابر شبیربڈگامی
ریسریچ اسکالرشعبۂ اُردو کشمیر یونیورسٹی
 
 
سر بہ سر دیکھتا ہُوں
 
میں جب اپنا ادبی سفر دیکھتا ہُوں
تصوّر میں ہمراہ نفر دیکھتا ہُوں
ہُوئی متحرک جب سے ہے جشمِ بینا
مَیں اقبالؔ کو سر بہ سر دیکھتا ہُوں
علامہؔ ہے شعرا میں اقلیم صو‘رت
گراں اُس کا شعری سفر دیکھتا ہُوں
پڑھا جب سے حافظؔ و رومیؔ کو مَیں نے
مَیں خود کو تصوّف کا گھر دیکھتا ہُوں
مجھے ناز ہے اپنی بالیدگی پر
میں ’’بانگِ درا‘‘ کا اثر دیکھتا ہُوں
ملی جب سے آزادؔ و منشاؔ کی صحبت
مَیں باغانِ عِلم و ہُنر دیکھتا ہُوں
یہی اِک مُطالعہ کا ہے فیض عُشّاقؔ
سخن کا میں شمس و قمر دیکھتا ہُوں
نوٹ،۱۔ پروفیسر جگن ناتھ آزادؔ،۲۔ روفیسر منشا الرحمن خان منشاؔ
 
عشاقؔ کشتواڑی
  صدر انجمن ترقی اُردو (ہند) شاخ کشتواڑ
فون نمبر9697524469
 
 
’’ بکھرتا وجود‘‘
 
یہ کیسا بے ہنگم آوازوں کا شور ہے
میرے وجود کا ایک ایک ٹکڑا بکھرا پڑا ہے
میرے بدن کا انگ انگ ٹوٹ چکاہے
میرے جسم کی بوٹیاں نوچی گئیں
سوختہ جسم فقط صحرا میں آویزاں خوابوں کا متلاشی
خیالات ہواؤں میں معلق
میں کہاں اور میرا وجودکہاں!
خیالی پلاؤ،پکی پکائی چیزوں کو کھانے کی عادت
ارے یہ سفر کٹھن ہے،گویا منزل بھی سراب
راہ میں کتنے راہبر ملے
جو  روحانیت کے داعی سمجھے جاتے تھے
لیکن درحقیقت خود بے یار و مددگار
بھول بھلیاں،گورکھ دھندا
اس آب و گِل میں سبھی کی سازشیں شامل تھیں
جنہوں نے میرے وجود کو بھون ڈالا
میرے وجود کا لاغر بھوگ پرندوں کی نظر ہوگیا
اُف یہ وجو د  تو  بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکا ہے۔
 
صابر شبیربڈگامی
ریسریچ اسکالرشعبۂ اُردو کشمیر یونیورسٹی