نظمیں

بہ آمدِسال نو

بہ روئے زماں پھر جمال آگیا ہے
نیا سال لے کے سوال آگیا ہے
زمین پھر وہی ہے، وہی پھر زمن ہے
بسا ہر جگہ اب یہاں اہر من ہے
 
وہی دشت و صحرا و کوہ و دمن ہے
گھرا آندھیوں میں یہ اُجڑا چمن ہے
کہ شیشے میں اِس کے یہ بال آگیا ہے
زمانے میں قحط الرجال آگیا ہے
مسلط ہر اک سمت دردِ کہن ہے
اُجاڑے ہے انساں چمن پہ چمن ہے
 
فلسطین و لبنان، ویراں یمن ہے
گلاب اور نرگس نہ ہی یا سمن ہے
یہ کیا درد بن کر مثال آگیا ہے
ہر اِک شے کو دیکھو زوال آگیا ہے
کہیں پر نہ آدم کوئی خوش بصر ہے
مگر شور اس کا بڑا بحرو بر ہے
 
ہے کج سوچ اسکی بڑا کم نظر ہے
کہ انساں ہی انساں بہت معتبر ہے
میسر اسے کیا کمال آگیا ہے
کرامت لئے بے مثال آگیا ہے
ابھی لوگ کچھ کچھ ہیں تابش سخن یاں
انہی سے ہیں قائم زمین و زمن یاں
 
دلوں کو ہیں گرماتے مثلِِ کہن یاں
گواہ جسکے سرسبز سروسمن یاں
کہ وار فتہ صورت اب حال آگیا ہے
کمالِ غضب ہے، کمال آگیا ہے
نیا سال ربّا ہمیں شاد کردے!
قبولِ شرف میری فریاد کردے
 
ہیں اُجڑے چمن، اِن کو آباد کردے
فنا یہ ستم ہائے بیداد کردے
تیرے در پہ عُشاقؔ بے حال آگیا ہے
لئے بس کرم کا سوال آگیا ہے
 
عشاق کشتواڑی
صدر انجمن ترقی اْردو (ہند) شاخ کشتواڑ
فون نمبر9697524469
 
 

گیتل

٭
بِیت گیا یہ سال بھی آخر پردیسی نا آئے
میں تھی آس لگائے
جب بھی رُت سردی کی آئی اُن کا رستہ دیکھا
اپنی چِتا جلائے
رنگ بسنتی ساتھ لِئے جب رُت مستانی آئی
سپنے کیا کیا آئے
پت جھڑ کے پاگل جھونکوں نے میرا رستہ روکا
گہرے شام کے سائے
آگ اُگلتا گرمی کا سُورج تھا سَر پر میرے
دُور بہت تھے سائے
اُمڑ اُمڑ جب رِم جھِم برسی برکھا رُت مستانی
تَن مَن تھے مُرجھائے
ساون میں جب پُروائی نے گیت مِلن کا گایا
ہونٹوں پر تھی ہائے
فصلِ گُل کا دھانی دھانی منظر جب بھی دیکھا
آنکھوں میں آنسو آئے
سال نیا آنے والا ہے وہ آئیں نا آئیں
سوچ کے دِل گھبرائے
پردیسی جَیرا جپُوریؔ آئیں گے جانے کب تک
میں ہُوں آس لگائے
 
نیاز جَیراجپُوریؔ
  ۶۷؍ جالندھری ، اعظم گڑھ ۔ ۲۷۶۰۰۱  ( یُو۔پی۔) 
 موبائل نمبر؛0091 9935751213/9616747576
 
 

سالِ رفتہ

ابھی کا سالِ رفتہ بھی
گذشتہ کئی برس کی طرح
لمحہ لمحہ، ساعت ساعت
آہستہ خرامی سے
زندگی کی شاہراہ پر
یوں گذرا کہ
قدم قدم پر حدِ نظر تک
خون خرابہ، قتل و غارت
ظلم و تشدد، قید و حراست
پکڑ، دھکڑ، چھینا، جھپٹی
مارا ماری، پھانسی پھندا
دھوکہ، چکمہ، چھل، کپٹ
جھوٹ، موٗٹ، دغا، فریب
رشوت خوری، گھپلہ، گھوٹالہ
بھوک سونامی، پیاس قیامت
گولی بارود، بم دھماکہ
اغوا کاری، گمشدگیاں
لاوارث لاشوں کے پشتے
دولت اور حکومت نشہ
اکڑ، رُعب، داب رعونت
کرسی قضیہ، وزارت جھگڑا
سر اُٹھاتے، اُگتے، پڑھتے
بدبو کے بھبھکے پھیلاتے
صاف فضا کو گندہ کرتے
لمحہ لمحہ گھبرا جاتا
پیچھے مُڑ کر ذرا نہ دیکھا
جاں لیوا یادوں کا ریلا
چھوڑ کے نکلا
تاریکی میں
سر پیٹے اور نوچے چہرہ
ہچکیاں بھر بھر کے روئے
اس شاہراہ کے بھوت کے ڈر سے
تھر تھر کانپے 
آخری ہچکی پر چلّائے 
توبہ! توبہ! توبہ!توبہ!
 
محمد یوسف مشہورؔ
فون نمبر9906624123