نظمیں

دسمبر پھر آئیگا!

دسمبر تو گیاہے اَور
دسمبر پھر سے آئے گا
کسے معلوم ہے لیکن
پرندے آج ہیںموجود جواِس جھنڈ میں
اَگلے دسمبر میں بھی سب ہوں گے
دسمبر پھر سے آئے گا
مگر کِس کو یقیں ہے اِس دسمبر میں
ہوائوں نے تِرے آنچل کو چھو کر
کی ہیں جو سرگوشیاں مُجھ سے
وہ تیرے قرب کی خوشبو لیے
آئیں گی پھر سے 
ہر دسمبر میں
تجھے سمجھائوں کیسے؟
اَور ہاں، تُجھ کو
نئے آراستہ رَستے نئے موسم مُبارک ہوں
دسمبر سے دسمبر تک کی
اِک اِک رُت مُبارک ہو!
 
محمد تسلیم مُنتظِرؔ
محلہ دَلپتیاں، جموں۔ 
موبائل نمبر؛9906082989
 
 

دورِ حاضر

جھوٹ بدچلنی و رشوت کا گرم بازار ہے
بُغض و بدخواہی حسد اب عقل کا معیار ہے
جیت اب اُس کی ہے جو چالاک اور مکّار ہے
آج نالائق وہی ہے جو دیانتدار ہے
اب کمالِ مملکت مہلک ترین ہتھیار ہے
اور دغابازی سیاست کا بڑا معیار ہے
واہ ایٹم بم بھی کیسا سائنس کا شہکار ہے
ایٹمی میزائلوں کی اب ہر طرف بھرمار ہے
جھوٹ کے وعدوں پہ بنتی ہر کوئی سرکار ہے
قوم کو اُلّو بناتی جو سرِ بازار ہے
اب فحش کاری پہ عاشق تو بڑا سرشار ہے
باپ، شوہر، بھائی بیٹا بھی کہاں بیزار ہے
ذہنِ انسانی ہے یا ابلیس کا دربار ہے
جس کو نیکی کا تصور باعثِ آزار ہے
 
بشیر احمد بشیرؔ (ابن نشاطؔ)کشتواڑی
موبائل نمبر؛7006606571