نظمیں

اُن بزرگوں کے نام جو کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں
صدائے شام

اپنوں کی بات کرتے ہو
کس جہاں میں رہتے ہو
رہزنوں سے اب کیسا خوف
رہبروں سے اب تم ڈرتے ہو
تنکا تنکا جوڑ کے گھر بنایا
تل تل کے اب گھر میں مرتے ہو
یہ جینا تیرا جینا کیسا
شکوہ یہ اپنے سے کرتے ہو
بھنور میں ہے ڈوبی نائو تمہاری
موجوں کے تھپیڑ ے سہتے ہو
یہ جینا تیر ا جینا کیسا
زندگی سے تنگ آ تے ہو
سکون ِ دل کی تلاس میں تم
یوں بھٹکتے رہتے پھرتے ہو
آئینے میں تم اپنا چہرہ
دیکھ کر کتنا شرماتے ہو
سلگتی آگ ہے سینے میں
آنسوئوں سے اب بجھاتے ہو
مرنے سے اب ڈرنا کیسا
گھائو بدن کے سیتے ہو
تیری کرنی تیرے کام نہ آئی
زہر کے گھونٹ تم پیتے ہو
تُند ہوائوں کے جھونکوں میں
پتّوں کی طرح گرتے لہراتے ہو
بدلے زمانے کے یہ تیورنرالے
تنہاؔ کس کس کو سمجھاتے ہو

قاضی عبدالرشید تنہاؔ
روزلین کالونی چھانہ پورہ
سرینگر، کشمیر
موبائل نمبر؛9596200290

’’دچھن‘‘
چلوسیر اک میں کرا لوں چمن کی
جدا تر ہے کیا آب اور گِل چمن کی

بنایا ہے جس نے اسے فرصتوں سے
نوازا اُسی نے کئی نعمتوں سے
سخاوت پہ اس کی مثالیں جہاں میں
بچایا اُسی نے اِسے نفرتوں سے
ہواؤں میں ہے مہک اُس کی پُھبن کی
چلو سیر اک میں کرا لوں چمن کی

گزرتا ہے آنگن سے دریا کا پانی
وہ سر سبز وادی وہ نیلی جوانی
گھنیرے وہ جنگل ضیا، کی روانی
ہے بکھرا کےزلفیں وہ دلہن دیوانی
بیاں کیا ہو تعریف اس گل بدن کی
چلو سیر اک میں کرالوں چمن کی

محبّت نے سینچا ہے کھیتوں کو اس کی
اُگاتا ہے دامن جڑی بوٹی جس کی
نہیں ہے روایت یہاں خارو خس کی
طبیعت جدا ہے ہراک متنفس کی
پیاری بہت ہے کہانی ’’دچھن‘‘ کی
چلو سیر اک میں کرا لوں چمن کی

فلک سے ٹپکتے وہ جھرنے سہانے
اُترتے ہی چشمہ ،مٹے روگ پرانے
نکلتے زمیں سے یہاں پر خزانے
کہاں اب ملیں گے یہ قصّے سہانے
نہیں بھو لی پروازؔ یادیں ’’دچھن‘‘ کی
چلو سیر اک میں کرالوں چمن کی

جگدیش ٹھاکر پروازؔ
ساکنہ لوپارہ چھن ضلع کشتواڑ
موبائل نمبر؛9596644568