نظرِ بد کی حقیقت اور اُس کا علاج قرآن و حدیث کی روشنی میں !

مولانا کامران اجمل

اللہ تعالیٰ نے انسانی نگاہوں میں خصوصی تاثیر رکھی ہے ، یہی نگاہیں کبھی انسان کے لیے اجر وثواب کا باعث اور کبھی اس کے گناہ کا باعث بنتی ہیں ، کبھی یہ نگاہیں تقدیریں بدل دیا کرتی ہیں ، کبھی انہی کی وجہ سے انسان کو شدید نقصان پہنچ جایا کرتا ہے، کبھی انہی کی وجہ سے برے سے برے لوگ بھی اچھے بن جایا کرتے ہیں، پھر کبھی یہ نگاہ شریعتِ مطہرہ میں مطلوب ہوتی ہے، کبھی یہ نگاہ مذموم وممنوع ہوتی ہے ،کبھی یہ نگاہیں غم کی وجہ سے بصارت سے محروم ہوجایا کرتی ہیں ،کبھی خوشی کی وجہ سے نگاہ ِبے بصر بصارت والی بن جایا کرتی ہیں ، کبھی یہ نگاہ دل کو اسیر کرتی ہیں ، کبھی خوفِ خداوندی کی وجہ سےآنکھوں سے آنسو چھلک جانے سے یہ دل کو لذتِ عبادت سے سیر کرتی ہیں۔
پھر انسانی نگاہوں کا اس کے دلی تاثرات کی بنیاد پر بھی معاملہ مختلف ہوتا ہے ، کبھی تو دلی حسد کی وجہ سے مضر ہوتی ہیں ، کبھی دلی حسرت کی وجہ سے نقصان دہ بن جایا کرتی ہیں ، پھر کبھی رشک کی نظر سے دیکھ کر اپنے دل کو گل وگلزار کرتی ہیں ،تو کبھی غیض وغضب کے باعث آگ سے سرخ انگارہ ہوتی ہیں، پھر انہی نگاہوں کو کبھی نعمتِ خداوندی پر برا اثر کرنے کی وجہ سے ’’نظر بد ‘‘کہا جاتا ہے ،کبھی نامحرم پر مرکوز ومرتکز کرنے کی وجہ سے اسے ’’بد نظری ‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے، کبھی یہی نظر گھر بیٹھے حج وعمرہ کے ثواب کا باعث بن جایا کرتی ہے، تو کبھی مسجد میں بیٹھ کر بھی کسی کی غیبت کا باعث بن جایا کرتی ہیں، غرض نگاہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے انسان کو عطا کردہ وہ نعمت ہے کہ اگر اسے صحیح طور پر استعمال کیا جائے تو یہ باعث اجر وثواب اور باعث خیر وبرکت ہوتی ہے اور اگر اسے صحیح استعمال نہ کیا جائے تو یہ نگاہیں انسان کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتیں ۔قرآن کریم نے بھی انسانی نگاہوں کے نقصانات کو ذکر فرمایا ہے ، سورۂ قلم میں ارشاد فرمایا گیا : بے شک ،وہ لوگ جنہوں نے کفر اختیار کیا ،قریب ہے کہ وہ لوگ آپ کو اپنی نظروں سے ڈگمگا دیں ‘‘۔
احادیثِ مبارکہ میں تو اس سلسلے میں بہت ہی واضح ہدایات موجود ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’نظر کا لگ جانا حق ہے ‘‘۔ (صحیح بخاری، کتاب الطب، باب العین حق ) ایک جگہ فرمایا ’’ نظر کا لگ جانا حق ہے ،اگر کوئی چیز تقدیر سے آگے بڑھ سکتی تو وہ نظر ہوتی‘‘۔(صحیح مسلم ، باب الطب والمرضی :۴؍۱۷۱۹) اور ایک روایت میں تو یہ بھی فرمایا :’’ نظر انسان کو قبر تک اور اونٹ کو ہانڈی تک پہنچا دیتی ہے ‘‘۔(حلیۃ الاولیاء وطبقات الاصفیاء : ۷؍۹۰) ایک روایت میں اس کا بھی بیان ہے ’’ اس امت میں اموات تقدیر کے بعد سب سے زیادہ نظر کی وجہ سے ہوں گی ‘‘۔(کشف الاستار عن زوائد البزار،کتاب الطب، باب ماجاء فی العین :۳؍۴۰۳)
مفسرین نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اعلان نبوت کے بعد کفار نے باقاعدہ ایسے لوگوں کی خدمات حاصل کیں جو نظر لگانے میں مشہور تھے، تاکہ وہ نظر لگا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روک دیں یا نقصان پہنچائیں ، اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو اس سے محفوظ فرمایا اور قرآن کریم میں اسے ذکر فرمایا۔(تفسیر ثعالبی ، سورۃ القلم )
نظر بد کی سائنسی وجوہات :۔دورِ جدید میں خود کو تعلیم یافتہ سمجھ کر مطالعہ اور تاریخ پڑھنے سے دور رہنے والاایک طبقہ نظر بد کو توہمات میں شمار کرتا ہے اور ایسی باتوں کو فرسودہ روایات کی باقیات گردانتا ہے ، ان کا خیال ہے کہ نظر بد جیسی کسی چیز کا وجود نہیں ہے، اسی طرح بعض لوگ جنات کا بھی انکار کرجاتے ہیں، یہ بات کسی حد تک مفید وکارآمد ضرور ہوسکتی ہے (کہ اس کے ذریعے وہم میں مبتلا لوگوں کا علاج کیا جاسکے ) لیکن درست کسی بھی صورت میں نہیں ہوسکتی، کیونکہ جن چیزوں کا قرآن وسنت میں ذکر موجود ہو، ہماری عقل نارسا صدیوں بعد اس کے کسی پا سنگ تک پہنچ پاتی ہے، جس پر صدیوں بعد کوئی روشنی پڑتی ہے اور ہم اس پر نہ صرف بغلیں بجاتے ہیں، بلکہ اس کی بنیاد پر ہم دنیا میں ان کی سائنسی تحقیقات کا پرچار بھی کر رہے ہوتے ہیں ، حالانکہ ان باتوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے فرامین میں صدیوں پہلے ذکر کیا ہوتا ہے۔
کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن تک ابھی سائنس نہیں پہنچی ،لیکن اس کا وجود بھی ہے اور احادیث ِمبارکہ میں اس کا تذکرہ بھی ہے ،اس لیے ان کا ذکر کرنا اور اس کے متعلق تعلیماتِ نبویؐ کو دیکھنا لازمی ہے ، چاہے سائنس اس کا انکار کرے یا اس کے کسی ادنیٰ سے حصے تک پہنچ چکی ہو ، انہی چیزوں میں سے ایک چیز نظر بد ہے ،جس کا اب بھی بہت سے لوگ انکار کرتے ہیں ، تعلیماتِ نبویؐ سے ناواقفیت ہو اور سائنس سے واقفیت ہو اور پھر بھی انکار کرے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مطالعہ سے دور ہے۔ خیر ان باتوں سے قطع نظر کہ دور جدید کے کم مطالعہ لوگ انکار کرتے ہیں یا اقرار، نظر بد پر یقین، کسی نہ کسی شکل میں دنیا کے غالب حصے کے لوگوں میں پایا جاتا رہا ہے، ترقی یافتہ ممالک سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں آج بھی نظر بد کے منفی اثرات کو ماننے والوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے ، اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بعض ٹوٹکوں کے آزمانے سے متاثرہ شخص یا شئے میں مثبت تبدیلی بھی دیکھی گئی ہے۔
بلکہ اب تو سائنسی ماہرین بھی اس کا انکار نہیں کر پارہے ہیں ،وہ اس کا اعتراف بھی کرتے ہیں اور اس کی وجوہات بھی بیان کرتے ہیں ، ماہرین کے مطابق ہر انسان کی آنکھ سے غیر مرئی لہریں نکلتی ہیں ، جن میںEmotional Energy ایموشنل انرجی کی بجلی بھری ہوئی ہوتی ہے۔ یہ بجلی جلدی مسامات کے ذریعے جسم میں جذب ہو کر جسم کی تعمیر یا تنزلی کا باعث بنتی ہے۔ اگر ایموشنل انرجی کی بجلی یا لہریں مثبت ہوں تو اس سے انسان کو نفع پہنچتا ہے اور اگر یہ لہریں منفی ہوں تو مسلسل نقصان ہوتا ہے۔
اب بد نظر شخص کی آنکھ سے نکلنے والی لہریں دراصل منفی ہوتی ہیں اور ان کے اندر اتنی قوت ہوتی ہے کہ وہ جسم کے نظام کو درہم برہم کر دیتی ہیں۔ ایک بد نظر شخص نے حسین چہرے کو دیکھ کر اپنی غیر مرئی لہریں چھوڑیں تو دوسرے شخص کا چہرہ سیاہ ہوگیا تو اس بدنظری کی لہروں نے اس کے خون میں میلاننMelanin کو زیادہ کر دیا جس سے جلد کی رنگت سیاہ ہوگئی۔ (سنت نبویہ اور جدید سائنس ،ص : ۲۶۸)
دنیا کی مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں میں نظر بد کا تصوّر :۔دنیا کی بہت سی تہذیبوں اور ثقافتوں میں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ اگر کسی شخص کو کوئی حسد یا نفرت کی نظر سے دیکھے تو پہلے شخص پر اس کے منفی اثرات پڑ سکتے ہیں، اس عمل کو نظر لگنا کہتے ہیں ، روایتی مشرقی معاشروں کے ساتھ ساتھ نظرِ بد کا تصور ترقی یافتہ سمجھی جانے والی اقوام اور مغربی معاشروں میں بھی موجود ہے اور اس کے علاج کے لیے الگ الگ ثقافتوں میں کئی طریقے اپنائے جاتے ہیں۔
ہندوستان اور پاکستان کے علاوہ ترکی میں نظرِ بد کو ‘‘نظر’’ ہی کہا جاتا ہے۔ جبکہ ہندی زبان میں نظر بد کو درِشٹی دوش کہا جاتا ہے اور نظر اُتارنے کے طریقوں کو نظربَٹّو Nazar Battu کہا جاتا ہے ۔ عرب خطہ میں نظر بدکو العین اور عين الحسود کہا جاتا ہے ، جبکہ ایران میں چشمِ زخم و چشمِ شُور اور افغانستان میں اسے چشم مورا کہتے ہیں، اور ہوائی میں اسے ماکاپلاؤ(سڑی ہوئی نظر)کہا جاتا ہے۔ ایتھوپیا، سوڈان، تنزانیہ اور مراکش سمیت شمالی افریقہ کے کئی ممالک میں نظرِ بد کو بَوداBuda کہا جاتا ہے۔ یونان میں نظرِ بد کو ماٹیسما،عبرانی میں عین الحارّہ ، کردش میں جاؤِزر، اطالوی میں مالوکیو، ہسپانوی میں مالدی اوہو، پرتگالی میں ملولدواور انگریزی میں اسے اِیول آئی(Evil Eye) کہا جاتا ہے۔ تمام یورپی زبانوں میں مختلف ناموں کا ایک ہی مطلب ہے بُری یا شیطانی نظر۔(روحانی ڈائجسٹ ، نظر بند ، عقل حیران ہے سائنس خاموش ہے ، مارچ ۲۰۲۲)
نظرِبد کی اقسام:۔ نظر بد کی، نظر لگانے والے کے اعتبار سے کئی قسمیں ہیں ۔(۱) وہ نظر بد جو نظر لگانے والا قصدا لگائے، یعنی اسے معلوم ہو کہ اس کی نظر لگتی ہے اور وہ قصداً وارادۃ ًکسی کو نظر لگائے، یہ تو خطرناک بھی ہے اور معاشرے کے لیے ناسور بھی ،(۲)دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو قصداً نظر تو نہیں لگاتے ،لیکن ان کی نگاہوں میں نظر لگانے کی تاثیر ہوتی ہے ،چاہے وہ حسد کی وجہ سے ہو ، یا کسی نعمت پر اکڑ کی وجہ سے ہو یا مسلسل نعمت سے محرومی کی وجہ سے حرص کی بیماری میں مبتلا ہوگئے ہوں ، ان کی نظر لگ جاتی ہے اور یہ لوگ عام طور پر اپنے قریبی لوگوں کو نقصان پہنچاتے ہیں (۳)وہ لوگ جن کی نظر لگ جاتی ہے ،لیکن انہیں خود معلوم نہیں ہوتا کہ ان کی نظر لگی ہے یا انہیں یہ معلوم تو ہوتا ہے کہ ان کی نظر لگ رہی ہے کہ وہ کسی سے حسد وغیرہ نہیں رکھتے اور نہ ہی کسی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں بلکہ مستقل ڈرتے ہیں کہ کسی کو نقصان نہ پہنچے۔
نظرِ بد لگانے والے افراد :۔نظر جس طرح سے انسانوں کی لگتی ہے ، اسی طرح جنات کی نظر بھی لگ جا یا کرتی ہے اور بسا اوقات شرارت کرنے والے، جنات کو مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر اس کی وجہ سے نظر لگتی ہے ۔
نظر لگنے کی وجوہات: ۱۔حسد،۲۔تعجب : تعجب کی نظر ماں باپ کی بھی لگ جاتی ہے ، اگر وہ دعا نہ دیں تو نظر کا شکار ہوجاتے ہیں،۳۔ بے انتہاء حرص: جب انسان میں بے انتہاء حرص پیدا ہوجائے تو کبھی کبھار اس کی نگاہوں میں وہ تاثیر پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ کسی چیز کو بجائے حسد کے صرف رشک کی نگاہ سے بھی دیکھے تو صاحب نعمت کو نقصان پہنچ ہی جاتا ہے۔
نظرِ بد کی علامات :۔ نظر بد کی علامات مختلف ہیں ، کچھ کا تذکرہ احادیث مبارکہ میں موجود ہے اور کچھ علماء یا عاملین حضرات نے ذکر کی ہیں ،کچھ علامتیں ایسی ہیں جو پرانے بزرگوں یا گاؤں دیہات کے ماہرین کے تجربےکی چیزیں ہیں ۔ ذیل میں نظر بد کی چند علامات ذکر کی جاتی ہیں ، جن سے اس بات کا علم ہوسکے کہ انسان پر نظر ہے یا نہیں ؟ یہ علامات قرآن وسنت میں نصوص کے طور پر موجود نہیں ہیں ، اس لیے یہ ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ یہ یقینی بات نہیں ہے ،البتہ ان میں سے پائی جانے والی کئی علامتیں تجربے سے ثابت ہے کہ نظر بد ہی کی ہیں ، اس بات کو ملحوظ رکھتے ہوئےملاحظہ فرمائیں :
٭ درد کا آنکھوں اور کن پٹیوں سے شروع ہوکر سر کی جانب پھیلنا اور پھر کندھوں سے اترتے ہوئے ہاتھ پاؤں کے کناروں میں پھیل جانا٭جسم میں سرخ نیلے دانوں دھبوں کا نکلنا ٭بکثرت پیشاب کا آنا٭ بہت زیادہ پسینے کا آنا ،خصوصاً ماتھے اور کمر پر٭دل کی دھڑکن کا کم یا زیادہ ہونا دل کا ڈوبتا ہوا محسوس ہونا٭چہرے کا زردی مائل ہونا٭نماز ،تلاوت، دم کے دوران بکثرت جمائی کا آنا اور آنسوؤں کا بہنا٭پڑھائی ،کام سے دل کا اچاٹ ہوجانا اور بے توجہی رہنا ٭مسلسل تھوک کا بہنا جھاک کی مانند یا سفید بلغم ٭سوتے میں آنکھیں دیکھنا یا کسی کو اپنی طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھنا٭جسم میں خارش اور چیونٹیاں رینگتی محسوس کرنا٭آنکھوں کا شدت سے پھڑپھڑانا ٭ہاتھ اور پاؤں کے کناروں میں سوئیاں چبھنا اورٹھنڈا رہنا٭ چہرے پر نشانات پڑنا٭ حالات و واقعات اچانک بدل جانا٭شادی کے فوراً بعد لڑائی ہو گئی یا بیماری آگئی٭ عام حالات میں آنکھوں سے پانی آنا٭ عام اوقات میں جمائیاں آنا٭ بے چینی بے قراری رہنا٭اکیلا پن محسوس کرنا٭چڑچڑاپن پیدا ہونا٭ اچانک طغیانی آجانا ، زندگی میں اچانک طغیانی کا آنا٭ بے چینی محسوس کرنا٭ اچانک چکر محسوس کرنا٭نیند میں اچانک جھٹکے لگنا٭بار بار بیمار ہونا٭اچانک سانس کی تکلیف ہونا۔ یہ اور اس قسم کی مختلف علاقوں میں مختلف علامات سے نظر بد کو سمجھا جاتا ہوگا ، کیونکہ نظر بد بہت قدیم نظریہ ہے ، جس میں اگرچہ بعض لوگوں نے اس قدر غلو کر دیا ہے کہ اب وہ ہر چیز میں نظر بد ہی کومؤثر سمجھتے ہیں ۔ یہ نظریہ غلط ہے کہ ہر کام میں رکاوٹ کا سبب نظر بد ہوتا ہے ،بلکہ اور بھی اسباب ہیں رکاوٹوں کے پیدا ہونے کے لیے ان چیزوں کو بھی دیکھنا چاہیے کہ اس رکاوٹ اور اس بیماری کی اور کیا وجوہات ہیں ، تاہم اگر نظر بد کے بارے میں معلوم ہوجائے تو اس کا فوری علاج کرنا یا کروانا چاہیے ،کیونکہ بعض عاملین کے نزدیک نظر بد کی تاثیر جادو سے زیادہ ہوتی ہے۔ اسی لیے وہ روایت بھی ذکر کی جاتی ہے جس میں اس بات کا بیان ہے کہ نظر انسان کو قبر اور اونٹ کو ہانڈی تک پہنچا دیتی ہے ، اس کے علاج مختلف ہیں جنہیں آگے ذکر کیا جائے گا۔ ۔۔۔ (جاری ہے)