نظربندی کیخلاف سپریم کورٹ میں میاں قیوم کی عرضی

نئی دہلی//عدالت عظمیٰ نے بدھ کو جموں کشمیر انتظامیہ سے وضاحت طلب کی کہ جموں کشمیرہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کے صدر میاں قیوم کی نظر بندی  کی کیا وجوہات ہیںجس نے پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گزشتہ برس7اگست سے اپنی نظر بندی کوچیلنج کیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اُسے میاں قیوم کی عمر ،نظر بندی کے معیاد کااختتام اور کووِڈ- 19عالمگیر وباء پرغور کرنے کوکہا۔جسٹس سنجے کشن کول اوراندوملہوترہ نے معاملے کی اگلی سماعت 23جولائی مقرر کی جب جموں کشمیر انتظامیہ کی طرف سے معاملے کی پیروی کررہے سالسٹرجنرل تشارمہتہ نے مختلف پہلوئوں پرغور کرنے کیلئے دس دن کی مہلت طلب کی۔بنچ نے کہا کہ ہم جانناچاہتے ہیں کہ کس بنیاد پر(جموں کشمیرانتظامیہ ) آپ اُنہیں  دہلی کی تہار جیل میںنظر بندرکھنا چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ حکم کے مطابق اُن کی نظر بندی کی معیاد پہلے ہی ختم ہوچکی ہے ۔اس پر تشار مہتہ نے کہا انہوں نے عرضی کی نقل موصول نہیں کی ہے اور اس  کا جواب دینے کیلئے انہوں نے مہلت طلب کی ۔میاں قیوم کی طرف سے کیس کی پیروی کررہے ایڈوکیٹ دشیانت دیوے نے کہا کہ ان کی نظر بندی کا حکم محدودوقت ، ایک برس کیلئے تھا۔بنچ نے کہا کہ یہ وجہ تھی کہ اُس نے گزشتہ سماعت کے دوران عرضی پر نوٹس جاری کی تھی۔دیوے نے کہا کہ وہ سمجھ سکتے ہیں کہ سالسٹر جنرل کیوں بے چین ہیں اورشکایت کی کہ معاملے کو عدالت کی ہدایات کے باوجود فہرست میں نہیں رکھاگیاتھا۔جسٹس کول نے مہتہ کو بتایا کہ اُن کی نظر بندی کی معیادختم ہوئی ہے اوران کا نظریہ بھی تبدیل نہیں ہواہے۔دیوے نے کہا کہ قیوم کی عمر73برس ہے اوراُسے تہارجیل میں نہیں رکھا جاناچاہیے ۔بنچ نے مہتہ کو بتایا کہ کووِڈ- 19کی موجودہ حالات میں کیا آپ اس عرضی کو التواء میں رکھنا چاہیے گے۔مہتہ نے جواب دیا کہ قیوم کے نظریات وہی ہیں ۔بنچ نے کہا کہ وہ تمام معاملوں کو سمجھ رہا ہے لیکن کبھی کبھی مجبوریوں کو پورا کرنا پڑتا ہے ۔بنچ نے مہتہ کوبتایا کہ وہ اگلی سماعت پرقیوم کی عمر،معیادنظر بندی کے اختتام اور کووِڈ- 19کی صورتحال کومدنظر رکھیں۔26جون کو عدالت عظمیٰ نے جموں کشمیر انتظامیہ کو نوٹس جاری کی تھی اورقیوم کی نظر بندی کوچیلنج کرنے والی عرضی پرجواب طلب کیاتھا۔قیوم نے اپنی عرضی میں اُسے تہارجیل سے سری نگر سینٹرل جیل منتقل کرنے کیلئے ہدایات جاری کرنے کی درخواست کی تھی۔