نظربندوں کی حالت زار پرگیلانی کوتشویش

سرینگر//حریت (گ)چیرمین سید علی گیلانی نے ریاست اور ریاست سے باہر جیل خانوں میں نظربندوں کی حالتِ زار پر گہری تشویش اور فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی طرف سے حریت پسند سیاسی نظربندوں کو انتقام گیری کا نشانہ بنانا اقوامِ متحدہ کے تسلیم شدہ انسانی حقوق چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کو ایک سیاسی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کس قدر ایک المیہ ہے کہ پوری دنیا میں حقِ خودارادیت کو ایک پُرامن اور جمہوری فارمولہ تسلیم کیا گیا ہے، لیکن ریاست جموں کشمیر کے عوام کو اس بنیادی حق سے محروم کرتے ہوئے اس کو طاقت کے ذریعے دبائے جانے کے مذموم ہتھکنڈے استعمال میں لائے جارہے ہیں۔گیلانی ے جامع مسجد سرینگر کے گردونواح میں رمضان المبارک کے پہلے جمعہ کے روز عین نماز کے وقت عوام بالخصوص اور نوجوانوں پر طاقت کا بے تحاشا استعمال کرکے انہیں مضروب اور پولیس تھانوں میں گرفتار کرکے لے جانے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان استبدادی حربوں سے یہاں کی نوجوان نسل کو پشت بہ دیوار کرنا سنگین نتائج کا غماز ہوسکتا ہے۔ انہوں نے جملہ اسیران  کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں بھی ان قیدیوں کے ساتھ جیل حکام کی طرف سے کوئی نرمی نہیں برتی جاتی ہے۔ انہیں بیت الخلاء جیسی تنگ وتاریک سیلوں میں مقید کرکے اسی حالت میں نماز، روزہ اور دوسری عبادات انجام دینے کے لیے مجبور کیا جارہا ہے۔ انہیں ناقص اور قلیل مقدار میں غذائی اجناس فراہم کی جارہی ہیں جس وجہ سے ان کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔انہیں مدّت دراز تک مکمل لاک اپ میں ایام اسیری گزارنے پر مجبور کیا جارہا ہے اور ان سے ملاقات کے لیے آنے والے رشتہ داروں کو مناسب وقت فراہم نہیں کیا جارہا ہے، یہاں تک کہ ان کے علاج ومعالجے کی طرف خواطر خواہ توجہ نہیں دی جارہی ہے۔