نظام تعلیم کی ہمہ گیریت

پیغمبر انسانیت  ﷺبے شمار صفات کی حامل شخصیت تھی۔ آپ ﷺ بیک وقت پیغمبر آخر الزماں ، عظیم سیاست داں ، مدبر ، مصلح ، مبلغ اور سب سے بڑھ کر معلم انسانیت تھے ۔ معلم کی صفت ان کے سبھی صفات پر غالب تھی ۔ آپ ﷺنے اپنی معلمانہ حیثیت یہ کہہ کر ظاہر کردی کہ ’’انما انا بعثت معلما ‘‘ کہ میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہو ں ۔ علم کی اہمیت اور افادیت پر جتنا زور اللہ کے رسول ﷺ نے دیا کسی اور نبی و رسول یا مصلح نے نہیں دیا ۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کے فرائض منصبی کے ضمن میں تعلیم کتاب اللہ ، حکمت اور تزکیہ نفوس کو نمایاں طور پر عائد کیا ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ احادیث کے پورے ذخیرے میں ایک بڑاحصہ علم و تعلیم پر مشتمل ہے ۔ صحاح ستہ اور اس کے علاوہ جتنے احادیث کے مجموعے ہیں ان میں اکثر علم کے باب کو مقدم رکھا گیا ہے ۔
  نبوت سے قبل علم و تعلیم کی حالت :
ساتویں صدی عیسویں میں اللہ کے رسول ﷺ نے زبردست تعلیمی انقلاب برپا کیاجس نے ہمہ گیر نقوش چھو ڑے ہیں وہ بھی ان حالات میں جب نوع انسانیت پر پستی و زوال عروج پر تھی ۔تعلیم و تربیت کا کوئی نظام نہیںتھا اور نہ ہی حکمت و معارف کا کوئی سراغ نہیں ملتا تھا ۔علم و آگہی کا دور دور تک شائبہ بھی نہیں تھا اور صرف جہالت کا دور دورہ تھا ۔ نظام فکرو عمل درہم برہم ہوچکا تھا ۔حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے جزیرے نما عرب میں جس فکر وعمل اور پیغام حق کی بنیاد رکھی تھی ، لوگ اس پیغام حق کو ہر اعتبار سے بھول چکے تھے ۔ معاشرے کی فکری ، اخلاقی اور روحانی قدریںدم توڑچکی تھیں ۔ انسانیت کے پاس اضطراب ، بے چینی ،فساد ، جرائم اور ظلم و جبرکے سوا کچھ باقی نہ بچا تھا ۔ ناخواندگی کی حالت یہ تھی کہ عرب میں اس وقت صرف ۱۷ لوگ لکھنا پڑھنا جانتے تھے ۔اس دور جہالت کا تذکرہ کرتے ہوئے معروف سیرت نگار قاضی سلیمان منصور پوری لکھتے ہیں : ’’ عرب نوشت و خواند سے مبرا و معرا تھا ، اور اسے اپنی اس حالت پر ناز بھی تھا ؛ لیکن یہودیوں اور عیسائیوں میں بھی تعلیم کا نام و نشان نہ تھا ، جو تعلیم پادریوں میں پائی جاتی تھی ، وہ صرف بائبل کے حروف سیکھنے تک محدود تھی ،اس کے ساتھ ترجمہ و تفسیر نہیں شامل تھے ،یا ان بے سروپا داستانوں کو علم کا درجہ دے دیا گیا تھا ؛جو یہودیوں میں کبھی بطور ناول لکھی گئی تھیں ، اور پھر ان کادرجہ وحی کے برابر تسلیم کیا گیا تھا ، ہندوستان میں شریمد بھاگوت اور پرانوں کی حکومت تھی ، بہت زیادہ ترقی کی صورت میں رامائن اور مہابھارت کے قصے منتہائے علم سمجھے جاتے تھے ،یہی حال چین و ایران کا تھا ، یورپ بالکل جہالت کدہ تھا ‘‘( رحمۃ للعالمین ۳ ص: ۴۰۲) ان حالات میں اللہ کے رسولﷺ نے تعلیمی میدان میں ایک زبردست کردار ادا کیا اور اس جہالت اور ناخواندگی کے خلاف اعلان جنگ کر کے زبردست تعلیم و تربیت کا کام کیا ۔
   تعلیم وتربیت کا اولین مرکز:
         اللہ کے رسول ﷺ نے مدینہ پہنچ کر سب سے پہلا کام جو کیا وہ مسجد کی تعمیر ہے ۔ آپ ﷺ نے تعلیم وتربیت کا آغاز مسجد سے کیا کیوں کہ مسجد ہر فرد تک بات پہنچانے کا آسان ذریعہ تھا۔ اللہ کے رسول ﷺ نے مسجد کو زبردست اہمیت دی اوراس کو ا شاعت علم اور دعوت دین کا مرکز بھی بنایا۔اس مسجد میں درسگاہ کی بنیاد بھی رکھی گئی جس کو عربی میں صفہ کہا جاتا ہے ۔ ڈاکٹر نصیر الدین ناصر کے مطابق ’’یہ ایک کھلی اقامتی (Residental University ( تھی جس میں ہر چھوٹا بڑا تعلیم حاصل کر سکتا تھا‘‘ ۔اور اس درسگاہ میں قرآن ، تجوید ،سنت ، فقہ اور کتابت کی تعلیم دی جاتی تھی ۔دار ارقم کے نام سے باضابطہ ایک درسگاہ قائم کیا تھا جہاں مسلمان چھپ چھپ کر جمع ہوتے تھے اور عبادت میں مصروف ہوجاتے تھے ۔)غلام عابد کا کہنا ہے کہ ’’نبی کریم ﷺ پر جب کوئی قرآن مجید کی آیت یا سورہ نازل ہوتی تو وہ یہ آیات طالب درس کو سنایا کرتے تھے ۔ مسجد میں ایک چبوترہ تھا جو لوگ یہاں تعلیم حاصل کرنے کے لیے آتے وہ اصحاب صفہ کہلاتے تھے ان کی تعلیم و تربیت کی نگرانی معلم انسانیت خود فرمایا کرتے تھے ‘‘۔دار ارقم نہ صرف عبادات کا مرکز تھا بلکہ تعلیم و تربیت کا بھی پہلا مرکز تھا ۔اس میں اللہ کے رسول ﷺ نے ایسے نفوس قدسیہ تیار کیے جنھوں نے دعوت و تبلیغ کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے کارنامے انجام دئیے ۔
     آپ ﷺ کا اصل فریضہ نوع انسانیت کو قرآن و حدیث کی تعلیم دینا ، لوگوں کے نفوس کا تزکیہ و تربیت کرنا اور ان کو شرک کی تمام آلود گیوں سے پاک کرنا ہے ۔ جس کو آپ ﷺ نے ۲۳ سالہ دور رنبوت میں بحسن وخوبی ادا کیا ۔نبی کریم ﷺ کے مقاصد بعثت میں سے ایک مقصد لوگوں کو تعلیم و حکمت سے روشناس کرانا بھی ہے۔ قرآن مجید میں آپ ﷺ کو بحیثیت معلم مبعوث کئے جانے کا تذکرہ چار جگہوں پر وارد ہے جن کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو نوع انسانیت کی طرف مبعوث کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ تمہارے لئے ہماری آیات تلاوت کرتے ہیں تمہار ا تزکیہ کرتے ہیں اور تمہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں اور تمہیں وہ کچھ سکھاتے ہیں جو تم نہیں جانتے تھے ۔(ملاحظہ فرمائیں ،سورہ بقرہ،:۱۵۱، سورۃالعمران:۱۶۴، سورۃ الجمعہ: ۲)
 تحصیل علم فرض ہے :
   تحصیل علم ہر مسلمان کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس کو واجب قرار دیا ہے ۔اللہ کے رسول ﷺ نے علم کو ہر مسلمان پر فرض قرار دیتے ہوئے فرمایا :
     ’’ طلب العلم فریضۃ علیٰ کل مسلم ‘‘(ابن ماجہ ،کتاب العلم)یعنی علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔
  علم کے بغیر دین پر مطلوبہ تقاضوں کے ساتھ عمل کرنا انتہائی دشوار ہے ۔انسان کو جب تک کسی قیمتی چیز کے بارے میں علم نہ ہو تب تک وہ اس کی اہمیت افادیت نہیں جان جاسکتا اور نہ اس کی طرف توجہ دینے کی زحمت اٹھا سکتا ہے ۔علم اور عمل کو آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے ۔یہ دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں البتہ عمل تب تک قابل اعتبار نہیں ہے جب تک اس کو علم کے مطابق نہ کیا جائے ۔ مولانا عاشق الٰہی بلند شہری لکھتے ہیں کہ’’ اسلام سراسر عمل کا نام ہے ۔گود سے قبر تک احکام ہی احکام ہیں ۔ حکم کی تعمیل چوں کہ بغیر علم کے نہیں ہوسکتی ہے ، اس لیے احکام دین کا جاننا اور احکام پر عمل کرنا انسان کا اولین فریضہ ہے ‘‘ ۔علم و حکمت دنیا کی افضل ترین متاع ہے ۔ اس متاع اور نعمت عظمیٰ سے محروم رہنا یا اس سے غفلت برتنا بہت بڑی حماقت ہے ۔علم و حکمت سے اپنی زندگی کو منور کرنا دانائی کی علامت ہے اور یہی علم و حکمت انبیاء کرام وراثت ہے وہ اپنے پیچھے مال و دولت نہیں چھوڑتے ہیںاور ان کا کل سرمایہ یہی ہے ،جس نے بھی اس کو حاصل کر لیا گویا اس نے خیر کثیر حاصل کر لی ۔اللہ کے رسول ﷺ  کا ارشاد ہے : 
ان العلماء ورثۃالانبیاء ،وانالانبیاء لم یورثوادینارا ولا درھما ، ورثو العلم ،فمن اخذہ اخذبحظ وافر(سنن ابو داوود، کتاب العلم)
علماء انبیا کے وارث ہیں ،اور انبیاء دینار و درہم کی وراثت نہیں چھوڑکر گئے بلکہ علم کی وراثت دے کر گئے جس نے وہ علم حاصل کر لیا تو اس نے گویاوافر حصہ پالیا۔
   فہم دین کی اہمیت :
       دین کا فہم حاصل کرنا شریعت کے احکام میں سے ہے ۔جب تک شریعت کا علم و فہم حاصل نہ ہو، انسان صحیح Track پر نہیں رہ سکتا ہے ۔ فہم و بصیرت سے محروم انسان کسی بھی وقت شیطٰن کے شکنجہ میں آسکتا ہے اور ہوا کا کوئی بھی جونکا اس کو اڑا کرلے سکتا ہے ۔اسی لے دین کی بنیادی باتوں کا علم حاصل کرنا از حد ضروری ہے اور اسی لیے اس کو فرض کا درجہ دیا گیا ہے ۔ علم و فہم کی بنیاد پر انسان ہر عمل ایمان و تیقن کے ساتھ کرتا ہے اور وہ عمل قابل اعتبار نہیں جو علم اور بصیرت کی بنیاد پر نہ کیا جائے ،حضرت علی کے بقول ’’ اس عبادت میں کوئی خوبی نہیںجو علم کے بغیر ہو ، اور اس عمل میں کوئی خوبی نہیںجس میںفہم نہ ہو ‘‘ ۔دین کا فہم اور علم اللہ تعالیٰ کی عنایتوں میں سے ایک عنایت ہے اوربہت بڑی نعمت ہے ۔ یہ جس کو بھی عطا کردی گئی ،اسے بہت ساری بھلائی مل گئی ۔سب سے افضل لوگ وہ ہیں جو عمل وکردار کے لحاظ سے افضل ہیں بشرطیکہ وہ دین کا فہم اور علم رکھتے ہو ۔قرآن مجید میںفہم دین کی تحصیل اور حصول علم پر جگہ جگہ تاکید وارد ہے اور اللہ کے رسول ﷺ نے بھی فہم دین کی کافی اہمیت دی ہے اور فرمایا کہ فکر و بصیرت اور تفقہ سب سے بڑی نعمت ہے۔ چنانچہ فرمایا : 
    من یرد اللہ بہ خیٰرا یفقہ فی الدین (صحیح البخاری ،کتاب العلم )
  جس کے لیے اللہ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین میں تفقہ (سمجھ) عطا فرماتا ہے ۔ 
اس حدیث میں فقہ سے مراد شریعت کی معرفت ،اللہ تعالی کی وحدانیت ،اصول دین اور شریعت کے اسرار ورموز کاجانا ہے ۔ 
علم پر رشک کرنا:
حدیث کی رو سے علم ایک ایسی نعمت اور دولت ہے جس پر اگر رشک بھی کیا جائے تو جائز ہے بلکہ علم پررشک کرنے کی ترغیب بھی ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا : 
لاحسد الا اثنتین رجل اتاہ اللہ مالا فسلطہ علی ھلکتہ فی الحق ورجل اتا ہ اللہ الحکمۃ فھو یقضی بھا و یعلھما ۔  (صحیح البخاری ، کتاب العلم ) 
حسد یا رشک صرف دو آدمیوں کے سلسلے میں جائز ہے ایک وہ شخص جسے اللہ نے مال دیا پھر اسے حق کی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق بخشی دوسرا وہ شخص جسے اللہ نے حکمت عطا کی تو وہ اس کے مطابق فیصلے کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہے۔  
اس قابل رشک عمل کو اللہ کے رسول ﷺ نے لامتناہی اجر و ثواب کا ذریعہ ٹھہرایا۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں : 
اذا مات الانسان انقطع عنہ عملہ الا من ثلاث صدقۃجاریۃٰ ، او علم ینفع بہ او ولد صالح یدعولہ ( صحیح مسلم ،کتاب الوصیۃ)
جب انسان مرجاتا ہے تو سوائے تین قسم کے اعمال کے بقیہ اس کے سارے اعمال اس سے کٹ جاتے ہیں : ایک صدقہ جاریہ کی صورت میں کوئی عمل دوسرا کوئی اعسا علمی سرمایہ جس سے فائیدہ اٹھایا جائے تیسرا کوئی نیک اولاد جو اس کے لیے دعائے نیک کرے ۔ 
   تحصیل علم ایک جہاد :
   آپ ﷺ نے حصول علم کی راہ میں نکلنا جہاد کرنے کے مساوی قرار دیا ہے۔ جہاد ایک عظیم کار خیر ہے جس کے کرنے والے کو مجاہد کہا جاتا ہے ا ور مجاہد کے لیے جنت کی بشارت دی گئی ہے آپ ﷺ نے علم کے حصول کو رحمت الٰہی کا موجب قرار دیا ہے اور علم کے لیے سفر کرنا جنت کا ذریعہ ٹھہرایا ہے ۔ علم کی راہ میںہر تکلیف کو برداشت کرنا کار خیر ہے اور اس راہ میں جو سفر کررہا ہو وہ بھی ایک طرح کا مجاہدکہلاتا ہے ۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے :
          من خرج فی طلبالعلم فھو فی سبیل اللہ حتی یرجع ۔ (سنن الترمذی، کتاب العلم )
جو شخص علم کی تلاش میں نکلے وہ اس وقت تک خدا کی راہ میں ہوتا ہے جب تک کہ وہ واپش نہ آجائے ۔ 
   کتمان علم بہت بڑا جرم:
   ایک حدیث میں اللہ کے رسول ؐ نے فر مایا : 
     انہ سیاتیکمْ  اقوما یطلبون  العلم،فاذا ر ایتمو ھم فقل لھم: مر حبا مر حبا بو صیۃ رسول اللہ ،وا قنوھم ۔( سنن ابن ماجہ ،کتا ب السنہ) 
  یعنی تمہا رے پاس لو گ علم حا صل کر نے کی غرض سے آئیں گے جب تم انہیں دیکھو تو انہیں علم سکھا ئو۔
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ ایک مسلمان کو علم کی بات سکھا نے کوا فضل صد قہ قر ار دیا گیا ۔چناچہ فر مایا :
 افضل الصدقۃ  ان یتعلم المروَالمسلم علما ثم  یعلمہ اخاہ المسلم ۔(سنن ابن ماجہ؛ کتاب السنہ ) 
    یعنی افضل صدقہ یہ ہے کہ ایک مسلمان شخص علم حاصل کرے اور اپنے دوسرے مسلمان بھائی کو سکھا دے۔
  ایک مسلمان کی یہ بہت بڑ ی ذمہ داری ہے کہ اگر اس کے پا س علم و حکمت کی بات ہو تو وہ اسے دوسرے تک پہنچائے۔ علم و حکمت کی بات کو پہنچانے کے سلسلے میں ایک مسلمان کو ہر گز بھی بخل سے کام نہیں لینا چاہئے۔ اللہ کے رسول ؐ نے اس پر سخت و عید سناتے ہو ئے فر مایا :   
من سئل عن علم فلکتمہ الجم یوم القیامۃ بلجام من نار ۔(ابوداوود ،کتاب العلم )
جس شخص سے علم دین کی کوئی بات پوچھی جائے ،پھر وہ اسے چھائے تو قیامت کے روز اس کو آگے کی لگام دی جائے ۔
 ایک مسلمان کو علم چھپانے والو ں میں( کتمان علم )اپنے آپ کو شامل نہیں کرنا چاہیے ۔ جو مسلمان دینی تعلیم وتربیت اور اپنی عملی اور اخلاقی حالت کے لحاظ سے کمزور ہو تو دوسرے مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی تعلیم و تربیت کے علاوہ اس کے اصلاح و سدھار اور دینی فہم و فراست کی نہ صرف فکر بلکہ کوشش بھی کریں۔
  علم کو عبادت پر فوقیت :
علم اگر خدا رخی ((God Oriented پر مبنی ہو تو اس کو عبادت پر فوقیت حاصل ہے ۔ علم کا رخ اور قبلہ اگر صحیح نہیں تو یہ انسان کے وبال اور حرما نصیبی کا سبب بھی بن سکتی ہے ۔علم اگر صحیح رخ پر ہو تو اس کی عظمت کا کیا کہنا ۔اس علم کو عبادت پر تفوق حاصل ہے ۔۔ اللہ کے رسول ﷺکا ارشاد ہے :
  فقیہ واحد اشد علی الشیطٰن من الف واحد  (  ترمذی ،کتاب العلم)
ایک فقیہ (علم دین رکھنے والا)شیطٰن پر ہزار عبادت گزاروں کے مقابلہ میں بھاری ہے ۔ 
رضائے الٰہی کا حصول کاآغاز بھی یہی سے ہو کر گزرتا ہے ۔ اسی تفوق پر اہل علم کا درجہ بلند ہے ۔اس کی اہمیت و افادیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ امام بخاری نے اپنی’ صحیح‘ جس کو’’ الصحح الکتاب بعد کتاب اللہ ‘‘ کا درجہ حاصل ہے ، نے باب قائم کیا ہے :
باب: العلم قبل القول والعمل۔ یعنی اس چیز کا بیان کہ قول عمل سے پہلے علم حاصؒ کرنا ضروری ہے ۔
  نفع بخش اور غیر نفع بخش علم :
قرآن و سنت میں میں علم کو اکائی کی حیثیت کی سے پیش کیا گیا ہے اور اس کو کہیں بھی دو خانوں میں نہیں بانٹا گیا ہے۔ علم کی تقسیم انسانی کی کارستانی ہے ۔ اسی تقسیم نے بہت سے مسائل کو جنم دیا ہے ۔ اسی تقسیم نے دین اور دنیا کے متعلق دو نظریات کو وجود بخشا ۔ یہی سے مادہ پرستی نے گل کھلانا شروع کیا ۔جدید نظام تعلیم نے الحاد ، مادیت ،مسابقت الی الشر کو وسیع پیمانے پر پھلایا ۔ قرآن اورسنت نے اس تقسیم اور شر  کوجڑ سے اکھاڑپھینکا ۔اللہ کے رسول ﷺ نے علم کو نافع اور غیر نافع میں تقسیم کیا ۔ آپ ﷺ کی ایک دعا کے الفاظ یہ ہیں :
اللھم انی اعوذبک من علم لاینفع ومن دعاء لایسمع،ومن قلب لا یخشع ومن ونفس لایشبع۔(سنن ابن ماجہ ، کتاب الایمان)
اے اللہ میں اس علم سے پناہ مانگتا ہوں جو فائدہ نہ دے اور اس دعا سے پناہ چاہتا ہوں جو سنی نہ جائے اور اس دل سے پنا ہ چاہتا ہوں جس میں اللہ کا خوف نہ ہو اور اس نفس بھی پنا ہ چاہتا ہوں جو کبھی سویر نہ ہوتا ہو۔ 
   دوسروں سے اخذ و استفادہ کرنا : 
  علم وحکمت کے تعلق سے اسلام نے وسعت قلبی کا مظاہرہ کیا ہے ۔اسلام نہ صرف دوسروں سے اخذ و استفادہ کرنے کو مستحسن نگاہوں سے دیکھتا ہے دوسروں سے علم و حکمت کی باتیں سیکھنے کی تلقین بھی کرتا ہے ۔ اس تعلق سے اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا:
الکلمۃالحکمۃ ضالۃالمومن فحیث وجدھا فھو احق بھا ۔(ترمزی ،کتاب العلم )
حکمت ودانائی کی بات مومن کی گمشدہ چیزہے پس جہاں اسے پائے اس کا وہی زیادہ حق دار ہے ۔
      علم کے ہر شعبہ میں اپنی اپنی اہمیت ہوتی ہے ۔علم کا کوئی شعبہ زیادہ نفع بخش ہوسکتا ہے اورکسی شعبہ کی اہمیت کم ہوسکتی ہے ۔ البتہ تمام علوم و فنون کا سیکھنا فرض ہے جس چیز کو امت کی جتنی ضرورت ہے اسی درجے میں میں اس کا سیکھنا فرض ہے ۔ بقول عبدالرشید ار شد’’ کچھ چیزوں کا سیکھنا فرض عین ہے ، کچھ چیزوں کاسیکھنا فرض کفایہ ہے ،کچھ چیزوں کا سیکھنا سنت ہے ،کچھ چیزوں کا سیکھنا نفل ہے اور کچھ چیزوں کا سیکھنا مکروہ ہے ۔اللہ کے رسول ﷺنے کچھ صحابہ کو تیر وتلوار سازی کا فن سیکھنے کا حکم دیا کچھ صحابہ کو غیروں کی زبان و ادب اور علوم و فنون سیکھنے کا حکم دیا ۔آج کے دور میں جس سائنس اور ٹکنالوجی کی امت کو ضرورت ہے اسی درجہ میں اس کا سیکھنا امت پر فرض ہے۔‘‘لیکن یہ بات واضح رہے کہ دوسروں کے علوم فنون کو احتیاط سے استفادہ کیا جائیے ۔اسلامی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ مسلمانوں نے خذما صفا دع ماکدر کے اصول کو مد نظر رکھ کر دوسروں کے علوم و فنون کے ہر شعبہ میں استفادہ کیا ہے ۔اس اصول کی بنیاد پر ماضی میں مسلمانوں نے علوم و فنون میں معتدل راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی جس میں وہ کامیاب بھی ہوگئے ۔آج بھی یہی مسئلہ درپیش ہے اور درمیانہ راستہ یہی ہے کہ مغربی علم و فنون کو خذما صفا دع ماکدر( جو اچھا ہے اس کو لے لو اور جو گندھا ہے اس کو چھوڑ دو)کی بنیاد پر اختیار کرنا چائیے۔ علم و حکمت کے تعلق سے مومن کو انتہا درجہ تک متلاشی ہونا چائیے ۔البتہ یہ بات ملحوظ نظر رہے کہ مغرب کے سائنسی علوم و فنون سے استفادہ اور  Pic and Choose انتہائی چھان بین اور بصیرت کے ساتھ کرنا چائیے ۔ 
  پی۔ایچ۔ ڈی اسکالر
شعبہ اسلامک اسٹڈیذ،مولانا آزاد اردو نیشنل یونیورسٹی ،حیدرآباد
 6937700258
�������������������������