نصابی کتابوں کے موادکوبہتربنانے کی ضرورت

سرینگر//لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر راجیو رائے بھٹناگر نے  یہاں ایس کے آئی سی سی میں جموںوکشمیر بورڈ آف سکول ایجوکیشن ( جے کے بی او ایس اِی) کی ’’ نصابی کتابوں کو بہتربنانے کے مواد‘‘ پر دو  روزہ  ورکشاپ کا اِفتتاح کیا۔مشیر بھٹناگر نے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی نظام میں قومی تعلیمی پالیسی ( این اِی پی ) ۔2020 کی آمد سے تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی ۔2020 کا مقصد بنیادی اور سکینڈری سکول کی تعلیم کو تمام پہلوئوں میں بنیادی سطح سے لے کر ثانوی مرحلے تک دوبارہ ترتیب دینا ہے جس میں سب کے لئے یکساں اور جامع تعلیم پر توجہ مرکوز ہے اور اِس وجہ سے اِس کا مؤثر نفاذ پورے جموں وکشمیر میں پورے تعلیمی شعبے کو بحال کرے گا۔ مشیر بھٹناگر نے کہا کہ تعلیمی نظام قوم کی ترقی کا بنیادی ستون ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ تعلیم اور تربیت قدیم زمانے سے معاشرے کا حصہ ہے اور ترقی پذیر معاشرے اور دُنیا کے ساتھ تعلیمی نظام کو بھی اَپ گریڈ کرنے کی اَشد ضرورت ہے ۔مشیر موصوف نے کہا کہ ہمارے ملک میں زیادہ فیصد آبادی نوجوانوں کی ہے اور ہمیں اَپنی قومی ترقی پسندی کے لئے ان کی پرداخت کرنے کی ضرورت ہے اور ہمیں اَپنے تعلیمی نصابی کتابوں کے مواد کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔مشیر بھٹناگر نے ورکشاپ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے تمام شرکأ سے کہا کہ وہ اَپنی تعلیمی مہارت ، علم اور دیگر دستیاب وسائل کو اِستعمال کریں تاکہ ورکشاپ کا صحیح نتیجہ حاصل کیا جاسکے۔اَپنے کلیدی خطاب میں پرنسپل سیکرٹری ایس اِی ڈی نے کہا کہ این اِی پی ۔2020 کی آمد سے ہی تعلیمی شعبہ ملک بھر میں ترقی کی منازل طے کرے گا۔اُنہوں نے مزید کہا کہ درسی کتابوں میں مسلسل ارتقاء اور علاقائی مواد کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔اَپنے اِستقبالیہ خطاب میں چیئرپرسن جموں وکشمیر بورڈ آف سکول ایجوکیشن نے جے کے ۔ایس سی ای آر ٹی کا ایک جائزہ پیش کیا اور ورکشاپ کی اہمیت اور جے کے بی او ایس ای کی نصابی کتابوں میں مواد کو بہتر بنانے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔اِس موقعہ پر ورکشاپ سے جموںیونیورسٹی کے پروفیسر شیام نارائن لال ، برکت اللہ یونیورسٹی کے پروفیسر اَجے کمار گھوش ، بنارہ ہندو یونیورسٹی کے پروفیسر کیشو مِشرا اور دیگر معروف ماہرین تعلیم نے بھی اَپنے خیالات کا اِظہار کیا۔