نسیم اشک۔ ایک سرمایہ سخن میری بات

خواجہ احمد حسین

نسیم اشک کو میں برسوں سے جانتا ہوں اس لئے کہ وہ جہاں رہتے ہیں وہاں میرے کئی عزیز دوست خلش امتیازی ، ایوب انصاری، شفقت انور اور ظہیر حکیم بھی اسی محلے میں رہتے تھے۔ لہٰذا باقر محلہ جب بھی جانا ہوتا تو کچھ نئے تعلیم یافتہ نوجوانوں سے بھی تعارف ہوتا۔ ان ہی چند نوجوانوں میں نسیم بھی تھے۔ ان کی شباہت اور سنجیدگی دونوں ان کے شریف النفس ہونے کی گواہی دیتے، دریافت کرنے پر معلوم ہوا۔ آپ بھی اپنے دیگر دوستوں کی طرح مقامی ننھے منے دنیاوی فرشتوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے میں اپنی جان کھاتے رہتے ہیں۔ ایسے ہی بےلوث خادم کے لئے مرحوم خواجہ جاوید اختر نے کہا تھا:

روشنی بانٹنے کی چاہت میں اک دیا رات بھر نہیں سوتا
چونکہ درس و تدریس سے میرا بھی رشتہ رہا۔ اس لئے نسیم سے ملنے ملانے کا سلسلہ دراز ہوتا گیا۔ ہاں یہ کہنے میں ذرا بھی عار نہیں کہ باقر محلہ جگتدل کی مٹی تعلیم اور ادب دونوں حوالے سے بہت زرخیز رہی ہے۔ یہ شرف مغربی بنگال کے کسی اور اردو حلقہ کو شاید حاصل نہیں۔ قومی صدارتی ایوارڈ یافتہ و سابق پی ایس سی ممبر ڈاکٹر محمد منصور عالم ، ڈاکٹر معصوم شرقی, عظیم انصاری اور معروف طنز و مزاح نگار قیوم بدر بھی اسی جگتدل کی پیدوار رہیں ہیں۔ بہر حال بات تو یہاں نسیم کی ہو رہی ہے۔ اس سنجیدہ نوجوان نے اپنے اخلاق سے خاکسار اور میری اہلیہ کو بہت متاثر کیا ہے۔ اکثر ایسا محسوس کیا ہے کہ اشک ہمیشہ کھوئے کھوئے سے رہتے ہیں۔ کچھ تو بات ضرور ہے ورنہ ؎

اس کی سنجیدگی بتا رہی ہے وہ بھی مسکرانا چاہتا ہے
بالا آخر جگتدل کی زرخیز مٹی کا اثر یہ ہوا کہ نسیم بھی ادب کی جانب مائل ہوئے اور نسیم سے ’’نسیم اشک‘‘ کی شکل میں نہ صرف نمودار ہوئے۔ بقول راحت اندوری کہ
’’جہاں بھی پہنچو دھمال کردو‘‘اور پھر نسیم نے دھمال کر ہی ڈالا ایک بار پھر مغربی بنگال کے چھوٹے سے قصبے جگتدل کے حوالے سے ادبی دنیا چونک اٹھی ، بزرگ ادیب محترم انیس رفیع ، جناب ڈاکٹر دبیر احمد ، جناب حقانی القاسمی ،جناب ڈاکٹر نسیم احمد نسیم ،جناب عظیم انصاری،جناب ایوب رضا، جناب احمد کمال حشمی، جناب ڈاکڑ محمد علی حسین شائق، جناب ڈاکٹر افضال عاقل، جناب ڈاکٹر تسلیم عارف،جناب امتیاز احمد انصاری(آسنسول)، جناب روشن ضمیر ، جناب افتخار زاہد ، جناب علی شاھد دلکش، جناب سوز اختر اور جناب سہیل نور و دیگر ابا و شعرا بھی نسیم اشک کی ادبی خدمات پر قلم اٹھائے بغیر نہ رہ سکے۔ مگر ابھی’’عشق کے امتحان اور بھی ہیں‘‘ نسیم اشک کی اطلاع کے مطابق علی شاھد دلکش ایسے جواں سال شاعر مبصر ، شاعر و ادیب ہیں جن کا مضمون نسیم کی کتاب ’’بساط فن‘‘ پر مکمل جائزہ لیتے ہوئے اڑیسہ اردو اکیڈمی پہنچا۔ اور اکیڈمی نے اسے اعتبار کی نظروں سے دیکھا ہی نہیں بلکہ اپنے معیاری جریدے ’’فروغِ ادب‘‘ میں بس طویل مضمون بہ عنوان ’’بساط فن کے آئینے میں نسیم اشک‘‘ کو شائع کیا۔ لہٰذا یہ دونوں ہونہار تیز اور تیز رفتار قلم کار نسیم اشک اور علی شاہد دلکش اعتبار کی نظروں تک پہنچ چکے ہیں۔ اس لیے اب بنا تامل ان دونوں کو خاکسار معتبر شاعر و ادیب لکھ سکتا ہے۔
واضح کر دوں کہ یہ اس نوجوان ادیب و شاعر نسیم اشک کا ہی کمال ہے جو پچھلے پہر کی نرم و معطر ہوا کی مانند ادبی افق کی جانب آہستہ آہستہ رواں دواں ہے بقول ڈاکٹر ماجد دیو بندی :

جہاں سے اپنے غموں کو چھپا کے رکھا ہے وقار ھم نے ہمیشہ بنا کے رکھا ہے
یقیناً نسیم اشک باوقار طرز سخن اختیار کیے ہوئے محو سفر ہیں اور اپنے قلم کی روانی کو اس ادبی طغیانی میں بھی غوطے لگوا رہے ہیں۔ اس طرح ادبی سمندر کی تہوں میں جا کر تین کتابیں نکال لائیں، جس کی خوب پذیرائی بھی ہوئی اور رسم رونمائی بھی۔ شاعری بھی خوب کرتے ہیں، نظمیں بھی بہت پیاری کہتے ہیں۔ دل کو چھُو کر گزر جانے والی ان کی نظمیں ہمارے مرحوم دوست و معروف شاعر نور اقبال کی یادیں تازہ کر دیتی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ مستقبل میں اپنے ’’بساطِ فن‘‘ کی وجہ سے اپنا مقام نسیم اشک خود تعین کر لیں گے۔ آخر میں ان کے ہی شعر پہ اختتام کہ :

للکارتا ہوا جو طوفاں بڑھا ادھر میں نے خلاف اس کے اِک تنکا رکھ دیا
ابھی اتنا ہی آئندہ پھر کبھی ، ایک وعدہ کیا تھا ، نسیم اشک سے اُسے پورا کیا۔
( رابطہ۔ 9831851566)