نسیاں من بسیاں

عام   خیال یہ ہے کہ بھول جانا ایک مرض ہے۔اس کا ایک بھلا سا نام بھی ہے، نسیان۔ بیماری کا نام پروقار اور ذرا خوبصورت ساہو تو اس کے ناز اٹھانے میں بھی مزہ آتا ہے اور مریض دردو آلام کی شدت میں بھی افاقہ محسوس کرتا ہے۔ہمارے آس پاس ایسے لوگوں کی کمی نہیں جنہوں نے پروفیسر وں اور دانشوروں کے بھلکرپن کے واقعات سن سن کر اپنی روز مرہ زندگی میں دانشورانہ شان پیدا کرنے کی غرض سے قصداً یہ مرض پال رکھا ہے۔یہ اور بات ہے کہ اس پالتو مرض کی پول کھلتے دیر نہیں لگتی۔ڈگری یا فتہ اور خود ساختہ دانشوری اور اصلی گھی کی پہچان یوں بھی زیادہ مشکل نہیں ۔ہماری زبان یہ فرق فوراً واضح کردیتی ہے۔
بھولنے کا مرض نہ صرف بے شمار مصائب اور بلاؤں کو ٹالنے کا ایک مجرب نسخہ ہے بلکہ تسامح، سہو، فروگزاشت،بے خیالی اور احسان فراموشی سے لے کر خود فراموشی تک درجنوں گلیارے اور راستے ہیں جن میں داخل ہو کر آپ سماجی بلاؤں، احسان جتا کر بلیک میل کرنے والوں، عیار خود غرضوں، بے حس دوستوں، بھولے مفاد پرستوں اور استحصال کرنے والے حاکموں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ اس زمانے میں زندہ رہنے کے لئے انسان کے پاس روٹی کپڑا اور مکان کے علاوہ ایک عدد موٹی کھال ضروری ہے۔
 باتیں اور کام بھول جانا انسان کی فطرت میں شامل ہے۔انسان بنا ہی نسیان سے ہے، لیکن بھولنے کی عادت میں ذرا شدت پیدا ہوجائے اور طبیعت میں جنوں کے آثار نمایاں ہوجائیں تو لوگ بھی آپ کو دیوانہ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔نام نہاد فرزانوںکے اس سماج میں دیوانوں کو جو سہولتیں حاصل ہیں اور عقل مندی کے پردے میں عقل کی مندی سے بازار میں نفع حاصل کرنے کے جومواقع موجود ہیں، اس کے سبب یہ مرض بڑھا ہو نہ ہو، مریضوں کی تعداد میںاضافہ ضرور ہوا ہے۔
ذکر نسیم ماموں کا تھاجن کے متعلق یہ طے کرنا دشوار تھا کہ وہ سچ مچ چالاک بھلکر تھے یا بھولنے کا سوانگ رچایا تھا۔اگر وہ بھولنے کی ایکٹنگ کررہے تھے تو واقعی بڑے چالو تھے کیونکہ ایسی زبر دست اداکاری تو ہم نے صرف سیاست ہی کے پردے پر دیکھی ہے۔ ناظرین کے لئے یہ طے کرنا ایک مشکل مرحلہ تھا کہ ان کی بھولنے کی عادت فطری تھی، مرض کی شدت تھی، محفلوں میںموضوع بحث بنے رہنے کی حکمت تھی یا ان کی لا اُبالی زندگی کی ایک ضرورت تھی۔یوں بھی ہماری زندگی اس قدر پیچیدہ اور درد ناک ہے کہ اس کا بیشتر حصہ البم میں سجانے کے بجائے کوڑے دان کی نذر کر دینے کے لائق ہے۔ماموں کے ابتدائی حالات شاید اتنے تلخ تھے کہ وہ شیریں یادوں کے حصے میں آئی زمین پر بھی ناجائز قبضہ جما بیٹھے تھے اور اب تواس سر حد کے نشانات بھی گڈ مڈ ہوگئے تھے۔
ماموں کے پاس یادوں کے نام پر اسکول کے زمانے کے چند میڈلس تھے جو انہوںنے مختلف مقابلوں میں بڑے خلوص اور جانفشانی سے حاصل کئے تھے۔انہیں یہ یاد نہیں کہ کن مقابلوں میں کس پوزیشن پر پہنچنے کے لئے انہیں ان انعامات سے سرفراز کیا گیا تھا۔ماموں یہ بھی فراموش کر چکے تھے کہ وہ میڈلس رکھے کہاں ہیں۔ہاں انہیں یہ ضرور یاد تھا کہ جن دوستوں کو انہوں نے منہ توڑ شکست دی تھی ،ہار ماننے کو تیار نہ تھے اور اس قدر سرکش واقع ہوئے تھے کہ بازار سے جاکر میڈلس کی دکان سے بڑھیا قسم کے میڈل اور ٹرافیاں خرید لائے تھے اور اجنبی لوگوں کو گھر بلا کر شوکیس میں سجی جعلی کا میابی کی وہ نشانیاں دکھا دکھا کر شیخی بگھارا کرتے تھے کہ ہمیں اس مقابلے میں پہلا انعام ملا تھا جس میں نسیم میاں کو تیسرا انعام دیا گیا تھا۔
بات اتنی سی نہ تھی اور نہ یہاں آکر ختم ہوئی ان کی قسمت کے ستاروں کو یہ واقعہ اس قدر پسند آیا کہ بعد میں ان کے حالاتِ زندگی اسے’’مکرر ارشاد ہو‘‘کہہ کر بار بار دہراتے رہے۔ماموں کا نام نسیم احمد تھا، گھر کے بزرگ انھیں نسیم میاں کہا کرتے تھے۔ نانا جان ان کے بھلکر پن کے سبب بجائے نسیم میاں کے عجلت میں نسیاں بھی کہہ جاتے۔ہم بچوں کو جب تک اس لفظ کے اصل معنی نہیں معلوم تھے ہم یہی سمجھتے رہے کہ پیارسے بگاڑا ہوا ایک بے معنی سا مگر شہد جیسا میٹھا نام ہے۔جب سیانے ہوئے تو اس میں چھپے شہد کی مکھی کے ڈنک کا انکشاف ہوا۔
وہ کبھی اس حقیقت کو بھی فراموش کر جاتے تھے کہ رشتے میں وہ ہمارے حقیقی ماموں تھے۔ایک وجہ شاید یہ بھی رہی ہو کہ گھر میں کئی خاندانوں کے بچوں کی اس قدر ریل پیل تھی کہ بچوں کے ناموں کے ساتھ رشتے یاد رکھنا دشوار تھا ، خاص طور پر اس شخص کے لئے جس کی میموری اس کے ذاتی موبائیل سے بھی کم ہو۔ماموں نے اپنی کمزور یاد داشت کے آگے کبھی گھٹنے نہیں ٹیکے، راستے نکالنا انہیں آتا تھا۔اپنی خفت مٹانے یا چھپانے کی غرض سے وہ ہم میں سے کسی کو ذرا الگ لے جا کر پوچھتے:’’بتاؤہم آپ کے ہیں کون؟‘‘جواب خواہ کچھ بھی ملے، ماموں خوش ہوکر اور شاباش کہہ کر اس کے سر پر ہاتھ پھراتے اور جمے جمائے بالوں کو اس طرح بے ترتیب کردیتے کہ بغیر کنگھی کئے درست نہ ہوسکیں۔
بھولنے کی اس عادت کو چھپانے کی ان کی کوشش ہر جگہ جاری رہتی۔ ماموں ایک مقامی اسکول میں ٹیچر تھے۔ کبھی کوئی ذہین طالب علم انہیں ستانے یا اپنی لیاقت جتلانے کے لئے کوئی مشکل سوال پوچھ بیٹھتا تو وہ اندر ہی اندر ذرا بے چین ہو جاتے۔ان کے لئے مشکل ترین سوال یہی ہو اکر تا کہ آج تاریخ کیا ہے؟جسے وہ کیلنڈر یا موبائل آن کئے بغیر نہیں کہ پاتے اور آپ کو کھانے میں کیا پسند ہے؟جسے وہ ممانی سے پوچھے بغیر اور آپ سیر کے لئے دہلی جانا پسند کریں گے یا کشمیر ،جسے وہ استخارہ کئے بغیر نہیں بتا سکتے۔بہر حال کسی سیانے طالب علم کی تفتیش پر کسی دوسرے ذہین علم کا نام اپنے حافظے سے نکالنا وہ ہر گز نہ بھولتے اور اسی کی طرف سوال اچھا ل کر کہتے: ہاں بھئی !ذرا تم ہی اس سوال کا جواب بتاؤ۔اس حکمت عملی کا دوسرا وار وہ پہلے طالب علم پر کرتے یہ کہہ کر کہ اتنی سی بات تمہیں نہیں معلوم؟
ایک دن ایک طالب علم ان کے پاس آیا اور کہنے لگا:’’سر! میری طبیعت اچانک خراب ہوگئی ہے، مجھے گھر جانا ہے، چھٹی چاہئے۔‘‘ 
ماموں اس پر برسنے لگے:’’چھٹی چاہئے تو میرے پاس کیوں چلے آئے، اپنے کلاس ٹیچر سے بات کرو۔‘‘
اس سہمے ہوئے بچے نے کہا: ’’سر!آپ ہی تو ہمارے کلاس ٹیچر ہیں۔‘‘
’’اچھا تو پہلے کیوں نہیں بتایا۔‘‘
گھر پر ماموں کا برا حال تھا۔کبھی ممانی اور اکثر سارا گھر ان کا چشمہ، پرس، جرابیں ، موبائیل اور پاس بک ڈھونڈنے میں مشغول رہتا۔ایسا لگتا جیسے گھر نہیں دریا میں  کوئی بھنور ہو۔گھر میں کئی موبائیل تھے،کتنے تھے؟ عمر رفتہ کے عطا کردہ زخموں اور اپنے دشمنوں کی طرح موبائیل ہینڈسیٹ کی تعدا د کا صحیح علم ماموں کو نہ تھا۔ممانی اس فضول خرچی پر چراغ پا ہو جاتیں تو وہ اپنے پڑوسی اجو بھیا کا حوالہ دیتے جس سے انھوںنے ایک مرتبہ سن لیا تھا کہ اس کے پاس سترہ موبائیل ہیں۔ ممانی چڑ کر کہتیں:’’وہ ٹھہرا سیاسی آدمی، نہ اس کی آمدنی کا کوئی بھروسہ ہے نہ زبان کا، تم کہاں کے لیڈر ہو؟ وہ تو لوگوں کو امپریس کرنے کے لئے لمبی لمبی پھینکتا ہی ہے۔ مجبوری جو ہے وہ کہنے کی جو اصل میں کہیں عالم ِوجود میں نہیں‘‘
کبھی ماموںکا موبائیل دست تہِ سنگ کی طرح کسی تکیے کے نیچے دبا ہوا ملتا ،کبھی واش بیشن پر تو کبھی کسی کتاب میں سوکھے ہوئے پھول کی طرح رکھا ہو اپایا جاتا۔ایک کو ڈھونڈنے کے لئے دوسرا فون استعمال کرتے بیل بجتی تو پتہ چلتا مطلوبہ موبائیل پھولوں کے گملے میںسجا ہوا ہے۔صبح سویرے وہ پھولوں کی مزاج پرسی میں مصروف تھے کہ کسی کا فون آگیا اور اُسے وہیں رکھ چھوڑا۔ ایک دن دیر سے کوئی نمبر ڈائیل کر رہے تھے۔ادھر سے جواب آتا تھا this number does not exist. ۔ ممانی سے زیادہ دیر تک جب انہیں اس عالم ِحیرت میں نہ دیکھا گیا اور جھنجھلاہٹ کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو پوچھ بیٹھیں:’’آخر آپ کسے فون لگا رہے ہیں؟‘‘
’’ارے بھئی !چشمے کا نمبر لگا رہا ہوں کم بخت ملتا ہی نہیں۔‘‘
’’چشمہ بھی کوئی موبائیل ہے جو بج اٹھے گا؟؟؟‘‘
اب ماموں کا دماغ روشن ہوامگر وہ ہا رماننے والے تھے، اور وہ بھی اپنی ہی بیگم سے، بیرونی طاقتوں کی بات اور تھی ۔فوراً پینترا بدل کر بولے:’’بس بس مجھ پر طنز نہ کرو۔ میں نے چشمے کا نمبر موبائیل میں نوٹ کر رکھا ہے ،وہی دیکھ رہا ہوں۔یہ ڈیزائین کافی پرا نا ہوگیا ہے۔ نیا چشمہ بنوانا ہے۔‘‘
’’ہاں ڈیزئن توکافی پراناہوگیاہے۔‘‘ ممانی طنزیہ انداز میں مسکراتی ہوئی بولیں: ’’مگروہ پرانا چشمہ ہے کہاں؟‘‘
’’وہی تو ڈھونڈ رہا ہوں کم بخت ملتا ہی نہیں۔‘‘
’’اور یہ ماتھے پر کیا چڑھا رکھا ہے۔‘‘
’’اوہ ہو!یہ جناب یہاں ہیں۔‘‘
ماموں اپنی عادت سے مجبوردن بھر میں نہ جانے کتنے نام، کتنے کام اور نہ جانے کیا کیا بھول جاتے تھے،مگر ہم ان کی ان مزید ار حرکات کے سبب انھیں شاید ہی بھول پائیں گے۔
رابطہ  9579591149 
