نسلی امتیاز کا خاتمہ کب ہوگا؟

ملک ِبھارت سمیت پوری دنیا میںہر سال نسلی امتیاز کے خاتمے کاعالمی دن منایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے تحت اس عالمی دن کو منائے جانے کا مقصد انسانی حقوق کی پاسداری اور ہمارے اجتماعی احساس ذمہ داری کو فروغ دینا ہے۔یہ دن 21 مارچ 1960 کو جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کے قوانین کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس کی فائرنگ سے مرنے والے 69 افراد کی یاد میں منایا جاتا ہے۔پہلی بار نسلی امتیاز کے خاتمے کا عالمی دن 1966 میں منایا گیا۔اس عالمی دن کے موقع پر دنیا بھر میں نسلی امتیاز کے خلاف شعور اُجاگر کرنے کے لئے تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔اگرچہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے معاہدے کے تحت تمام افراد برابر ہیں تاہم آج تک نسلی امتیاز کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہوسکا اور آج بھی لاکھوں افراد دنیا بھر میں نسلی امتیاز کا شکار ہو رہے ہیں۔
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اسلام میں نسلی امتیاز اور تعصب و نفرت کی سخت ممانعت ہے۔ سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا حجۃ الوداع کے موقع پر خطاب میں اس بارے میں نصیحت، وصیت اور راہ نمائی موجود ہے کہ کسی عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر اور کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر فضیلت حاصل نہیں۔ افضل وہ ہے جو اللہ سے ڈرتا ہے، رنگ ونسل اور ذات پات کی بنیاد پر اعلیٰ ادنیٰ کی تقسیم اکرام انسانیت کے خلاف ہے۔ یہ محض خاندان وقبائل کے تعارف کا ذریعہ ہے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ بے شک اللہ کا خوف، تقویٰ، اللہ کی خشیت اور اللہ کا ڈر ہی ’’ماسٹر کی‘‘ ہے۔
اسلام نے نسلی تعصب کو ختم کیا۔ یہ پیارے آقا کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی ہی تعلیمات مطہرہ ہی تھیں کہ حضرت بلال رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ حبشہ کے رہنے والے تھے، کالی رنگت تھی اور ایک غلام کی زندگی گزار رہے تھے لیکن جب دین اسلام کی پناہ میں آئے، دونوں جہانوں کے سردار پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے صحابیؓ اور مسجد نبوی کے مؤذن کہلائے، پھر ان کے قدموں کی آواز جنت میں بھی سنائی دیتی تھی، اس طرح کے سینکڑوں بلکہ ہزاروں لاکھوں مثالیں موجود ہیں۔ پہلے جو زر خرید غلام تھے ،اسلام کی آغوش میں آنے کے بعد اُنھیں قوم کا سالار بنایا گیا۔
آج انسانی حقوق کے علم بردار تمام ممالک اگر اپنی ریاستوں پر غوروفکر کریں تو نسلی تعصب کے ساتھ ساتھ ان ممالک میں مذہبی تعصب بھی پایا جاتا ہے۔ نسلی و مذہبی تعصب کے علاوہ کچھ نظر نہیں آئے گا۔ ہمارے ملک کے موجودہ حالات میں اکثریتی طبقہ کی جانب سے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو نت نئے انداز سے مذہبی امتیاز شکار بنایا جارہاہے، اُسی طرح دنیا بھر میں دیگر ممالک کے مسلمانوں کومیانمار، فلسطین، کشمیر، عراق، افغانستان اور دنیا کے دیگر خطوں میں مسلمان بدستور مذہبی امتیاز کا شکار ہیں۔
پوری دنیا میں نسلی منافرت کا اظہار، مذہبی احساس برتری اور پر تشدد قوم پرستی سے نکلنے کا حل انسانیت کے اور بھائی چارے کے جذبات کو فروغ دینا چاہتے ہیں تو آسمانی قرآنی اور اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے نسل پرستانہ رویوں کی روک تھام کر کے دنیا میں کروڑوں انسانوں کی زندگیوں اور عزت و وقار کو بچایا جا سکتا ہے۔