نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!

 نوٹ:اللہ کا بے شمار شکر وثنا ء کہ آج مجھے اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں حج ڈائری کی پچاسویں قسط لکھنے کی توفیق مل رہی ہے۔مجھے اس بات کاعجز وانکساری کے ساتھ اعتراف ہے کہ مجھ ایسے علم ِدین سے بے بہرہ اورعمل سے تہی دامن ایک کم مایہ شخص نے اس کام کا بیڑہ اُٹھایا جو آج تک ملت کے بر گزیدہ علمائے کرام اور اہل ِدانش نے بخوبی سر انجام دیا ہے ۔ میں کوئی عالم دین ہوں نہ اسلامیات یاعربی کی کوئی شدھ بدھ ہے ، بجز اس کے کہ اسلام کے وسیع ترین موضوع پر اردو اور انگریزی کی چند ایک کتابوں کا مطالعہ کیاہے۔ یہی کچھ متاعِ فقیر ہے۔ میں نے ابتداء ً عمرہ وحج یاداشتوں پر قلم اٹھاتے ہوئے اسے دوپانچ قسطوں میں سمیٹنے کا سوچا تھا مگر جوں جوں آگے بڑھا پیغمبر اسلام صلی اللہ کی سیرت ِمقدس کے تاب ناک مکّی اوراق میرے سامنے کھلتے رہے اور میں نے قارئین ِکرام تک انہیں پہنچانے کا نیک ارادہ کرلیاتاکہ مکہ کے دورِ کشمکش اورحیات ِ رسولؐ کے حوالے سے ان کی معلومات میں اضافہ ہو ۔ یوں میری حج ڈائری جزوی طور اسلام کی ڈائری میں تبدیل ہو کر رہ گئی۔ میری ناچیز رائے میں حج اور عمرے کا سفرنامہ محض ہوٹلوں ، بازاروں ، واقعات، حکایات اور شکایات سے عبارت روزنامچہ نویسی کا مشغلہ بن کر نہ رہنا چاہیے بلکہ قاری کو سفر محمودکا آنکھوں دیکھا حال بتانے کے دوران اُس تقدیس مآب ذات کا تعارف بھی ہو جس نے اپنے جاں نثار صحابہ ؓ سمیت مکہ اور مدینہ میں اسلام کا جھنڈا لہر ایا اور یہ کام کر تے ہوئے ایسے جاں گسل مراحل طے کئے جن کا آج کے سہولیات و آسائشوں والے دور میں ہم تصور بھی نہیں لاسکتے۔ میں ان مراحل کی رُوداد زیب ِداستان بڑھانے یا طلول ِکلام کے لئے قلم بند نہیں کر رہاہوں بلکہ اس کے پس ِپردہ میری یہ نیت اور خیال کارفرماہے کہ اخبار بین طبقے کی نظر حج ڈائری کے بین بین تاریخ اسلام کے ان اہم ترین صفحات پر بھی مرکوز رہے۔ اُمید ہے کہ قارئین ِمحترم اس حقیر کاوش میں میرا حوصلہ اپنی دعاؤں سے بڑھا تے رہیں گے۔  
ش م احمد
 مکہ اب پوری طرح واضح کررہاہے کہ اسلام کی مخالفت اس کی گھٹی میں پڑی ہوئی ہے ۔ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم بھی محسوس کر رہے ہیں کہ دین حق کا وہ پودا یہاں ثمر بار نہیں ہوسکتا جس کا میٹھاپھل تاقیامت مردہ ضمیر انسانوں اور جاں بلب انسانیت کے واسطے تریاق ہے ۔ اُدھر مدینہ اسلام کی آواز پہ ذوق وشوق سے لبیک کہہ رہاہے، یہاں قبیلے کا ایک فرد نہیں بلکہ پورے کا پورا قبیلہ حلقہ بگوش اسلام ہوکر بزبان حال  کہہ رہاہے کہ یہ مٹی بہت زرخیز ہے۔ اللہ پہلے ہی اپنی مشیت کی بارگاہ سے آپ ؐ کو تبدیلی ٔ مکان کا بالمعنیٰ  اشارہ معراج کی شب دے گیاہے کہ مکہ میں بہت ہوچکاہے، اب اسلام کے بیج کو تناور درخت بننے کے لئے ایک ایسا دارالہجرت چاہیے جو اسلام کا قلعہ بننے کی ہر لابدی قابلیت سے مالا مال ہے ۔ اسی تعلق سے آپؐ صحابہ کبار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اجمعین سے قبل از ہجرت فرماتے ہیں: مجھے تمہارا دار الہجرت دکھایا گیا ہے ، یہ کجھور کے باغات والا علاقہ ہے اور ’’لاتبین‘‘جلے ہوئے بے ترتیب پتھروں والے دو علاقوں کے درمیان واقع ہے۔اس سے آپ ؐ کی مراد یثرب ہے ۔ بیعت ِعقبہ اولیٰ کے بعد اسلام یثرب کے دواہم قبیلوں یا برادریوں۔۔۔اوس اور خزرج ۔۔۔ کے قلوب میں اللہ دین ِحق کی بے پناہ محبت ڈالتا جا رہاہے کہ یہ دھڑا دھڑ اسلام قبول کر رہے ہیں ۔ یہ قبائل مردانگی میں یکتا ، خود داری میں لامثال، عہدوپیمان میں پتھر کی لکیر ، غیرت وحمیت میں پکے، آزادی کے خوگر ہیں مگر آپس میں دست وگریباں بھی رہتے ہیں ، البتہ یہود ِ مدینہ پر یہی غالب ہیں ۔ نوجوانان ِ مدینہ خاص طور اللہ کے پیغام ِ حق کے استقبال میں پلکیںبچھا رہے ہیں جب کہ بڑے بوڑھے آنکھ بند کر کے ابھی شرک اور بت پرستی کو گلے لگائے بیٹھے ہیں، اگرچہ حالات کی نئی کروٹ اور ہو اکا بدلتارُخ انہیں بھی آنکھیں کھولنے پر مجبور کر رہا ہے ۔ قبیلہ بنی سلمہ کا ایک بزرگ عمرو بن الجموحؓ اپنے گھر میں لکڑی کے ایک بُت۔۔۔ مناۃ۔۔۔ کی پوجا کرتا رہتا ہے ۔ان کا فرزند معاذ بن عمرو ؓ ایمان لاتا ہے تو اپنے والد بزرگوار کے چہیتے بُت کو اپنے ہم قبیلہ ساتھی معاذ بن جبل ؓ کے ہمراہ اٹھا تے ہیں ،کیچڑ کی لپائی کر کے اسے کوڑدان کے ایک گڑھے میں اُلٹا لٹکا دیتے ہیں ۔ مناۃ کا مرید صبح جب اسے غائب پاتا ہے تو پر یشان ہوتا ہے ۔ وہ گم شدہ مناۃ کو ڈھونڈنے نکلتا ہے کہ دیکھتا ہے بُت کیچڑ سے لت پت کوڑے کرکٹ میں الٹا پڑا ہے ۔ وہ چیختا چلّاتا ہے کس نے ہمارے خداوند کی بے حرمتی کی ۔ بُت کو پھرسے نہا دھوکر بڑے میاں گھر لاتے ہیں ۔ دوسرے دن دوران ِ شب اسی واقعے کا اعادہ ہوتا ہے ، کئی روز تک یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے کہ بُت گھر سے غائب ہے اور عمرو اسے ڈھونڈ کر بڑی تعظیم کے ساتھ گھر لاتے ہیں ۔ ایک دن اپنی تلوار مناۃ کے گلے میں لٹکاکر بولے : خداوندا! اب اگر تجھ میں واقعی طاقت ہے تواپنی حفاظت آپ کرنا، میری تلوار حاضر ہے ۔ اس رات بھی بُت کا وہی حشر کیا جاتا ہے، بلکہ دوقدم آگے بڑھ کر ایک مردہ کتے کے ساتھ باندھ کر اسے انسانی فضلہ کے گڑھے میں پھینک دیاجاتاہے ۔ عمروؓ بڑی تلاش کے بعد مناۃ کی یہ حالت ِ زار دیکھتاہے تو اس کے ذہن کا دروازہ اور دل کا دریچہ کھل جاتا ہے ، وہ جان جاتا ہے بُت پرستی عقل وفہم کے خلاف ہے ، بُتوں سے نفع نقصان کی اُمیدیں رکھنا عبث ہے ، بُت کسی شئے کو کیا خاک پیدا کریں یہ تو اپنے سے مکھی تک نہیں ہٹاسکتے ، اس کا ضمیر گواہی دیتا ہے کہ بت خانے کے پجاری کے پرساد بانٹنے کادھندا مکر وفریب پر مبنی ہے، پیشہ ور جھاڑ پھونک والے رنگے سیار ہیں، ان کے چیلے چانٹے توہمات کے پرستار ہیں ۔ وہ اسی وقت اسلام کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں ۔
  یہ نبوت ِ محمدیؐ کا تیرہواں برس ہے ۔ مدینہ میں اسلام موافق لہر پورے آب و تاب کے ساتھ چل رہی ہے ۔ اسلام کا پہلا سفیر مصعَب بن عمیر ؓ حج کے موقع پر دربارِ رسالت ؐمیں یہ خوش کن سرگزشت بیان کرتے ہیں تو پیغمبراسلام ؐ مسرورو شاداں ہوتے ہیں۔ عمیرؓکے ہمراہ عشاقان ِ اسلام پر مشتمل تہتر مرد اور دوخواتین کا قافلہ اسلام پر خفیہ بیعت کے لئے آیا ہے ۔ رسول اکرم صلعم اپنے عم ِمحترم عباسؓ بن عبدالمطلب (ابھی عباسؓ ایمان کی دولت سے سرفراز نہیں ) عقبہ میں رات کی تاریکی چھپتے چھپاتے تشریف لاتے ہیں ۔ بیعت علی الاسلام سے پہلے حضرت عباس ؓ گفتگو کا آغاز کر کے مدنی وفد سے صاف صاف لفظوں میں کہتے ہیں ہم نے محمدؐ کو مکہ میں اپنی حفظ واَمان میں رکھا ہو اہے ، اب آپ ؐ یثرب جانے پر اصرار فرمارہے ہیں،اس لئے اگر آپ کاخیال ہے کہ جس چیز ( یعنی ہجرت ) کی طرف آپ ؐ کو بلاتے ہو، اس میں آپ لوگ احساس ِذمہ داری سے آپ ؐکا ساتھ نبھائیں، مخالفین سے آپ ؐ کو بچالیں ، تنہا نہ چھوڑیں، تو فبہا لیکن اگر اپنے پاس بلانے کے بعد ساتھ چھوڑ دیں تو آپ ؐ کو یہیں چھوڑ دیں کیونکہ اپنے وطن میں کم ازکم آپ ؐ عزت و حفاظت سے ہیں ۔ حضرت کعب ؓ جواب دیتے ہیں : ہم نے آپ کا سن لیا ، اب آقائے نامدارؐ اپنے اور اپنے رب کے لئے جو عہدو پیمان پسند فرمالیں ہم سے لیں ۔ یہ اشارہ ہے کہ مدنی مسلمان (انصار) اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہیں ۔ پیغمبر اسلامؐ تلاوتِ قرآن فرماتے ہیں اورؐ ان دفعاتِ بیعت کو وفد کے سامنے بیان فرماتے ہیں : چستی ا ور سستی ہر حالت و کیفیت میں میری بات سنو گے اور مانوگے ، تنگی اور فراخ دستی میں اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے، نیکی کا حکم دوگے اور بدی سے روکوگے ، اللہ کی راہ میں اُٹھ کھڑے ہو جاؤگے باوجودیکہ ملامت گر ملامتیں کرے، تم اُسے نظر انداز کر وگے ، جب میں بہ نفس نفیسں تمہارے یہاں آؤں تو میری مدد کروگے ا ور اپنے بال بچوں کو جس چیز سے حفاظت کرتے ہو اسی چیز سے میری محافظت کر وگے۔ یہ سن کر براء بن معرور ؓ آپ ؐکا دست مبارک پکڑ کر کہتاہے: اس ذات مبارک کی قسم جس نے آپؐ کو نبی برحق ؐ بناکر مبعوث فرمایا ہے، ہم یقیناً اسی چیز(اسی محبت اور یگانگت سے) آپ ؐ کی حفاظت کریں گے جس سے اپنے بال بچوں کی حفاظت کر تے ہیں ۔ اے رسول کریم ؐ ! آپ ہم سے بیعت لیں، ہم بخدا جنگ کے سپوت ہیں، اسلحہ ہمارا کھلونا ہے ، یہی ہمارے باپ دادا کاورثہ ہے ۔ ایک اور مدنی صحابی ابوالہثیم بن تہیان  ؓ کی دور بین نگاہ کہیں اور مر کوز ہوتی ہے ، فرماتے ہیں : اے اللہ کے رسول !ؐ ہمارے اور یہود کے مابین عہدو پیمان کی رسیاں ہیں ، اب ہم ان رسیوں کا کاٹ پھینکتے ہیں، لیکن کہیں یہ تو نہ ہو کہ ہم یہ سب کرڈالیں اور جب اللہ تعالیٰ آپ ؐ کو غلبہ عطافرمائے توہم سے آپ ؐ نظریں پھیر کر واپس اپنی قوم کی جانب پلٹ جائیں ؟ یہ گفتگو قربانیوں اور تکلیفوں کے بیچ اسلام کے شاندار مستقبل کی پیش بینی کر کے اہل ِوفد محمد عربی ؐ سے اپنی دائمی محبت ومعیت کی ضمانت چاہتے ہیں ۔ یہ سن کر رحمت ِعالم ؐ کے لب ہائے مبارک پر دل نواز مسکراہٹ بکھر جاتی ہے ، آپ ؐ اس مدنی صحابہؓ کے اندیشے کو یہ کہہ کر دور فرماتے ہیں 🙁 نہیں ایسا کبھی نہ ہوگا ) آپ حضرات کا خوں میرا خون، آپ کے دشمن میرے دشمن ، آپ کی بربادی میری بربادی ، میں آپ سے ہوں آپ مجھ سے ہیں ، جس سے آپ کی جنگ اس سے میری جنگ ، جس سے آپ کی صلح اس سے میری صلح۔ آج بھی آپؐ کی مدینہ شریف میں تشریف آوری ایفائے عہد کا زندہ ثبوت ہے ۔ اس موقع پر بیعت عقبہ اولیٰ کے وقت ایمان لائے ایک اور مدنی صحابہ عباس بن عبادہؓ اہل ِوفد کی یاددیانی کے لئے مکرر فرماتے ہیں : لوگو! جانتے ہو کہ ان سے ( پیغمبر اسلامؐ سے ) کس امر پر بیعت لے رہے ہو ؟ وفد کی آوازیں آتی ہیں جی ہم بالکل ہم واقف ہیں ۔ عباس ؓ پھر فرماتے ہیں : تم محمد رسول اللہ ؐ سے سرخ وسیاہ لوگوں سے جنگ پر قول وقرار کر تے ہو۔ اگر تم لوگوں کا ظن و گمان یہ ہے کہ جب تمہارے اموال کا صفایا ہو ، تمہارے بڑے بڑے لوگ قتل کر دئے جائیں تو تم نبی ؐ اکرم ؐ کا ساتھ چھوڑ ودگے توابھی سے انہیں چھوڑدو، کیونکہ اگر تم نے اپنے وطن مالوف میں لے جانے کے بعد انہیںچھوڑ دیا تو وہ پستی وذلت ہی نہیں بلکہ دنیا وآخرت کی رسوائی پر منتج ہوگا، لیکن ہاں ، اگر رسول لولاک ؐ سے اپنے مالی نقصانات اور اونچی ہستیوں کے قتل کئے جانے کے باوجود اپنا وہ وعدۂ وفا ئی کروگے جس کی جانب تم انہیں بلاتے ہو تو لاریب انہیں لے لو کیونکہ واللہ یہ دنیا وآخرت کی کامیابی ہے ۔ وفد بہ حواس ِ خمسہ یہ تاکیدیں سنتا ہے تو بیک زبان وعدہ کر تے ہیںہم اموال کے نقصانات اور اپنے اشرافیہ کے قتل و خوں کے باوصف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول کر تے ہیں ۔ اہل وفد میں سے بعضے سوال کرتے ہیں: اے اللہ کے رسول کریم ؐ! اگر ہم نے یہ عہد بہ دل و جان پوار کرلیا تواس کا کیا صلہ ملے گا ؟ آپ ؐ مختصراً فرماتے ہیں : جنت۔ اس پر اہل ِوفد پورے اشتیاق و انہماک سے بلاچوں چرا بیعت کے لئے اپنے ہاتھ بڑھا دیتے ہیں اورآپ ؐ مجمعے سے بیعت لیتے ہیں ۔ اسی وقت مدنی وفد میں سب سے کم عمر صحابی اسعد بن زرارہ ؓآپ کا دست ِمبارک پکڑکر وفد سے مخاطب ہوتے ہیں :ہل یثرب ! ذرا رُک جایئے، پتہ ہے آج یہاں سے آپ ؐ کو لینے کا مطلب ہے عرب سے دشمنی ، تمہارے سرداروں کا قتل، تلواروں کی جھنکار ؟ یہ سب برداشت کر نے کی قوت ہے تو پیغمبر اسلام ؐ کو یہاں سے لے چلیں اور اس کااجروثواب صرف ایک اللہ کے ذمہ، لیکن اگر بالفرض تمہیں اپنی جان عزیزتر ہے تو انہیں یہی چھوڑدو ؟کم ازکم تم اللہ کے سامنے عذر تو کر سکتے ہو ۔ بیعت کے لئے بے تاب لوگ کہتے ہیں اسعد بن زرراہ! اپنا ہاتھ ہٹاؤ قسم اللہ کی ہم اس بیعت کو نہ توڑ سکتے ہیں نہ چھوڑ سکتے ہیں ۔ اس بیعت کو انہی وجوہ سے بیعت ِعقبہ ثانی کے علاوہ بیعت ِحرب بھی پکارا جاتاہے ۔ اس موقع پر رسول اللہ ؐ مدینہ کے لئے بارہ صائب رائے نقیب اوس وحزرج میں سے پیش کرنے کو فرماتے ہیں ۔ بر سر موقع اوس ۹ اور حزرج ۳ نقباء کو پیش کر تے ہیں جنہیں آپ فوراً مقرر فرماتے ہیں ۔ انہیں بیعت کی دفعات کے نفاذ اور دیگر امور کی بجاآوری کی ذمہ داری سونپ دی جاتی ہے۔ان سے آپ ؐ الگ سے حلف لیتے ہیںکہ آپ اپنی قوم کے تمام معاملات کے کفیل ہیں جیسے حضرت عیسیٰ ؑ کے حواری تھے اور میں اپنی قوم یعنی مسلمانوں کا کفیل ہوں۔ سب جواب دیتے ہیں جی ہاں ۔ خفیہ طور ہوئی بیعت عقبہ ثانی کی بھنک گھاٹی کے شیطان کو لگتی ہے تو وہ قریش کو اُکساتاہے :جاؤ ان پر ٹوٹ پڑو۔ آپؐ یہ سنتے ہی اہل وفد کو جلد از جلد اپنے ڈیروں پر جانے کی ہدایت دیتے ہیں ۔ لوگ واپس جاکر اپنے خیموں میں صبح تک آرام فرما ہوتے ہیں ۔ صبح منہ نہارے قریش تک یہ خبر پہنچتی ہے تو وہ آگ بگولہ ہوجاتے ہیں کہ اہل ِاسلام اب یثربی مددگاروں سے مل کراہل ِمکہ سے بر سر جنگ ہو اچاہتے ہیں ۔ وہ حاجیوں کے خیموں میں آکراحتجاج کرتے ہیں مگر یہاںخبر کی تصدیق نہیں ہوتی کیونکہ اکثر یثربی حجاج کو معلوم ہی نہیں کہ رات کو عقبہ میں کیا ہوا، اس لئے خبر کی تردیدکر تے ہیں ۔ روسائے قریش یہ اطمینا ن کر کے پلٹ جاتے ہیں کہ یہ کسی نے بے پر کی اڑائی ہے مگر بعد میں خبر کی تصدیق ہوتی ہے تو وہ اُلٹے پاؤںواپس لوٹتے ہیں ، حجاجِ یثرب وطن روانہ ہوچکے ہوتے ہیں ۔ قریش تعاقب کر تے ہیں تو سعد معاذؓ کے سوا کسی کو پکڑ نہیں پاتے۔ اُن کی مارپٹائی کر کے انہیںمکہ پہنچایا جاتاہے جہاں سے یہ بھی چھوٹ جاتے ہیں کیوںکہ قریش کے بعض اکابرین کے تجارتی قافلوں کی گزرگاہ سعدؓکا علاقہ ہے ۔
(بقیہ اگلےجمعہ کو ملاحظہ فرمائیں)