نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!..قسب ۔۔78

  مقاماتِ حج کی زیارت سے فارغ ہوکر ہماری گاڑی واپس حرمِ کعبہ کی جانب رواں دواں ہوئی۔ اپنی اپنی ایمانی بساط اور روحانی احوال کے مطابق تمام زائرین مقاماتِ حج کے نقش ونگار دل کے تہ خانے میں اُتارکر اور ان کی ابدی رعنائیاں آنکھوں میں بساکراس دنیائے بسیط کے بارے میں زیادہ سے زیادہ ملتانی گائیڈ سے معلومات کا ذخیرہ مستعار لیتے رہے،مگر شوق کا پنچھی زیارات و مقدسا ت کے روح پرورفضاؤں میں پر کشاںرہا، ان کی جاذبیت و علویت پر واری ہوتارہا، اس کی رَگ رَگ میں ایک ہی تمنا جوش مارتی رہی اے کاش زمانے کی گردش آنکھ جھپکنے کی دیر میں بابرکت و نورانی موسم ِحج لائے کہ میںان مقدسات کی وسعتوں میں اُڑانیں بھروں ، ان میں کھوجاؤں، چہکوں پھدکوں ، ان کی بلائیاں لوں، ان کے فیضان سے اپنے کاشانۂ قلب میںایمان واَمان سے بھردوں ، ان سے روح کی کمائیاں کر کے دل و نگہ کی دنیا کے بازارمیں لٹا دوں۔ 
 میری دانست میں مکہ کی مقدس سر زمین کوئی آثار قدیمہ نہیں کہ ازمنہ ٔ رفتہ کی یادیںدلانے پراکتفا کر تی ہو بلکہ اس کا چپہ چپہ اسلام کا رواں درس ہے ، ایمان کی بہار ہے، نیک عملی کا زندہ و تابندہ نمونہ ہے، عالم اسلام کی اجتماعیت کا مجموعہ ہے اور سب سے بڑھ کر یہ ایک چمکتا دمکتا  خدائی بازار ہے جہاں ہم نیک عملی کے سکے سے ایمان کی خوش خرید کر سکتے ہیں ۔ سچ پوچھئے توان حوالوں سے مکے کی زیارت ایک عظیم سعادت کے ساتھ ساتھ دولت دل لوٹنے لٹانے کا ایک دلکش و حسین بہانہ بھی ہے جو خداورسول صلی اللہ علیہ و سلم پر فدا ہونے کا قرینہ سکھلاتی ہیں۔ علمائے کرام کہتے ہیں کہ زائر کےلئے یہ تقدس مآب سرزمین زیارت برائے زیارت نہیں بلکہ یہاں گوشے گوشے کا عاشقانہ وعارفانہ دیدار کر نے سے مومن کے شجر ایمان میں ایک جانب اللہ کی طاعت اور قربت کی سدا بہارکونپلیں پھوٹنی چاہیے ، دوسری جانب پیغمبرآخرالزماں صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت واتباع لہو بن کررَگوں میں دوڑنی چاہیے۔ 
   اللہ نے ہمیں سیر وفی ا لارض( تفصیلات کے لئے ملاحظہ ہو سورہ آل عمران آیت۷ ۱۳، سورہ یوسف آیت ۱۰۹) یعنی’’ زمین میں گھو مو پھرو ‘‘ کی فہمائش کی ہے مگرمومن زمین کی سیر وسیاحت محض تفریح ِطبع کے لئے نہیں کرتا بلکہ اخذو ستفادے یا درس ِعبرت وموعظت کے لئے ہی مسافرت اختیا ر کرتا ہے۔ سورہ کہف میں حضرت موسیٰ ؑ اور اللہ کے بندہ ٔ خاص ( خواجہ خضرؑ) کی سفری مصاحبت اس کی ایک بڑی مثال ہے ۔ یہ قرآنی قصہ ہماری آنکھوں کو مفاہیم ِاور مقاصد حیات کی شاہراہ کا راہرو ہی نہیں بناتا بلکہ راز ِ حیات کے ظاہر وباطن کا دیدار بھی کرا تاہے ۔ بہرصورت مومن کے لئے سیاحت اور شرعی حدود میںزیارت ایک ایمان افروز شغل اور شوق ہے لیکن سرزمین ِ حرم کی سیاحت و زیارت ایک ایسی وسیع الجہت عبادت ہے جس سے ایمان حلاوت آشنا اور یقین رمز شناس ِقدرت ہوجاتاہے ۔ اس زیارت سے کس طرح کی حیات بخش کیفیات دل میں موجزن ہونی چاہیے، یہ اس راہ کے وارستہ مزاجوں کے شوق ِ بے پرواہ سے ہی پوچھئے۔ سیرتِ پاکؐ ، سیرتِ صحابہؓ، علمائے رُبانین اور صلحاء واتقیاء کی سرگزشتیں بھی اس بارے میں ہماری وافر رہنمائی کر تی ہیں ۔ اس موضوع پر چند مثالیں حافظے کی تختی سے پھسل کر قلم کی گرفت میں آرہی ہیں۔ پہلی مثال ہادی کون ومکانؐ سے متعلق ہے ۔ جب غار ِثور کی کمیں گاہ سے نکل کر آپؐ اپنے رفیق ِسفر سیدنا ابوبکرؓ اور دلیل ِ راہ کے ہمراہ بسوئے مدینہ سفر ہجرت پر تشریف لے گئے تو پہلے ہی دن اس سہ رُکنی قافلے کا گزر قوم خزاعہ کی ایک نیک بخت بڑھیا اُم معبدکے خیمہ سے ہوا۔ یہ خاتون مسافروں کو پانی پلاتی  اور ان کی خبرگیری کر تی ۔ اس کا شوہر اپنا ریوڑ چرانے کے لئے کہیں گیا ہوا تھا کہ یہ تینوں اصحاب شدید پیاس محسوس کر تے ہوئے خیمہ کی مالکن سے پانی مانگنے لگے مگر غریب بڑھیا کے خیمے میں ایک قطرہ  ٔ آب بھی موجود نہ تھا ، بس ایک مریل سی بیمار بکری کے سوا کوئی اور سوداسلف بھی نہ تھا کہ انجانے مہمانوںکی مہمان نوازی کرتی۔ آپ ؐ نے پیاس بجھانے کے لئے اُمِ معبد سے یہ دُبلی پتلی بکری بہ اجازت منگوائی ۔ خاتون نے ازراہِ ترحم آپ ؐ کو بکری پیش کی ۔ آپ ؐ نے رازق و کریم رب کا نام لے کر بکری کے سوکھے تھنوں سے دودھ دہونا شروع کیا۔ اُ م معبد اور آپ ؐ کے دونوںرفقائے سفر حیران وششدر ہوئے کہ بکری سے ایک اتنی کافی مقدار میں دودھ حاصل ہوا کہ برتن لبریز ہوا ،اہل قافلہ نے شکم سیر ہوکر دودھ نوش فرمایا مگر پھر بھی اُم ِمعبد کے اہل خانہ کے لئے خاصی مقدار میں دودھ بچا رہا۔ بڑھیا کا خاوند گھر لوٹ آیا توخیمے میں دودھ کا مٹکا بھراپُرا پاکر تعجب و تحیر سے اُم ِ معبد سے پوچھا کہ اتنا دودھ کہاں سے آیا؟ بڑھیا نے ساراماجرا کہہ سنایا۔ شوہر نے تجسس سے پوچھا ذرا اُس خوش خصال صاحب قریش کا ناک نقشہ بتاؤ۔ اُم معبدؓ کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ اس کے خیمے میں کائنات کی کون سے عظیم ترین ہستی جلوہ نما ہوئی تھی جس کی زیارت سے وہ سرفراز ہوئی۔ دیدارِ رسول ؐ کا جو شرفِ لامثال بزرگ خاتون نے پایا ،اب اس کی تشریح میں آپؐ کے خط وخال کی تصویر کھینچی کہ آج بھی اس کی روشنی میںہم چشم ِبصیرت کھول کر شمائل رسول ؐ سے آشکارا ہوسکتے ہیں، فرمایا : وہ پاکیزہ رُو، کشادہ چہرہ، پسندیدہ خُو، نہ پیٹ باہر نکلا ہو انہ سر کے بال گرے ہوئے ، زیبا، صاحب ِ جمال، آنکھیں سیاہ وفراخ ،بال لمبے اور گھنے ، آواز میں بھاری پن ، بلند گردن ، روشن مردمک، سر مگیں چشم ، باریک وپیوستہ ابرو، سیاہ گھنگھریالے بال ، خاموش وقار کے ساتھ گویا دل بستگی لئے ہوئے ، دور سے دیکھنے میںزیبندہ ودل فریب ، قریب سے نہایت شریں وکمال حسین، شریں کلام، واضح الفاظ، کلام کی کمی بیشیٔ الفاظ سے معرا، تمام گفتگو موتیوں کی لڑی جیسی پروئی ہوئی، میانہ قدکہ کوتاہیٔ نظر سے حقیر نظر نہیں آتے ، نہ طویل کہ آنکھ اس سے نفرت کر تی ، زیبندہ نہال کی تازہ شاخ، زیبندہ منظر والا قد ، رفیق ایسے کہ ہر وقت( قافلے والے ) اس کے گرودوپیش رہتے ہیں ، جب وہ کچھ کہتا ہے تو چپ چاپ سنتے ہیں ، جب حکم دیتا ہے تو تعمیل کے لئے جھپٹتے ہیں ،مخدوم ، مطاع، نہ کوتاہ سخن نہ فضول گو ‘‘ ۔اُم معبد کا شوہر بولا یہ ضرور صاحب قریش ہیں، میں اس سے ضرور جاکر ملوں گا ۔ مکہ سے باہر بدوی قبائل آپؐ کو اسی اسم مبارک سے یاد کرتے ۔۔۔ماخوذ از :رحمتہ اللعالمینؐ۔ قاضی محمد سلیمان سلمان پوری ؎
حُسنِ یوسفؑ دمِ عیسیٰؑ، یدِ بیضاء داری
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو  تنہا داری    
  ماشاء اللہ اُمِ معبد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صرف ایک ہی نوربیز جھلک پائی تو ساری کائنات میں جمال کے یکتاپیکر اور حسانت کے واحدمجسمہ کا سراپا ان دل نشین لفظوں میں پیش کیا۔ زیارت کا حق اداکر نا اسی کوکہتے ہیں کہ اس مرقع ٔدلبری و زیبائی سے آپ ؐ کی شکل و شمائل کا ایک ایک زاؤیہ نگاہوں کے سامنے اُجاگر ہوتا ہے ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ( اصل نام عبدالرحمن بن صخر اور کنیت ابو ہریرہ ) نے مدینہ میں جنگ خیبر کے وقت اسلام قبول کیا ۔ بقول حضرت سعید بن مسیب ؓ جناب ابوہریرہ ؓیہودیوں کے خلاف اس فیصلہ کن معرکے میں پیغمبر اسلام ؐ کے ساتھ رہے۔ نادار ومفلوک الحال تھے، پہلے گھر کی بکریاں چرایا کر تے تھے ، ایک پیاری سے بلی بھی پال رکھی تھی۔ رات کو اسے ایک درخت کے پا س چھوڑ آتے ، صبح ہوتے ہی واپس لاتے اور اسی سے دن بھر کھیلا کرتے ۔ اسلام لانے کے بعداصحاب ِ صفہ میںسر فہر ست تھے، دنیا کے کام کاج سے کوئی دلچسپی نہ تھی، ہمہ وقت دربارِ نبوی ؐ میں آپ کی زیارت سے سر فراز ہوتے رہتے، آپ ؐ کے آگے پیچھے ، دائیں بائیں سائے کی طرح لگے رہتے ۔ایک لمحہ بھی اپنی آنکھ آپ ؐ کے روئے نازنین سے ہٹانے سے تامل تھا۔ فرماتے ہیں : تم لوگ کہتے ہو اباہریرہ رسول اللہ ؐ سے زیادہ حدیثیں بیان کر تا ہے، اللہ کے حضور حاضری دینی ہے ، میں ایک لاچار و مسکین شخص تھا، کھانے پینے کے بعد رسول اللہ صلعم کے لگا رہتا تھا ، مہاجرین کو بازاروں کی خریدو فروخت مشغول رکھتی تھی اور انصار اپنے باغات کی دُرستگی میں مشغول رہتے تھے اور میں رسول اللہ ؐ کی مجلس میں حاضر رہتا تھا۔ آپ ؐ نے فرمایا ’’کون ہے جو اپنی چادر پھیلائے گا تاکہ میں اس میں اپنی بات ڈال دوں اور پھر وہ اسے سمیٹ لے ، کبھی بھی مجھ سے سنی ہوئی بات نہیں بھولے گا‘‘۔چنانچہ میں نے اپنے اوپر چادر پھیلادی، یہاں تک آپ ؐ نے اپنی بات مکمل کی، پھر اس کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ ا س ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے میں نے آپ ؐ سے سنی ہوئی بات پھر کبھی نہ بھولی(بخاری کتاب البیوع)۔ اس مستقل عاشقانہ زیارت میں حُب ِرسول ؐ ہی کارفرما نہ تھی بلکہ اس کے پیچھے ایک منشائے الہٰیہ بھی تھا کہ نبی ٔ آخرالزماں ؐ کے اقوال، افعال اور احوال کا ایک مستند ومعتبرریکارڈ بزبانِ ابوہریرہ ؓدنیا کے لئے محفوظ رہے ۔ اصحابِ صفہ کے گروہ میں اس حال مست صحابہ ؓ نے زیارتِ رسولؐ کے پل پل کا فائدہ اُمت میں کشادہ دلی سے بانٹا کہ اُمت تاقیامت ان کی مرہون ِ منت ر ہے گی ۔ 
 ہندوستان میں نول کشور نامی ایک ہندو کا لکھنو میں اپنا ایک طباعتی ادارہ تھا جس کی بیش قیمت علمی و ادبی خدمات کا اب بھی کوئی مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ا س ا دارے نے اردو وفارسی کتابوں کی طباعت واشاعت میں فی الواقع ہراول دستے کا کام کیا ۔ قرآن مجید کی طباعت میں بھی اس کاخاص کردار رہا ۔ اس کام کی انجام دہی میں نول کشور نے نہ صرف ماہر فن حفاظ اپنے ادارے میں تعینات کئے تھے بلکہ تعظیم ِقرآن کا یہ اہتمام تھا کہ طباعت سے وابستہ عملے پرہمیشہ  باوضو ہوکر کام کر نے کی ذمہ داری عائد تھی۔ ان دنوں قرآنی آیات کی خطاطی و کتابت ہاتھوں سے کی جاتی تھی، لتھو پرنٹنگ کی جو تختیاں اس کے لئے بنائی جاتیں ان کو دھونے کے لئے ایک الگ سے حوض بنایا گیا تھا تاکہ اس پانی کی ناقدری نہ ہو ۔ یہ پانی اسی خوض میں پڑا رہ کر خشک ہوجاتا تھا ۔ نول کشور کی یہ ساری ا حتیاطیں قرآن کے تقدس کا خاص خیال رکھنے پر مر تکز تھیں۔ اس قابل ِتعریف ناشرو طابع کی ایک اورخصوصیت یہ بھی تھی کہ اپنے فرزند کو عرب ، مصر اور عراق سے چن چن کر اچھی علمی کتابیں لانے کے لئے روانہ کرتا جنہیں پھریہ اپنے چھاپ خانے میں زیورِ طباعت سے آراستہ کر تا۔ ان کا فرزند اسی سلسلے میں عراق گیا ہو اتھا کہ اتفاق سے وہاں آئے سیلاب کی وجہ سے دو شہیدصحابہ ؓ  حضرت خذیفہ بن الیمانؓ اور حجرت جابر بن عبداللہ ؓ کے مرقد سیلابی پانی سے کھل گئے تھے ۔ عراقی حکومت نے سرکاری سطح پر ان دو اصحاب ِ رسول ؐ کی میتیں نکال کر کسی دوسری موزوںجگہ دفن کرنے کا فیصلہ لیا ۔ بعض مسلم ملکوں نے بھی حکومت عراق سے اس کار خیر میں شرکت کر نے کی اجازت طلب کی ۔ اتفاق سے یہ ذوالحجہ کا مہینہ تھا اور بہت سارے حجاج کرام نے اس کارروائی کو تکمیل ِحج تک موخر کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ وہ بھی ان دو صحابیوں ؓ کی زیارت کا فیض حاصل کرسکیں، چنانچہ بشمول ایک جرمن فلم ساز کمپنی کے دنیا بھر کے غیر مسلم بھی قبر کشائی کا منظر دیکھنے کے لئے جوق درجوق عراق پہنچے۔ نول کشور کے بیٹے نے بھی اس معاملے میں دلچسپی لی۔ بہر حال حج کے بعد ہزاروں لوگوں کی نگاہوں کے سامنے یہ قبریں کھولی گئیں ، لوگ مدفون صحابہ ؓ کی زیارت کے لئے ایک ودسرے پر ٹوٹ پڑے ۔ تمام زائرین و ناظرین یہ دیکھ کر حیران رہے کہ دونوں میتیں تروتازہ تھیں ، اُن کے اعضاء وجوارح پر تازہ خون موجودتھا اور آنکھیں کھلی کی کھلی تھیں۔بر سر موقع پر ماہرین چشم ڈاکٹروں نے ان کا تجزیہ کرکے تسلیم کیا کہ شہید صحابہؓ کی آنکھوں میں بصارت کا نور ابھی بھی باقی ہے ۔ عقل کو دنگ اور دل کی دنیا ایمان کے نور سے آباد کر نے والی اس زیارت سے بہت سارے لوگ فوراً مشرف بہ اسلام ہوئے۔ نول کشور کے بیٹے کو بھی ان دوصحابہ ؓ کا دیدار نصیب ہوا تو وہ بھی  اوروں کی طرح دامن گرفتۂ اسلام ہو ا ۔ البتہ باپ کی ناراضگی کی پیش بینی کر کے وہ عراق میں ہی مقیم رہا ، پھر جب پاکستان معرض ِ وجود میں آیا تو کراچی کا اپنا مستقل مستقر بنا لیا۔ یہ ایمان افروز واقعہ 1935-36 ء میں وقوع پذیر ہو ا ۔ کسی زیارت سے اپنے لئے سعادت وعقیدت کا رس نچوڑ لینا اور فائدہ اُٹھانا اسے کہتے ہیں ۔ قابل توجہ بات یہ بھی ہے کہ شہید صحابہؓ نے کہیں ایک خوش نصیبوں کو ایمان کی دولت سے مالامال کیا۔
آج کل مقامات ِحج کی زیارت کوئی مشقت طلب کام ہے ہی نہیں ، حاجی صاحبان اور معتمرین کسی بھی ائرکنڈشن گاڑی یا ٹیکسی میں دو تین گھنٹے گھوم کر اُن کا فیض اُٹھاتے ہیں لیکن ذرا اس قدیم دور کا تصور کیجئے جب یہ جدید سہولیات سرے سے ہی میسر نہ تھیں اور العطش العطش کر تے ہوئے زائرین اور عازمین ِحج ان زیارت سے اپنی آنکھوں کی تراوت حاصل کر تے اور روح کی تشنہ کامی دور کرتے۔ اُنہی خوش نصیب لوگوں پہ یہ شعر صادق آتا ہے   ؎
 برہنہ سر ہے تو عزم ِ بلند پیدا کر
 یہاں فقط سرِ شاہیں کے واسطے ہے کلاہ 
  ……………………….
 نوٹ : بقیہ اگلے جمعہ ایڈیشن میں ملاحظہ فرمائیں ، اِن شاء ا للہ