نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!۔۔۔ قسط ؛72

  مکہ معظمہ کی زیارات پر حاضری دینے کی سعادت حاصل کر نے کے لئے گاڑی کا رُخ اب مقدساتِ حج کی جانب تھا۔ حج کے مناسک ۸ ؍تا ۱۳؍ ذی ا لحجہ پانچ روز ہ دورانیہ میں ادا ہوتے ہیں ۔ حج کاپہلا پڑاؤ منیٰ ہے جو مسجد حرام سے مشرق کی جانب تقریباً ۷ کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ پہاڑوں کی گود میں تاحد ِنظرآباد یہ حسین و جمیل خیمہ بستی ایک وسیع وعریض وادی کا دلرباصحرائی منظر پیش کر تی ہے ۔ بعض اہل ِزبان کہتے ہیں کہ منیٰ کے لغوی معنی بہناہے ۔ چونکہ ایامِ حج میں یہاںقربانی کے جانوروں کا خون بے تحاشہ بہتا ہے ،ا س لئے اسے منیٰ کے نام سے پکاراجاتاہے مگر کئی اہل ِعرب کہتے ہیں کہ منیٰ سے مراد وہ جگہ ہے جہاں ایک جم ِغفیر جمع ہو۔ چونکہ موسم حج میں لاکھوں کی تعداد میں اس خیمہ بستی میں حاجی صاحبان مناسک ِحج کی ادائیگی کے ضمن میں چند روزہ قیام کرتے ہیں ، اسی سے مناسبت سے اس جگہ کا نام منیٰ پڑا ہے۔ مکہ سے یہاں ایک لمبی سرنگ جاتی ہے،اس سے گزر کر منیٰ جائیے تو مسافت صرف ۴ ؍کلومیٹر بنتی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قربانی کا فریضہ مروہ کی پہاڑی پر ادا کیا تھا،ا س لئے شروع شروع میں حج کی قربانیاں یہی پیش ہوتیںلیکن پیغمبر اسلام ؐ نے قربان گاہ کو وسعت بخشتے ہوئے فرمایا: ’’قربان گاہ مروہ اور پھر مکہ کی تمام گلیاں ہیں‘‘۔( موطا امام مالک ؒ )۔ خیر القرون میں حجاج کرام کی کثرت ہونے لگی تو حج کی مکانی توسیع لازم ہوگئی ، چناںچہ چند میل کی دوری پر منیٰ کی وادی میں قربان گاہ مقرر ہو ئی جہاں دنیا بھر سے آنے و الے حجاجِ کرام چودہ صدیوں سے متواتر فربہ گائے ، بیل ، بھیڑ بکری ، دنبہ ، اونٹ جیسے جانوروں کی قربانیاں پیش کرتے ہیں۔ 
زمانہ ٔ جاہلیت میں حج سے فراغت کے بعد عرب قبائل میں ایک گھٹیا رواج یہ بھی ہواکرتا تھا کہ یہ لوگ منیٰ میں ہجوم درہجوم کسی جگہ مجلس آرائی کر تے جس میں اپنے باپ دادا کی قصیدہ گوئی میں زمین وآسمان کے قلابے ملاتے ،بڑائی کی ڈینگیں مارتے، فخر ومباہات کا بے ہودہ مذاکرہ کر تے ۔ ان مجالس میں بسااوقات قبیلوں میں باہم دِگر شکر رنجیاں اورناراضگیاں پیدا ہوتیں ، بدکلامیوں کی نوبت آجاتی ، لڑائیاں پھوٹ پڑتیں ، تلواریں کھنچ جاتیں اور منافرتوں کی آگ بھڑک اٹھتی ۔ جب آسمان سے اسلام کا نور برسا تو مجسم ِصدق اور پیکر خلق ، پیام برا ُخوت اور مبلغِ اُلفت حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے جاہلیت کے ان اندھیاروں سے اہل اسلام کو نجات دلا ئی، حکم ہوا کہ وقوفِ منیٰ کو قبیلوں اور خاندانوں کی جھوٹی شان جتلانے یا ایک ودسرے کو نیچا دکھانے کے چرچوں میں ضائع نہ کرنا، بجائے اس کے اہل ایمان ذِکراللہ اور دعاؤں میں مشغول رہیں،باہمی محبت و مودت کی جوت جگائیں ، ایمانی برادری کا مظاہرہ کریں ، یکجہتی کا دامن پکڑیں ، مساوات کو بڑھا وا دیں، امت ِ واحدہ ہونے کا کامل اظہار کر یں ۔ حاجی صاحبان سے اللہ جل شانہ فرماتا ہے:اورگنتی کے چند روز ہیں جو تمہیں اللہ کی یادمیں بسر کرنے چاہیں، پھر جو کوئی منیٰ سے جلدی کر کے دوہی دن میں چلاگیا،ا س پر کوئی گناہ نہیں اور جودو دن سے کچھ زیادہ دیر ٹھہر کر پلٹا، اس پر بھی کوئی گناہ نہیں، بشرطیکہ اس نے یہ دن تقویٰ شعاری کے ساتھ بسر کئے ہوں۔(البقرہ۔۲۰۳)
بالفاظ دیگر وقوف ِمنیٰ کی اصل اہمیت یہ نہیں کہ کوئی حاجی صاحب بارہویں کو مکہ معظمہ لوٹا یا تیرہویں ذی الحجہ کو پلٹا ،دونوں تاریخیں ٹھیک ہیں ،ا لبتہ اصل اہمیت اس امر کی ہے کہ قیام ِ منیٰ میں ایک مسلمان رب العزت کو راضی کرنے میں کامیاب ہوا؟ بالفاظ دیگر اس کے تعلق باللہ کا کیا حال رہا؟ کتنے افسوس کی بات ہے کہ منیٰ میں جہاں دوران ِ حج چہار سُو ایمان افروز مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں، بسااوقات بعض خلوص دل والے (مگر کم فہم) حضرات بلاسوچے سمجھے مسلکی تعصبات اور فقہی موشگافیوں میں پڑکر قصرنمازوں کے وجوب اورعدم وجوب کی بحثوں میںا ُلجھ کر بدمزگی پیدا کر جاتے ہیں ۔ انا اللہ وانا الیہ راجعون ۔ ان اختلافی مسائل سے مکمل طور دامن بچا نا چاہیے کیونکہ فریضہ ٔ حج کی قبولیت کی شرائط میں جہاں حاجی کو تعلقات زَن وشو سے اجتناب برتنے کا مکلف بنایا گیا ہے ، فسق و فجور سے کلی ممانعت کی گئی ہے ،و ہیں بحث وجدال سے قطعی پرہیز کا بھی حکم دیا گیا ہے ۔
 منیٰ کی جانب بڑھتے ہوئے ہمارے ملتانی گائیڈ نے ایک جگہ ہماری تو جہ ایک پہاڑی کی طرف پھیرلی جہاں ایک چھوٹا سا ستون بنا ہو ا ہے ۔اس ستون کے بارے میں موصوف نے کہا کہ یہ نشان زدہ جگہ وہ مقدس مقام ہے جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے فرزند دلبند حضرت اسماعیل علیہ السلام کو پیشانی کے بل زمین پر لٹاکر از رُوئے حکم ِالہٰی قربان کرنے کی سعی کی ۔ یہ سننا تھا کہ شوق کا پنچھی اس مقام کی جاذبیت اور تقدس پرو اری ہو نے لگا۔ اس کی نگاہوں کے سامنے دفعتاًانسانی تاریخ کا وہ نادرالوقوع منظر رقصاں ہو ا جب معماران ِ کعبہ اللہ جل شانہ کے حکم کی تعمیل بلاکسی ادنیٰ تامل کرتے ہیں۔تسلیم ورضا کی اس فقیدالمثال واقعہ کی یاد میں کوئی سات آسمان چھونے والا ستون بھی یہاں نصب کیا جائے تو بھی اسوہ ؐ ابراہیمی ؑ کے تمام رموزِ عشق کا احاطہ ممکن نہیں۔ وطن سے ہجرت سے لے کرامام الناس بننے تک قدم قدم پر آپ ؑ کی پیغمبرانہ سیرت یکے بعد دیگرے قربانیوں کا مرقع پیش کرتی ہے۔ اسلام میں یہ کتنا عظیم ترین تاریخی واقعہ ہے کہ اُ دھر ایک عمر رسیدہ باپ اپنے جگر گوشے کی چڑھتی جوانی کو اللہ کے حکم سے اُسی کی راہ میں بخوشی قربان کررہاہے ، اِدھر عنفوانِ شباب میں ڈھلنے والا بیٹا اپنے والد بزرگوار سے بلا ججھک کہہ رہاہے۔ میرے خالق ومالک کی خوشنودی میں میرا گلا حاضر ہے ، اباجان ! وہی کیجئے جو اللہ کاحکم ہے،اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابرین میں سے پائیں گے ۔ قربانی کا یہ سلسلہ دونوں باپ بیٹے کے لئے ایک بہت کڑا امتحان ہے مگر صدقے جایئے خلیل اللہ ؑ اور ذبیح اللہ ؑکے کہ اول الذکر کسی ادنیٰ پس وپیش کے بغیر حکم ِخداوندی کے عین مطابق خنجر تھامتے ہیں اور موخر الذکر خوشی خوشی اللہ کی راہ میں اپنا گلا پیش کرتے ہیں۔ اس ہوش رُبا آزمائش کا مرحلہ پورا ہو نے کی دیر ہے کہ رحمن ورحیم اللہ نہ صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بس کر نے کا حکم دیتا ہے بلکہ اُسی وقت جنت سے دُنبہ بھیج کر اُسی کی قربانی پیش کر نے کی ہدایت بھی دیتا ہے۔اتنا ہی نہیں بلکہ پھر تاقیام قیامت فریضۂ قربانی دنیا بھر میں پھیلی ہوئی اُمت مسلمہ پر واجب کردیتا ہے۔ شوق کا پنچھی پیغامِ قربانی کی گہر ائیوں میں اُترکراخذ کر لیتا ہے کہ اسلام میں جانوروں کی قربانی کسی مذہبی رسم کی خانہ پُری نہیں بلکہ جہاں یہ عشق ِخداوندی سے عبارت ایک عمل صالح ہے ، مگر قربانی کے جانور کا خون اور گوشت اللہ کو مطلوب نہیں بلکہ قربانی سے وہ بندگانِ خدا میں اپنائیت کا رشتہ استوار کرتا ہے اور سماج میں اسے تکریم ِانسانیت کی خوشبوئیں پھیلانے کا موجب بناتاہے۔ بنا بریں قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ہدایت دیتا ہے کہ منیٰ میں قربان کئے گئے جانوروں کا گوشت خود بھی کھانا،ساتھ ہی مصیبت کے ماروں ، دین دُکھیوں، فاقہ مستوں کو بھی کھلانا۔ فرمان ِ خدواندی ہے : اور چندمقررہ دنوں میں ان جانوروں پر خدا کانام اس پر لیں جو جانور خدا نے انہیں بخشے ہیں، خود بھی کھائیں اور تنگ دست محتاج و فقیر کو کھلائیں۔( سورۂ حج : ۲۸)
 عہد جاہلیت میں لوگ قربانی کا گوشت خود تناول کرنا ممنوع سمجھتے تھے جب کہ اسے اوروں کوکھلانا پسندیدہ عمل سمجھا جاتا کہ اس سے اعانت ِغرباء اور امدادفقراء کا ثواب ملتا ہے ۔ قرآن کا منشا ء یہ ہے کہ قربانی کا گوشت خود کھانے پر کوئی پابندی نہیں، نہ اسے اپنے عزیزواقارب، دوست احباب میں تقسیم کر نا غلط ہے چاہے وہ محتاج ہوں یا صاحب ِثروت مگر عام محتاجوں اور مساکین کو ا س تقسیم کاری میں فراموش نہ کیا جائے بلکہ انہیں کھلانے کا ایک ٹھوس مقصد ہے کہ اسلامی معاشرے کے تمام کل پرزوں میںایک دوسرے کے تئیں اخلاقی ذمہ داریوں کا احساس ہمہ وقت قلب وذہن میں بسا رہے ۔ افسوس صد افسوس! کہ منیٰ میں نہ سہی مگر اپنے سماج میں ہم قربانی کے گوشت کی ا س خدائی تقسیم سے کوسوں دور ہیں ، الا ماشاء اللہ  
منیٰ میں بہت ہی عمدہ ، دیدہ زیب، فائر پروف اور ائر کنڈیشن خیموں کی یہ خوب صورت دنیا قابل دید بھی ہے اور قابل داد بھی ۔ ہم جب اس کی زیارت کر رہے تھے تو یہ دنیا ایک خزاں رسیدہ، خاموش اور نوع انسانی سے خالی بستی کا ویران منظر پیش کر رہی تھی لیکن موسم حج کا بگل بجتے ہی یہاں چپے چپے پر یک بہ یک بہاریںچھاکر اپنی جوبن پر آجاتی ہیں ، دنیا کی وہ کون سی پاک ومطہرچیز ہے جو ایامِ حج کے دوران یہاں بے حدوحساب حاجیوں کوفراہم نہیں ہوتی۔ حج کی خوش بخت وسعادت مند گھڑیوں میں منیٰ کے شرق وغرب ، یمین ویسار میں زندگی کی تمام تر جدید سہولیات بے حدو حساب ڈیرا ڈالتی ہیں کہ ظاہر بین نظروں میں یہ یقین کر نا مشکل ہوتا ہے کہ صرف تین روز بعد یہاں پھر ہو کا عالم ہوگا ۔ ایام ِ حج میں اس روح پرور بستی میںٹھنڈے پانی اور بجلی کے ساتھ ساتھ نکاسی کا بہترین نظام دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے ۔ عارضی بازاروں کی چہل پہل کے کیا کہنے، ان میں ہر وقت تازہ تازہ میوہ جات اور اشیاء ضروریہ کا اتنا وافر ذخیرہ ہوتا ہے کہ دیکھ کر آدمی حیرت میں پڑجاتا ہے ۔ مختلف قوقوں اور ملکوں سے تعلق رکھنے والے حجاج کرام کی روز مرہ ضررویات کوئی چیز ایسی نہیں جو انہیں یہاںدستیاب نہیں ہوتی ۔حاجی الحرمین  وادی ٔ منیٰ کی چکاچوند کرنے والی اس گہماگہمی اور چہل پہل میں یہ ابدی حقیقت کبھی نہ بھول نہ جائیں تو فبہا کہ جسے علامہ اقبالؒ نے یوں الفاظ کا جامہ پہنایا ہے  ع
 جہاں ہے تیر لئے تو نہیں جہاں کے لئے 
   نوٹ : بقیہ اگلے جمعہ ایڈیشن میں ملاحظہ فرمائیں ، اِن شاء ا للہ