نزلہ زکام میں کھانے پینے کی غذائیں! | بچوں کو کھانسی سے کیسے بچایا جائے؟

نزلہ زکام دنیا بھر کے لوگوں کو درپیش سب سے عام مسئلہ ہے۔ اگرچہ سال کے دوران کسی کو بھی عام سردی لگ سکتی ہے لیکن سردیوں کے موسم میں ہمیں اپنی اضافی دیکھ بھال کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک عام زکام ناک اور گلے میں ایک وائرل انفیکشن ہوتا ہے۔ یہ سانس کی نالی میں بڑے پیمانے پر تکلیف کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کی علامات جو ایک ہفتے کے لگ بھگ رہ سکتی ہیں، اُن میں نزلہ، گلے میں خراش، کھانسی، چھینکیں اور بخار شامل ہیں ماہرین کاکہنا ہے کہ کھانے کی کچھ اشیاء ایسی ہیں جو عام نزلہ زکام کو روک سکتی ہیں۔عام نزلہ زکام سے جلد صحتیاب ہونے کیلئے ماہرین کچھ غذائیں بتا رہے ہیں۔مثلاًہلدی ،سائٹرس پھل،چاٹ ،دہی ،لہسن و ادرک،سالمن ،گری دار میوے وغیرہ۔ 
موسم سرما کی خوراک میں میٹھی، نمکین اور کھٹی غذاؤں کے ساتھ ساتھ گرم، اچھی طرح سے پکے ہوئے کھانے کو شامل کرنا نظام ہاضمہ کو درست طریقے سے کام کرنے کے لیے ایک بہترین آئیڈیا ہے۔ سردیوں میں چکنائی، تیل کے ساتھ ساتھ تازہ دودھ کی مصنوعات کے استعمال کی بھی سفارش کی جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سرد موسم جسم کی گرمی کو برقرار رکھنے اور محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہے، اس طرح نظام ہاضمہ کو بہتر طریقے سے کام کرنے میں مدد ملتی ہے۔دیگر غذائی اشیاء جو سردیوں کے دوران کھائی جا سکتی ہیں ان میں مختلف قسم کی پھلیاں ہیں لوبیا، مونگرے، دالیں جو کہ کسی کے جسم میں گرمی بڑھاتی ہیں، گندم اور چاول جیسے اناج۔ گرم مشروبات جیسے سوپ، نیم گرم پانی اور مختلف قسم کی چائے خاص طور پر ادرک کی چائے کو بھی بہت فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق سردیوں کی خوراک میں شامل کیے جانے والے کھانے کو وسیع پیمانے پر درج ذیل میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ماہرین سردیوں میں ہماری خوراک میں قدرتی دودھ کی مصنوعات، چکنائی اور تیل (تل یا سرسوں کا تیل) شامل کرنے کی سفارش کرتے ہیں تاکہ گرمی کو برقرار رکھا جا سکے اور جسم کے ہاضمے کے عمل کو آسان بنایا جا سکے۔ سردیوں میں گرمی کی کمی کی وجہ سے ہمارا جسم سستی کا باعث بن سکتا ہے اور اس کے علاج کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ایک بھرپور اور گرم جوشی پیدا کرنے والی غذا کھائیں، جس میں اچھی چکنائی شامل ہو۔گرم اور اچھی طرح پکی سبزیاںکااستعمال، گرم گرم شوربے اور سوپ وغیرہ پینا چاہئے۔ جو صرف مزیدار موسمی سبزیوں جیسے گاجر، مٹر، چقندر، شلجم اور پتوں والی سبزیوں سے تیار کیے جاتے ہیں۔ موسم سرما میں روزانہ سوپ اور گرم کھانا کھانے سے بھی ہماری صحت اچھی رہتی ہے۔  یہ کوئی معمہ نہیں ہے کہ سردیوں کے دوران جمنے والے درجہ حرارت کو ریکارڈ کرنے والے مقامات کے لوگ خشک میوہ جات کو اپنی غذا کا مستقل حصہ کیوں بناتے ہیں۔ خشک میوہ جات میں صحت کے بے شمار فوائد ہیں، یہ دماغ کو تیز رکھنے اور یادداشت کو بہتر بنانے میں مدد کرتے ہیں لیکن یہ انسان کو اندر سے گرم رکھنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔ گری دار میوے جیسے کاجو، پستہ، کھجور، بادام، اخروٹ اور ان کا تیل حیرت انگیز صحت کے فوائد رکھتا ہے اور سردیوں میں جسم کو چست و توانا رکھتا ہے۔
سردیوں کے آتے ہی جہاں متعدد موسمی بیماریاں ہر عمر کے فرد کو گھیرنے لگتی ہیں وہیں بچے سب سے پہلے اِن کا شکار ہوتے ہیں ، موسم سرما میں بچوں کو اگر صرف دو اجزا کا مرکب بنا کر چٹا دیا جائے تو اِن کی سردیاں باآسانی، سکون و آرام سے گزر سکتی ہیں۔ہم صدیوں سے اپنے گھر میں موجود بڑے بوڑھوں کو گھریلو ٹوٹکوں کے ذریعے موسمی بیماریوں  سے بچاؤ اور اس کے علاج کی تدابیر کرتے دیکھتے بڑے ہوئے آرہے ہیں، گھر میں بڑے بزرگوں کے ہوتے ہوئے بھی اگر ذرا سی بات کے لیے ڈاکٹر کے پاس جانا پڑے تو سمجھ لیں گھر میں موجود اِن تجربہ کار افراد کی مدد نہیں لی جا رہی ہے۔نانی، دادیوں سمیت جڑی بوٹیوں سے علاج کرنے والے طبیبوں کی جانب سے بھی قدرتی رس، صدیوں سے دوا کے طور پر استعمال کیے جانے والے شہد کو سو بیماریوں کا علاج قرار دیا جاتا ہے۔غذائی ماہرین کے مطابق شہد کی تاثیرگرم ہوتی ہے اور اگر اس میں ایک اور سپر فوڈ قرار دیئے جانے والا گرم مسالہ ’دار چینی‘  کا پاؤڈر بنا کر شہد میں شامل کر کے استعال کر لیا جائے تو بچوں سمیت گھر میں بڑوں کو بھی گلے کی خراشوں، کھچ کھچ، خشک کھانسی اور نزلہ، زکام سے بچایا جا سکتا ہے۔ماہرین کی جانب سے تجویز کیے گئے طریقے کے مطابق 1 حصے شہد میں چوتھائی حصہ دار چینی کا پاؤڈر مکس کر لینے سے تیار ہونے والا مرکب ایک بہترین دیسی دوا کی صورت اختیار کر لیتا ہے جس کے فوائد اور نتائج متاثر کُن ثابت ہوتے ہیں۔اس مرکب کو بچوں کو سردیوں کے آغاز سے اختتام تک دن میں دو سے تین بار ضرور چٹائیں، اسے بطور دوا بڑی عمر کے افراد بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ہلدی سب سے زیادہ طاقتور قدرتی اینٹی سوزش مرکبات میں سے ایک ہے جسے آپ اپنی روز مرہ کی خوراک میں شامل کر سکتے ہیں۔ یہ قوت مدافعت کو بڑھاتی ہے اور ایک ناگوار وائرس جسم میں داخل ہونے کی صورت میں اینٹی باڈی کے ردعمل کو بڑھا سکتی ہے۔اسی طرح دہی میں ایک قسم کے بیکٹیریا ہوتے ہیں جو پروبائیوٹکس کا کام کرتے ہیں۔ یہ آنتوں کی صحت کو بڑھاتے ہیں جس کا مدافعتی نظام کے کام سے گہرا تعلق ہے۔ دہی بغیر کسی ضمنی اثرات کے عام زکام کی علامات کو کم کر سکتی ہے۔لہسن میں موجود ایلیسن قوت مدافعت بڑھانے والی خصوصیات کی وجہ سے سردی کو کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔ ادرک پیٹ کی خرابی کو کم کرنے میں مدد کر سکتی ہے، جو عام نزلہ زکام میں مبتلا ہونے پر ہو سکتا ہے۔جب عام نزلہ زکام ہوتا ہے، تو صحت مند کیلوریز کے ساتھ جسم کی پرورش کرنا ضروری ہوتی ہے۔ اگرچہ آپ کی بھوک کم ہو سکتی ہے، آپ گری دار میوے کھا سکتے ہیں۔ ان میں صحت مند کیلوریز ہوتی ہیں جن کی آپ کے جسم کو بیماری سے نمٹنے کے لیے ضرورت ہوتی ہے۔ گری دار میوے پروٹین، زنک اور سیلینیم سے بھی بھرپور ہوتے ہیں۔
(بچھوارہ،سرینگر)