نرگس۔۔۔ عظیم اداکارہ بہتر انسان

کشمیریلال ذاکر نے اپنے خاکوں کے مجموعے یاران تیز گام میں آخری گواہی کے عنوان سے نرگس کا خاکہ قلمبند کیا ہے۔نرگس کا اردو سے ایک خاص رشتہ رہا ہے ۔ منٹو نے بھی اپنے خاکوں کے مجموعے گنجے فرشتے میں نرگس کا ایک سوانحی خاکہ شامل کیا ہے جس میں انہوں نے نرگس کی زندگی کے بہت سے اَن دیکھے اور اَن چھوئے پہلووں پر روشنی ڈالی ہے۔ دبلی پتلی چھوئی موئی سی نرگس کو ایک بڑی اداکارہ نرگس بنتے ہوئے دکھایا ہے۔نرگس سے منٹو کی پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب گیارہ سال کی معصوم اور کمزور سی دکھنے والی نرگس اپنی ماں کی انگلی پکڑ کر فلموں کی نمائش کے موقع پر آتی تھی جس کا ذکر منٹو نے اس طرح کیا ہے:
"نرگس کو میں نے ایک مدت کے بعد دیکھا تھا۔ دس ۔گیارہ برس کی بچی تھی جب میں نے ایک دو مرتبہ فلموں کی نمائش عظمہ میں اسے اپنی ماں کی انگلی کے ساتھ لپٹی دیکھا تھا ۔ چندھیائی ہوئی آنکھیں ، بے کشش سا لمبوترا چہرا ، سوکھی سوکھی ٹانگیں ایسا معلوم ہوتا تھا سو کر اٹھی ہے یا سونے والی ہے مگر آنکھیں ویسی کہ ویسی تھیں ،چھوٹی اور خواب زدـہـ۔۔۔۔۔۔ بیمار بیمار۔۔۔۔میں نے سوچا اس رعایت سے اس کا نام نرگس موزوں اور مناسب ہے۔" ( گنجے فرشتے۔۔۔ازمنٹو)
دکھنے میں بیمار خواب زدہ آنکھوں اور بے کشش چہرے والی نرگس کی طبیعت میں میں کھلنڈراپن تھا، باربار ناک صاف کرتی مانو ازلی زکام کا شکار ہو،ایسی نرگس کے اندر بلا کی سنجیدگی اور خیالات میں گہرائی تھی جو ایک عظیم فنکار کے کردار کا جوہر ہوتی ہے۔تھوڑی سی بناوٹ اور اس میں خوبصورت ادائیگی کا بہترین سنگم تھیں۔ نرگس کو اس بات کا شروع سے ہی احساس تھا کہ مستقبل اسے ایک بڑی اداکارہ کے روپ میں بنتے دیکھے گا اور تاریخ اسے عظیم شخصیت کے طور پر یاد رکھے گی مگر اس کو اس بات کی نہ تو کوئی جلدی تھی اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی غرور، نرگس تو اپنی زندگی کا ہر پل کھل کر گزارنا چاہتی تھیں۔
منٹو سے نرگس کی دوسری ملاقت بہت ہی دلچسپ اور تجسس آمیز تھی۔ منٹو لکھتے ہیں کہ جن دنوں وہ فلمستان میں ملازم تھے اورگھر اکثر دیرسے آتے تھے ۔اس دن کام کم ہونے کی وجہ سے وقت سے پہلے گھر پہنچ گئے، جہاں کا نظارہ عام دنوں سے بالکل الگ تھا ، منٹو کو دیکھ کر ان کی بیوی اور سالیاں اس طرح خاموش ہو گئیں جیسے کسی ساز کے تار کو چھیڑ کر کہیں چھپ گئی ہوں ۔ایسا اس لئے تھا کہ منٹو نے ا س طرح خلاف توقع پہنچ کرنہ صرف ان کے کسی خاص پروگرام میں خلل ڈال دی تھی بلکہ ان کا راز بھی فاش ہونے والا تھا ۔ دراصل آج نرگس ان کے گھر آنے والی تھیں۔ مگر ان کی دوستی اس مقام تک کیسے پہنچی کہ آج اداکارہ نرگس ان کے گھر آ رہی تھیں، یہ سوال منٹو کے لئے چونکا دینے والا تھا۔ان کی بیوی اور سالیوں سے نرگس کا یہ تعلق بھی کم پر اسرار نہیں تھا۔ منٹو نے لکھا ہے کہ کس طرح ان کی غیر موجودگی میں ان کی سالیاں جو کہ آدھی گھر والیاں ہوتی ہیں ،پھر یہاں تو دو تھیں تو اس لحاظ سے پورا گھر ان ہی کا تھا، وقت گزاری کے لئے ٹیلی فون کا استعمال فراخدلی سے کرتی تھیں، اور جب کوئی نہیں ملتا تو رانگ نمبر گھما کر سامنے والے کو اپنی باتوں سے گھماتی تھیں۔ اس سلسلے میں ایک بار نمبر اداکارہ نرگس کو لگ گیا اور بات چیت کا سلسلہ چل پڑا۔ شروع شروع میں یہ تینوں خواتین اپنی پہچان چھپاکر بات کرتیں۔ کبھی گجراتی تو کبھی پارسی بنتی اور کبھی خود کو راولپنڈی کا بتاتیں، مگرچونکہ نرگس کی دلچسپی ان تینوں خواتین میں اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ وہ انکے فون کا بے صبری سے انتظار کرنے لگی تھیںاوراب وہ ان کی صحیح پہچان ان سے مل کر جاننے پر آمادہ تھیں ، لہٰذا سلسلۂ بات چیت سلسلۂ ملاقات میں تبدیل ہونا طے ہوا تھامگر منٹو نے وقت سے پہلے پہنچ کر ان کے طے شدہ پروگرام میں وقتی رکاوٹ ڈال دی تھی، ایک ڈر بھی تھا کہ منٹو کہیں ناراض نہ ہو جائیں مگر منٹو لکھتے ہیں کہ ان کی ناراضگی کا کوئی جواز بنتا نہیں تھا، اس لئے نرگس کو گھر تک پہنچانے کی ذ مہ داری منٹو کو دی گئی جو راستے میں کہیں بھٹک گئی تھیں۔ اس طرح نرگس سے اپنی دوسری ملاقات کا ذکرمنٹو نے ڈرامائی انداز میں کیا ہے جو بہت پر لطف بھی ہے۔ گیارہ سال پہلے والی اور آج کی نرگس میں بہت فرق تھا، ملاقات کے دوران ان کی ماں جدن بائی ملک کی الگ الگ ریاستوں کا ذکر کرتی رہیں، اس کے متعلق ان کی معلومات زیادہ تھیں مگر نرگس پورے وقت ان کی سالیوں کے ساتھ الگ کمرے میں الگ ہی موضوعات پر باتیں کرتی رہیں، جہاں وہ محض ایک عورت تھیں نہ کہ ایک اداکارہ، جو روز الگ الگ کردار میں الگ الگ مردوں کے ساتھ عشق لڑاتی نظر آتی ہیں، یہاں ان کی بات چیت کا موضوع ان کا گھر، ان کے شوق اور کانونٹ تک ہی محدود تھا ،ان باتوں میں فلمی دنیا کا کوئی دخل نہیں تھا۔
"ادھر ادھر کی باتوں کے بعد نرگس سے فرمائش کی گی کہ وہ گانا سنائیں۔ نرگس نے بڑی ہی معصومانہ بے تکلفی سے گانا شروع کر دیا ۔پرلے درجے کی کن سری تھی، آواز میں رس نہ لوچ۔میری چھوٹی سالی اس سے لاکھوں بہتر گاتی تھی مگر فرمائش کی گئی تھی وہ بھی بڑی پر اسرار اس لئے دو تین منٹ تک اس کا گانا برداشت کرنا ہو پڑاجب اس نے ختم کیا تو سب نے تعریف کی ، میں اور آپا سعادت خاموش رہے تھوڑی دیر کے بعد جدن بائی نے رخصت چاہی ، لڑکیاں نرگس سے گلے ملیں، دوبارہ ملنے کے وعدے وعید ہوئے، کچھ کھسر پھسر بھی ہوئی اور ہمارے مہمان چلے گئے، نرگس سے یہ میری پہلی ملاقات تھی"۔
اس دور میں فلموں میں کام کرنا اچھا نہیں مانا جاتا تھا اور منٹو کی بیوی کے خیالات بھی فلمی دنیا اور اس سے منسلک لوگوں کے بارے میں اس سے کچھ الگ نہیںتھے، مگر صرف نرگس سے ملنے سے پہلے تک، نرگس سے ملنے کے بعد ان کے خیالات نرگس کے تئیں بہت بدل گئے، ان کی نگاہ میں نرگس پہلے محض ایک اداکارہ تھیں جن کا کام اپنی ادائیں دکھا کر لوگوں کا من بہلانا تھا اور اپنے کردار سے لوگوں کے جذباتوں کو متحیر کرنا تھا، مگر نرگس سے ملنے پر ان کے ساتھ انکا سلوک ایک دوست یا ایک بڑی بہن جیساہو گیاتھا، جسے وہ طرح طرح کے مشورے دیتی نظر آئیں، مثلا انھیں کیا کھانہ چاہیے اور کس سے پرہیز کرنا چاہیے۔ وغیرہ وغیرہ۔ اس کے بعد ملاقاتوں کا سلسلہ چل نکلا، نرگس کا جب بھی دل چاہتا وہ منٹو کی بیوی اور سالیوں سے ملنے چلی آتیں، ان ملاقاتوں میں جو بات منٹو کے لئے قابل غور تھی وہ یہ کہ نرگس جب بھی ملتی ایک عام گھریلو عورت کی طرح جن میں خود کے اسٹار ہونے کا ذرا بھی نہ دکھاوا تھا اور نہ گھمنڈ۔ وہ ان لوگوںسے اس طرح ملتیں جیسے بہت پرانی سہیلیاں ہوں۔
منٹو کے خیال سے نرگس شروعاتی فلموں میں اداکاری کے جوہر سے نا آشنا تھیں، عشق کی ریس اور اسکول جانے کی ریس میں ہوئی تھکان میں انھیں فرق بعد میں معلوم ہوا، نرگس ایک لمبی ریس کا گھوڑا ثابت ہوئیں ،اس لئے ان کی ماں جدن بائی نے اپنے دونوں بیٹوں کے مقابلے اپنی بیٹی کی پرورش پر زیادہ توجہ دی اور کانچ کے چھوٹے اور نازک ریزوں کو جوڑ کر ایک نایاب ہیرا تراش کر فلمی دنیا کو دیا اور اس طرح اپنا ادھورا خواب بھی پورا کیا۔"نرگس کی اداکاری کے متعلق میرا خیال بالکل مختلف تھا ۔ وہ قطعی طور پر جذبات و احساسات کی صحیح عکاسی نہیں کرتی تھی، محبت کی نبض کس طرح چلتی ہے یہ اناڑی انگلیاں کیسے محسوس کر سکتی تھیں۔ عشق کی دوڑ میں تھک کر ہانپنا اور اسکول کی دوڑ میں تھک کر سانس پھول جانا دو مختلف چیزیں ہیں، میرا خیال ہے خود نرگس بھی اس کے فرق سے آگاہ نہیں تھی ،اس کے شروع شروع کی فلموں میں چنانچہ دقیقہ رس نگاہیںفورا معلوم کرسکتی ہیں کہ اس کی اداکاری یکسر فریب کاری سے معرا تھی۔" نرگس کی ہر ادا میں معصومیت تھی،جس دور میں فلموں میں کام کرنا معیوب سمجھا جاتا تھا انھوں نے اسے ایک پیشے کے طور پر منتخب کیا بلکہ فن اداکاری کو بلندیوں تک پہنچایا۔ اس سلسلے میں منٹو لکھتے ہیں :
"نرگس کو بہرحال ایکٹریس بننا تھا بن گئی اس کے بام عروج تک پہنچنے کا راز جہاں تک میں سمجھتا ہوں اس کا خلوص ہے۔جو قدم بہ قدم ، منزل بہ منزل اس کے ساتھ رہا۔" فلمی دنیا میں اتنی شہرت ،عزت اور بلندیاں حاصل کر نے کے بعد بھی نرگس میں ایک خالی پن تھا، زیادہ تر باتوں کا جواب وہ لفظوں کے بجائے مسکرا کر دینا پسند کرتی تھیں۔ منٹو نے لکھا ہے کہ ان کی بیوی بتاتی ہیں کہ حقیقت میں نرگس کی ہر بات میں الہڑپن تھا ، مگر وہ شوخی تیزی اور طراری اور تیکھا پن نہیں تھا جو پردے پر دکھتا تھا۔ایک طرف تو وہ بہت ہی گھریلو قسم کی عورت تھی مگر اس الہڑپنے کے پیچھے ایک اداسی چھپی رہتی تھی، آنکھوں میں ایک عجیب قسم کی بے رونقی کا سایہ تیرتا رہتا تھا۔ایک جگہ منٹو لکھتے ہیں:
"یہ قطعی طور پر طے تھا کہ شہرت کی جس منزل پر نرگس کو پہنچنا تھا وہ کچھ زیادہ دور نہیں۔ تقدیر اپنا فیصلہ اسکے حق میں کر کے تمام متعلقہ کاغذات اس کے حوالے کر چکی تھی لیکن پھر وہ کیوں مغموم تھی۔ کیا غیر شعوری طور پر وہ یہ محسوس تو نہیں کر رہی تھی کہ عشق و محبت کا یہ مصنوعی کھیل کھیلتے کھیلتے ایک دن وہ کسی ایسے لق ودق صحرامیں نکل جائے گی جہاں سرای ہی سراب ہوںگے پیاس سے اس کا حلق سوکھ رہا ہوگا اور آسمان پر چھوٹی چھوٹی بدلیوں کے تھنوں میں صرف اس لئے دودھ نہیں اترے گا کہ وہ خیال کریںگے کہ نرگس کی پیاس محض بناوٹ ہے زمین کی کوکھ میں پانی کی بوندیں اور زیادہ اندر کو سمٹ جائیںگی اس خیال سے کہ اس کی پیاس صرف ایک دکھاوا ہے۔" اس کے بعد کے اس درد کو کشمیری لال ذاکر نے اپنے خاکے میں یوں بیان کیا ہے:
"بریچ کینڈی اسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ میں ہمت اور دلیری سے لڑتی ہوئی بھابی دھیرے دھیرے زندگی کے محاذ سے پیچھے ہٹ رہی تھیں، یہ ،بر بھی مجھے برابر مل رہی تھی ۔ میں نے بھابی کی ایک مختصر سی سطر اور اس کے دستخط بھی پڑھے تھے۔ ایک انگریزی اخبار کے پہلے صفحہ پر اس نے سائیں بابا کو مخاطب کیا تھا،’ بابا مجھ سے یہ عذاب نہیں سہاجاتا‘نرگس۔"ذاکر لکھتے ہیں کہ ان کے خاندان میں دو ہی عورتیں ایسی تھیں جن کے نقش اور ہنسی نے انھیں متاثر کیا تھا :ایک ان کی ماں اور ایک ان کی بوا۔ اس پرانی پیڑھی میں نئی پیڑھی کی جس خاتون کی آمد سے چار چاند لگ گئے وہ نرگس تھے،جن کی بے ساختہ کھلکھلاہٹ نے انھیں بہت متاثر کیا تھا۔ایک مسلم گھر میں پلی بڑھی نرگس ایک برہمن خاندان میں آ کر جس طرح رَچ بس گئیں وہ قابل دید تھا۔وہ نرگس جس نے اپنے لیٹر ہیڈ پر مسز نرگس سنیل دت چھپورا کر رکھا تھا، ایک ایسے خاندان سے جڑ چکی تھیں جو موہیال برہمنوں کا خاندان تھا،جہاں کے لوگ اکثر فوج میں ملتے ہیں یا پولیس میں۔ فن کاری اور پڑھائی لکھائی سے ان کا تعلق کم رہا ہے، ایسے خاندان سے نرگس کسی ڈار سے بچھڑے جیو کی طرح آکر مل گئی تھیں۔یہ شاید ان کے پچھلے جنم کے سنسکارتھے ،کیونکہ جب سنیل دت کی ماں کی موت واقع ہوئی تو اس وقت جو درد سنیل کے دل میں تھا وہی درد نرگس ی آنکھوں سے بھی چھلک رہا تھا:
"سنیل ننگے پائوں واپس گھر پہنچا۔ اس کے پائوں میں دریا کے کنارے پر اگی جھاڑیوں کے کانٹے ٹوٹ گئے تھے، جن کی کسک تو شاید دوسرے بھی محسوس کر سکتے تھے لیکن جو کانٹا اس کی روح میں چبھ گیا تھا ،وہ کسی کو نظر نہیں آرہا تھا، اس ٹوٹے ہوئے کانٹے پر نگاہ تھی صرف نرگس بھابی کی۔ کانٹا صرف سنیل کی روح میں ہی نہیں  اس کی روح میں بھی تو چبھ کر ٹوٹا تھا۔خون کے آنسو صرف سنیل ہی نہیں بہا رہا تھا نرگس بھی تو بہا رہی تھی۔" ( یاران ِ تیز گام ۔۔۔ازکشمیری لال ذاکر)
جن دنوں نرگس اپنے علاج ومعالجہ کے سلسلے میں امریکہ میں تھیں اور جس درد سے وہ دو چار تھیں اس وقت وہ اکیلی اس درد کا شکار نہیں تھیں، ان کے درد میں سنیل پوری طرح شریک تھے۔ایک برس سے زیادہ کا عرصہ سنیل دت نے ایک ذہنی درد قرب میں گزارا تھا اور وہ اس پورے دور کو ایک تخلیقی شکل دے کر پردے پر لانا چاہتے تھے اور اس سے ہونے والی پوری آمدنی کو وہ ایک ضرور ت مندسوسائٹی میں خیرات کرنا چاھتے تھے۔سنیل دت نے بتایا کہ امریکہ سے علاج کرا کر واپس آنے کے بعد نرگس میڈم اندراگاندھی سے بات کرنا چاہتی ہیں کہ ہندستان میں بھی جدید ترین ساز و سامان اور تمام طرح کے ماڈرن آلات سے لیس ایک کینسر اسپتال قائم کریں، کیونکہ ایک عام ہندستانی کینسر کے مریض کو وہ تمام سہولتیں میسر نہیں ہو پاتیں جو اسے ملنی چاہیں مگر ایسا ہو نہ سکا، نرگس میڈم اندراگاندھی سے بات کرنے کے لئے کبھی ہندستان واپس نہ آ سکیں۔ کشمیری ذاکر اس بارہ میں رقم طراز ہیں :
"دل و ماغ پر ایک قیامت ٹوٹ پڑتی ہے ، ایک زلزلہ جاگ اٹھتا ہے اور ایک اور ارتھی اٹھتی ہے جسے کوئی نہیں دیکھتا کیونکہ وہ دل کے نہاں خانوں میں جلتی ہے اور لکڑیوں کی جگہ جذبات سلگتے ہیں اور احساس جلتا ہے اور بھائونائیں جلتی ہیں اور جب گرم گرم راکھ ہوا کے کسی جھونکے کے کارن چتا کے گہرے دھوئیں سے الگ ہو کر آنکھوں کے پپوٹیوں پر جم جاتی ہے اور سلگتی ہے تو جب ہی درد کا رشتہ مضبوط ہوتا ہیـ۔۔۔۔۔۔ــ۔۔۔ اور یہ میری آخری گواہی ہے خاموش اور بے زبان گواہی جو کسی عدالت میں پیش نہیں ہوگی کہ درد کی کوئی عدالت نہیں ہوتی۔"  مگر ہاں ان کی فلم کا پریمیر بھی ہوگا اور سنیل سب سے اس متعلق بات بھی کریں گے اور ان کی تعریفیں بھی سنیں گے، سب سے مسکرا کر ملیں گے بھی ،مگر جو کانٹا اس کی روح کو چبھا ہوگا اسے نکالنے والا کوئی نہ ہوگا۔
 رابطہ :اسٹنٹ پروفیسر۔ شعبہ اردو، لال بہادرشاستری، پی جی کالج، مغل سرائے ۔یوپی
