نرتھیال کے 227 کنبے تین مہینے کی راشن سے محروم

 بانہال // ضلع رام بن کے نرتھیال علاقے میں لوگ پچھلے کئی مہینے سے راشن کی عدم دستیابی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کررہے ہیں اور پچھلے تین مہینے سے لوگوں کو راشن کی خرید کیلئے بازاروں کا رخ کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے ۔ نرتھیال، اکڑال تحصیل ہیڈ کواٹر سے پانچ کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے اور نرتھیال کا علاقہ تحصیل اور بلاک رام بن کے انتظام میں ہے جبکہ راشن کے معاملے میں اس علاقے کو رامسو سپلائز آفس کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔ سرکار کی طرف سے غلط انتظامی نظام کی وجہ سے لوگوں کو محکمہ دیہی ترقیات سے لیکر دیگر پینے کے پانی اور بجلی سمیت مسئلے ہی مسئلے ہیں اور لوگوں کو سرکاری کام کیلئے رام بن کا رخ کرنا پڑتا ہے جبکہ اکڑال تحصیل اور رامسو سب ڈویژن اس پنچایت کے لوگوں کے راستے میں پڑتا ہے۔ اس علاقے میں پچھلے پندرہ سالوں سے فوڈ سپلائز کا سیل سینٹر قائم کیا گیا مگر اس کے باوجود بھی محکمہ امور صارفین کی مہربانی سے ان کیلئے راشن کی فراہمی پچھلے کئی سالوں سے اکڑال سے ہی کی جاتی ہے۔ نرتھیال کے مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وہ سیل سینٹر نرتھیال میں راشن نہ پہنچانے کی وجہ سے پچھلے تین مہینے سے راشن کے بغیر ہیں اور عید پر بھی لوگوں کو کھانڈ سے محروم رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مارچ کا راشن مقامی ڈیلر نے صارفین میں تقسیم کرنے کے بجائے مبینہ طور پر غائب کیا ہے جبکہ مئی ، جون اور جولائی کی راشن ابھی تک صارفین کو نہیں دی گئی ہے اور اس کی بندر بانٹ اکڑال میں ہی کی جاتی ہے اور وزیر خوارک اور ضلع حکام کے واضع احکامات کے باوجود محکمہ ٹس سے مس نہیں ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نرتھیال کا علاقہ غریب ہے اور لوگ کھتی باڑی کرکے اپنی گھر گرہستی بڑی مشکل سے چلاتے ہیں اور ایسے میں اپنے مفادات کی خاطر کھڑا کیا گیا راشن کا مسئلہ غریب صارفین کیلئے پریشان کن ہے ۔ لوگوں نے الزام لگایا کہ پنچایت نرتھیال کے 227 کنبے تین مہینے کی راشن سے مسلسل محروم رکھے گئے ہیں کیونکہ محکمہ کے ملازمین نرتھیال کے بجائے عوام کی اکثریتی مانگ کے برعکس اکڑال میں راشن کی تقسیم کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ محکمہ کے افسران اور مقامی ڈیلر من گھڑت کہانیاں بناکر لوگوں کو بیوقوف بنا رہے ہیں اور نرتھیال کے بجائے راشن کی فراہمی کو اکڑال میں ہی تقسیم کرنے پر بضد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ امور صارفین وعوامی تقسیم کاری کے ڈیلر اور دیگر ذمہ دار نرتھیال پنچایت کے نام پر مبینہ طور راشن کا ڈھلان اور کرایہ خزانہ عامرہ سے واگذار کرنے کے بعد ہڑپ کر جاتے ہیں جبکہ صارفین کیلئے راشن کی فراہمی نرتھیال کے بجائے اکڑال میں ہی کی جاتی ہے اور گاوں میں راشن لے جانے میں محکمہ کے ملازمین اور مقامی راشن ڈیلر اپنے حقیر مفادات کیلئے گاوں کو تقسیم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رام بن اور دیگر علاقوں میں رہنے والے نرتھیال کے کچھ لوگوں کیلئے محکمہ امورصارفین نے راشن کی تقسیم کاری کا سلسلہ اکڑال میں جاری رکھا ہوا ہے اور اسی آڑ میں وہ نرتھیال کے غریبوں کا راشن اور راشن کی ڈھلان ہڑپ کر جاتے ہیں اور لوگوں کو اکڑال سے راشن لینے پر مسلسل مجبور کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا وہ اس سلسلے میں وزیر برائے محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری کے علاوہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر رام بن اور تحصیلدار اور ٹی ایس او متعلقہ سے کئی بار معاملہ اٹھا چکے ہیں لیکن ابھی تک ان کا مسئلہ حل نہیں ہوا ہے اور محکمہ کے خود غرض ملازمین چند مفاد پرست عناصر کے ساتھ ملکر اکڑال میں راشن کی کالا بازاری جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نرتھیال کے لوگ نرتھیال میں راشن کی جلد از جلد فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے حکام سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں اور پچھلے تین مہینے سے بقایا راشن کو واگذار کرنے کی اپیل دہراتے ہیں کیونکہ ہم سے مسلسل ٹال مٹول کیا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں تحصیل سپلائیز آفیسر رامسو نظیر احمد خان نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ نرتھیال علاقے کے لوگوں کو صرف ایک مہینے تک کا راشن بقایا ہے اور نرتھیال میں سیل سینٹر پر راشن کی تقسیم کیلئے بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر رام سو کی طرف سے نرتھیال کی مسافتی سرٹفکیٹ لی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکڑال سے نرتھیال تک دوری یعنی مسافت کا تعین کرنے کیلئے انہوں نے بی ڈی او رامسو کو ایک خط لکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نرتھیال کے بعض لوگ اس راشن کی تقسیم اکڑال میں کرنے کے خواہشمند ہیں جبکہ نرتھیال میں سیل سینٹر پر راشن کی فراہمی کو یقینی بنانے میں مزید وقت لگ سکتا ہے اور اس کیلئے کاغذی اور قانونی لوازات تیار کی جا رہی ہیں۔