نجی شعبہ میں 600کروڑ روپے مالیت کی دستکاری مصنوعات کے ذخائر موجود

کشمیرچیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری وفدڈائریکٹر ہینڈی کرافٹس سے ملاقی

سرینگر//اس وقت 600کروڑ روپے مالیت کے دستکاری مصنوعات نجی شعبے میں ذخیرہ ہوئے ہیںاوراس سے پیدا صورتحال کو بے باقی کرنے کیلئے مسلسل کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔اس بات کااظہار کشمیرچیمبرآف کامرس اینڈ اندسٹریزکے ایک وفد نے سابق صدرجاویداحمدٹینگہ کی قیادت میں دستکاریوں اور ہینڈلوم محکمہ کے ڈائریکٹر محموداحمدشاہ کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے کیا۔ایک بیان کے مطابق انہوں نے اس دوران کہا کہ کشمیرچیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹریز مرکزی حکومت، ریاستی حکومت اوردیگر پبلک سیکٹر اداروں کی طرف سے برانڈ کشمیر کواپنانے کی وکالت کررہا ہے اورتجویزکیا کہ عالمی سطح اور ملک بھر میں برانڈ کشمیر کو فروغ دینے اور فروخت کرنے کیلئے کشمیرگورنمنٹ آرٹس ایمپوریم اورنجی شعبے میں دیگر اداروں جیسے ایچ ایچ ای سی ،اورسینٹرل کاٹیج ایمپوریم سے رجوع کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ذخیرہ جمع ہوئے مال کوتیزی سے فروخت کرنے اور مزید مانگ پیدا کرنے کیلئے ملک کے وسیع وسائل کو بروئے کار لایاجائے۔جاویداحمدٹینگہ نے متعلقین ،خاص طور سے دستکاروں اور بنکروںجواس شعبے سے جڑے ہیں،کی تیزی سے خراب ہورہی حالت پرتشویش کااظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ ہمارادستکاریوں کا شعبہ مانگ کم ہونے،قیمتیں گرنے،مصنوعات کاذخیرہ جمع ہونے ،قرضوں کی زیادتی اور حالات کی غیر یقینیت کی وجہ سے تباہ ہواہے۔ایکسپورٹ کا روایتی مارکیٹ منہ کے بل گرا ہے جس کی وجہ سے متعلقین برباد ہوئے ہیں ۔انہوں نے دستکاری شعبے کو فروغ دینے اور اس کے احیا ء کیلئے ڈائریکٹر ہینڈی کرافٹس وہینڈلوم محموداحمدشاہ کی کوششوں کو سراہا ۔انہوں نے کہا کہ پانچ ماہ کے قلیل مدت میں انہوں نے محکمہ میں نئی جان ڈالنے کیلئے کام کیااورمتعدداسکیموں اور پروگراموں کی عمل آوری کیلئے قابل سراہناکام کیا۔ٹینگہ نے بلاک سطح پرکلسٹر س کی نشاندہی کرنے ،ویبناروں اورسمیناروں کااہتمام کرنے کیلئے محمود احمد شاہ کی تعریفیں کی۔محموداحمد شاہ نے وفد کی طرف سے اُبھارے گئے مسائل کو بغور سنا اور ان کی پیش کردہ تجاویز کاخیرمقدم کیا۔