نجی سکولوں کی لوٹ کھسوٹ پر ضلع مجسٹریٹ جموں بھی برہم سالانہ فیس اور والدین کوچنندہ دکانوں سے خریداری کیخلاف حکمنامہ جاری کردیا

جموں//جموں کے ضلع مجسٹریٹ اونی لواسا نے جموں میں پرائیویٹ سکولوں کی طرف سے سالانہ فیس سے زائد وصولی، نصابی کتب، یونیفارم وغیرہ کی خریداری کے غیر قانونی عمل کا سخت نوٹس لیا ہے۔اس سلسلے میں ڈی ایم جموں نے ایک حکم نامہ جاری کیا ہے۔حکم نامہ میں کہاگیا ہے’’اس دفتر کے نوٹس میں سکولوں میں 2023-24 کے نئے تعلیمی سیشن کے آغاز کے ساتھ ہی یہ معاملہ لایا گیا ہے کہ کچھ پرائیویٹ سکولز ٹیوشن فیس کے علاوہ سالانہ چارجز/داخلہ فیس اور دیگر چارجز کا مطالبہ کر رہے ہیں اور فیس فکسیشن اینڈ ریگولیشن کمیٹی (FFRC) کی منظوری کے بغیر سالانہ چارجز اور ٹیوشن فیس میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔مزید بتایا گیا ہے کہ پرائیویٹ سکولوں کے خلاف ایک مخصوص دکان سے نصابی کتب، سٹیشنری کی اشیاء ، سکول یونیفارم وغیرہ کی خریداری کی شکایات موصول ہو رہی ہیں‘‘۔حکم نامہ میں مزید کہاگیا ہے’’بعض پرائیویٹ سکول والدین پر اضافی بوجھ ڈالنے کے غیر قانونی عمل کو بحال کر رہے ہیں۔والدین کی جانب سے ان کے کلام کی عمر چھ سال سے کم ہونے کی درخواست پر کلاس فرسٹ میں داخلے سے انکار کی شکایات موصول ہو رہی ہیں‘‘۔حکم نامہ کے مطابق سکول ایجوکیشن رولز 2010 کا قاعدہ 8A سکولوں کے تھیلوں کے وزن کے حوالے سے سکولوں کے سربراہ کے فرائض کا تعین کرتا ہے۔ متعلقہ سکولوں کی جانب سے تعمیل نہ کرنے کی صورت میں تعزیری دفعات کے ساتھ اسکول بیگ کے وزن کو ریگولیٹ کرنے کے لیے تفصیلی ہدایات اور ہدایات جاری کی گئی ہیں،ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن، جموں کی طرف سے سرکلر جاری کیے گئے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ پرائیویٹ سکول غیر قانونی طریقوں میں ملوث نہ ہوں اور اس موضوع پر قوانین اور ضوابط کی سختی سے پابندی کریں۔حکم نامہ میں کہاگیا ہے’”اب اس لئے مذکورہ خدشات پر نجی سکولوں کے خلاف کسی بھی شکایت کی اطلاع EDC ہیلپ لائن نمبر 0191-2571912 اور 2571616 پر دی جانی چاہیے‘‘۔حکم نامے میں کہا گیا ہے، ’’ایس ڈی ایمز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے دفاتر میں موصول ہونے والی شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر بروقت اور تیزی سے نمٹانے کو یقینی بنائیں‘‘۔ایس ڈی ایم ایس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ چیف ایجوکیشن آفیسر، جموں کی طرف سے تشکیل دی گئی خصوصی مانیٹرنگ ٹیموں میں ضروری مدد فراہم کریں اور ضرورت کے مطابق ڈیوٹی مجسٹریٹ تعینات کریں۔