ناٹو کی توسیع،فن لینڈ رُکن بن گیا ندائے حق

US Marines from 1st Battalion 8th, Bravo prepare to fire their weapons in their fortification during an operation not far from Shir Chazay in Musa Qala district of Helmand province on January 22, 2011. A 140,000-strong force of NATO-led international troops stationed in Afghanistan currently fighting Taliban-led insurgency is now entering its tenth year. AFP PHOTO / DMITRY KOSTYUKOV (Photo credit should read DMITRY KOSTYUKOV/AFP/Getty Images)

اسد مرزا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’فن لینڈ4 اپریل 2023 کو ناٹو کے سربراہی اجلاس کے دوران باضابطہ طور پرناٹو کا رکن بن گیا۔فن لینڈ کی رکنیت کا عمل بہت تیزی سے عمل میں آیا اور اس کا علاقائی صورت حال پر بہت واضح اثر ثبت ہوگا۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فن لینڈ کے باضابطہ طور پر ٹرانس اٹلانٹک دفاعی اتحاد یعنی ناٹو کے 31 واں رکن بننے کے بعد برسلز میں ناٹو کے صدر دفتر کے باہر فن لینڈ کا نیلا اور سفید پرچم اس کے مغربی شراکت داروں کے ساتھ بلند کیا گیا ہے۔ مہمانوں بشمول امریکی وزیر خارجہ، اینٹونی بلنکن، اور فن لینڈ کے صدر، خارجہ اور دفاع کے وزراء نے منگل کو تقریب میں فن لینڈ کا استقبال کیا، جس نے یورپ کے سیکیورٹی منظرنامے کی ایک تاریخی تبدیلی کی نشاندہی کی۔فن لینڈ کے صدر، ساؤلی نینیسٹو نے کہا، ’’یہ فن لینڈ کے لیے بہت اچھا اور ناٹو کے لیے ایک اہم دن ہے۔ ‘‘روس نے اپنے ارد گرد ایک دائرہ بنانے کی کوشش کی اور … ہم ایک دائرہ نہیں ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ فنز خود کو زیادہ محفوظ محسوس کرتے ہیں کہ ہم ایک زیادہ مستحکم دنیا میں رہ رہے ہیں۔امریکی صدر جو بائیڈن نے فن لینڈ کے تیز رفتار الحاق کے عمل کی تکمیل کا گرمجوشی سے خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ناٹو نے یوکرین پر روس کے حملے کے بعد خود کو پہلے سے زیادہ متحد دکھایا ہے۔
فن لینڈ سے ناٹوکو کیا ملے گا؟
اسکین ڈی نیویاکے دو ملکوں سویڈن اور فن لینڈ تقریباً تین سال پہلے ناٹو کی رکنیت کے لیے درخواست دی تھی، جس میں سے کہ فی الوقت فن لینڈ ناٹو کی رکنیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ابھی سویڈن کی رکنیت کا معاملہ باقی ہے۔ ان دونوں ملکوں کی رکنیت ناٹو کے اسکینڈی نیویا ممالک کے سیکیوریٹی منظر نامے پر بہت زیادہ اثر انداز ہوگی۔کیونکہ فن لینڈ روس کے ساتھ 1,340 کلومیٹر (830 میل) کی سرحد کی ساجھے داری کرتا ہے۔ یعنی کہ اب روس کو مزید 1340کلومیٹر کے علاقے پر اپنی افواج تعینات کرنی ہوں گی اور دوسری جانب اب ناٹو کی افواج اس کے اور قریب آچکی ہیں۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کا کہنا ہے کہ ناٹو میں فن لینڈ کی شمولیت کا مطلب ہے کہ اب فن لینڈ اتحاد کے آرٹیکل 5 کے تحت آجائے گاجو ایک اجتماعی دفاعی عہد ہے۔جس میں کہا گیا ہے کہ ناٹو کے ایک رکن پر حملہ ’’ان سب کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔‘‘ یعنی کہ اگر روس فن لینڈ پر حملہ کرتا ہے تو ناٹو روس کے خلاف حملہ آور ہوسکتا ہے۔ فن لینڈ ان چند یوروپی ممالک میں سے ایک ہے، جنہوں نے کئی دہائیوں کے امن کے دوران اپنی فوج قائم رکھی ہے،لیکن باوجود اس کے کہ وہ سیکوریٹی کے معاملات میں ہمیشہ ناوابستگی کی پوزیشن اختیار کرتا ہے۔یعنی کہ اس کا مطلب ہے کہ فن لینڈ ناٹو کو اپنی فوج تک رسائی بھی دے گا۔فی الوقت فن لینڈ کی زمینی، بحری اور فضائی افواج سب تربیت یافتہ اور ایک بنیادی مقصد سے لیس ہیں۔ کسی بھی روسی حملے کو پسپا کرنا۔فن لینڈ کے پاس ’’مغربی یورپ کی سب سے مضبوط توپ خانہ ‘‘ہے، جس میں تقریباً 1500 ہتھیار شامل ہیں: تقریباً 700 ہووٹزر اور توپ، 700 مارٹر اور تقریباً 100 بھاری اور ہلکے راکٹ لانچر۔
ماسکو کا نظریہ :۔کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے منگل کے روز کہا کہ ناٹو کا فن لینڈ کو گلے لگانا ’’ہماری سلامتی اور روس کے قومی مفادات پر تجاوز‘‘ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماسکو وہاں ناٹو کی کسی بھی فوجی تعیناتی پر گہری نظر رکھے گا۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ روسی فیڈریشن کو فن لینڈ کے ناٹو میں شمولیت سے پیدا ہونے والے ہماری قومی سلامتی کو لاحق خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے فوجی تکنیکی اور دیگر انتقامی اقدامات کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔ وزارت نے مزید کہا کہ اس پیشرفت نے ’’شمالی یورپ کی صورت حال میں ایک بنیادی تبدیلی کی نشاندہی کی ہے، جو پہلے دنیا کے سب سے زیادہ مستحکم خطوں میں سے ایک تھا‘‘۔ روس نے پیر کو کہا کہ وہ فن لینڈ کے الحاق کے جواب میں اپنے مغربی اور شمال مغربی علاقوں میں اپنی فوجی صلاحیت کو بڑھا دے گا۔اب تک روس کا یہی کہنا تھا کہ فن لینڈ کی ناٹو رکنیت سے اسے کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن اب جب کہ یہ ایک حقیقت بن چکی ہے تو اب فن لینڈ روس کے لیے واقعی ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔
یوکرین کی پوزیشن : ۔ولادیمیر زیلنسکی نے کہا :یوکرین کے صدر نے بھی فن لینڈ کو مبارکباد دی۔ ’’روسی جارحیت کے درمیان، اتحاد خطے میں سلامتی کی واحد موثر ضمانت بن گیا۔‘‘ فن لینڈ کا ناٹو میں شامل ہونا روس کے یوکرین پر حملے کے اب تک کے اہم ترین جغرافیائی سیاسی نتائج میں سے ایک کی نشاندہی کرتا ہے اور یہ یورپ کے سیکورٹی فریم ورک کی ڈرامائی طور پر دوبارہ صف بندی کی بھی مثال بن سکتا ہے۔
دوسری جانب یوکرین بھی ناٹو کی رکنیت کا خواہاں ہے اور جب سے روس۔ یوکرین جنگ شروع ہوئی تھی، تب سے ولادیمیرپتن کئی دفعہ کہہ چکے ہیں کہ وہ کسی بھی طور پر یوکرین کو ناٹو کا رکن بننے نہیں دیں گے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ہم سیکوریٹی اور جنگی نظریے سے دیکھیں تو یوکرین کی ناٹو میں شمولیت روس کے لیے ایک بڑا سیکوریٹی خطرہ بن سکتی ہے اور اسی پس منظر میں فن لینڈ کی رکنیت بھی روس کے لیے بڑا دردِ سر بن سکتی ہے۔ کیونکہ ان دونوں معا ملوں میں اب ناٹو افواج روس کے اور زیادہ قریب آسکیں گی۔ جہاں تک فن لینڈ اور سویڈن کی رکنیت کا معاملہ تھا تو اس سلسلے میں روس نے ترکی اور ہنگری کی مدد سے اس معاملے کو طویل سے طویل تر کرنے کی کوشش کی۔کیونکہ ابھی تک یہ دونوں ملک فن لینڈ اور سویڈن کی ناٹو رکنیت پر رضا مند نہیں تھے۔ ناٹو کے قوانین کے مطابق اگر کوئی بھی ایک ملک کسی دوسرے ملک کی رکنیت کے خلاف ہوتا ہے تو جب تک ناٹو کے تمام ملک نئے ممبر کی رکنیت کے لیے رضا مند نہیں ہوجاتے ،تب تک کوئی بھی نیا ملک ناٹو کا رکن نہیں بن سکتا۔ترکی اور ہنگری نے گزشتہ تین سال سے اس معاملے میں دوسرے ناٹو ممالک سے مختلف نظریہ اپنا کر روس کی بہت مدد کی ،لیکن آخر کار انھیں ہار ماننی پڑی اور بالآخر فن لینڈ ناٹو کا رکن بن گیا اور امید ہے کہ جلد ہی سویڈن بھی ناٹو کا بتیسواں رکن بن جائے گااور ہوسکتا ہے کہ شاید یوکرین کا نمبر تینتیسواں ہو۔لیکن اگر ایسا ہوتا ہے تو اس سے روس کی مشکلات میں بہت زیادہ اضافہ رونما ہوجائے گا کیونکہ اب اسے دو محاذوں پر اور دو مختلف سمتوں میں ناٹو کی تنظیمی طاقت سے مقابلہ کرنا ہوگا جو کہ شاید اس کے لیے آنے والے وقتوں میں بہت زیادہ مشکل ہوجائے۔ کیونکہ گزشتہ ایک سال میں یوکرین جنگ کے دوران اس کو فوجی طور پر کافی نقصانات اٹھانے پڑے ہیں اور اب اگر اسے دو محاذوں پر اپنی فوج بڑی تعداد میں تعینات کرنا پڑے، تو ہوسکتا ہے کہ عملی طور پر اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔
مجموعی طور پر فن لینڈ کی ناٹو رکنیت کوئی اہم جنگی معاملہ نظر نہیں آتا ہے۔ لیکن اس سے منسلک دیگر معاملات اور آنے والے وقتوں میں ناٹو کی جارحیت، عالمی طور پر اور خاص طور سے یوروپ میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرسکتی ہے، جس کا سب سے بڑا اثر روس پر مرتب ہوسکتا ہے۔ لیکن دوسری جانب ایسا ہونا بھی ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ ابھی بھی روس۔ چین اتحاد اپنی جگہ قائم ہے اور وہ دونوں مل کر ناٹو یعنی کہ امریکہ کو سخت جواب دے سکتے ہیں۔
(مضمون نگارسینئر سیاسی تجزیہ نگار ہیں ، ماضی میں وہ بی بی سی اردو سروس اور خلیج ٹائمزدبئی سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں۔ رابطہ کے لیے: www.asadmirza.in)