نامور ادیب اور مایہ ناز ماہر تعلیم شہباز راجوروی کا انتقال

راجوری // کشمیری ،اردو ،پہاڑی اور گوجری کے نامور اور سرکردہ ادیب و شاعر اور مایہ ناز ماہر تعلیم شہباز راجوروی مختصر علالت کے بعد انتقال کر گئے ۔خاندانی ذرائع نے بتایا کہ بہروٹ تھنہ منڈی راجوری سے تعلق رکھنے والے غلام نبی شبہاز عرف شہباز راجوروی کچھ عرصہ سے علیل تھے اور انہیں بلند فشار خون کی شکایت تھی جس کے بعد انہیں علاج ومعالجہ کیلئے جموں لیجایاگیاتھا تاہم دوروز قبل ہی انہیں واپس گھر لایا گیا جہاں وہ جمعہ کو خالق حقیقی سے جاملے ۔ وہ اردو اور کشمیری میں کئی کتابوں کے مصنف تھے اور ساہتیہ اکادمی دہلی سے ایوارڈ یافتہ تھے۔ اس کے علاوہ ریاستی کلچرل اکادمی نے بھی انھیں ادبی خدمات کے لئے اعزاز سے نواز رکھا تھا۔ ایک درجن سے زائد کتب کے مصنف شہباز راجوروی ایک نابغہ روزگار شخصیت کے حامل تھے۔ اردو، گوجری، کشمیری اور پہاڑی زبانوں میں ان کی بیش بہا ادبی خدمات ہیں۔شہباز راجوروی 1984میں محکمہ تعلیم سے بحیثیت لیکچرر سبکدوش ہوئے اور انہوںنے نہ صرف اردو بلکہ کشمیر ،پہاڑی اور گوجری زبان و ادب کی خدمت کی۔مرحوم کے فرزند اور ڈپٹی چیف میڈیکل آفیسر راجوری ڈاکٹر انیس الطاف کے مطابق ان کی طبعیت کچھ عرصہ سے ناساز تھی اور جمعہ کو رحلت کرگئے۔ان کی نماز جنازمیں بڑی تعداد میںلوگوںنے شرکت کی ۔اس دوران اقرا فاونڈیشن نے شاہباز راجوری کی رحلت پر گہرے دکھ کا اظہار اور لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے ۔ فاونڈیشن کے سربراہ اور روح رواں ڈاکٹر شبیر راتھر نے شہباز راجوروی کی وفات کو ایک خطہ پیر پنجال اور ریاست کے لئے بہت بڑے نقصان سے تعبیر کرتے ہوئے ان کی وفات سے جو خلا پیدا ہوا ہے اس کو پر کرنا بہت مشکل ہے۔ادھر حقانی میموریل ٹرسٹ جموں و کشمیر کے سرپرست اعلیٰ سید حمیداللہ حقانی اور جنرل سکریٹری بشیر احمدڈار نے انکی وفات پر دکھ کا اظہا ر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرحوم کی ادبی خدمات مدت مدید تک یاد کی جائیں گی۔