نالہ ماور نے ایک اور نوجوان کو نگل لیا

کپوارہ// ایک دلدوز سانحہ میں اتوار کو لنگیٹ میں ایک نوجوان نالہ ماور میں غرق آب ہوگیا۔ اس ہفتے کے دوران یہ نالہ ماور میں غرقآبی کا دوسرا حادثہ ہے اور علاقے کے لوگوں میں ان حادثات کے خلاف زبردست غم وغصہ پایا جاتا ہے۔تفصیلات کے مطابق ہندوارہ قصبہ کا ایک 22سالہ نوجوان اتوار کی شام کو اس وقت نالہ ماوری میں کہرو کے مقام پر ڈوب گیا جب وہ وہا ں نہارہاتھا ۔مقامی لوگو ں نے فوری طور مذکورہ نوجوان کی نعش کو بر آ مد کیا ۔ اس کی شنا خت عابد احمد تانترے ولد غلام محمد کے طور ہوئی ۔مذکورہ نوجوان کی نعش کو جب اس کے آ بائی گائو ں پہنچایا گیا تو وہا ں کہرام مچ گیا۔یہ بات قابل ذکر ہے4روز قبل تلواری کے مقام پر نالہ ماوری میں ہی ایک اور نوجوان امیتاز احمد بٹ ساکن ولز ہامہ غر قآب ہوگیا جس کے بعد لوگو ں نے ا س کی نعش کو بر آ مد کر کے سپرد خاک کیا ۔ایک ہفتہ میں غرقابی کے دو دلدوز حادثات پر مقامی لوگو ں میں زبردست غم و غصہ پایا جارہا ہے ۔ لوگو ں نے الزام لگایا ہے کہ عدالت عالیہ اور ضلع انتظامیہ کی پابندی کے باوجود بھی اس نالہ سے غیر قانونی طور ریت اور بجری نکالنے کام جاری ہے جس کی وجہ یہ نالہ ایک جھیل میں تبدیل ہو گیا ۔مقامی لوگو ں نے بتایا کہ نالہ ماور میں لنگیٹ سے لیکر ماور تک غیر قانونی طور ریت اور بجری نکالنے کا کام جاری ہے اور کئی مقامات پر اس نالہ کی ہیت بگڑ گئی ہے اور اس میں گہرے تالاب،جنہیں مقامی زبان میں سر کہا جاتا ہے، بن گئے ہیں، اور اکثر و بیشتران میں حا د ثات کا خطرہ رہتا ہے ۔لوگوں نے بتایا کہ شدید گرمی سے راحت حاصل کرنے کیلئے ان دنوں اکثر لوگ اس نالے میں نہانے کیلئے آتے ہیں لیکن نالے میں ریت باجری غیرقانونی طور نکالے جانے کی وجہ سے بنے تالاب لوگوں کی تشویش کاباعث ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس نالہ سے غیر قانونی طور ریت باجری نکالنے کے کام کو فوری طور روک دیا جائے۔