نالائق اولاد کا فائق باپ کہانی

 شیخ بشیراحمد

کِسے خبرتھی کہ اُس کم صرف کی نادانی دوستی کی اِس دیوار کو بکھیر کررکھ دے گی جسے ساجد اور میں نے بڑی محبتوں اور محنتوں سے بنایا تھا۔
ماناکہ میرے لئے وہ فقط ایک دُکھ تھا جس سے مجھے جیسے کوئی ہلکا ساغم چھوگیا تھا۔ دل پرایک ہلکی سی چوٹ لگی تھی اور میں کوئی حتمی فیصلہ نہیںکر پارہاتھا۔
مگر وہیں ساجد کے لئے وہ صدمہ بڑابھاری اور ناقابل ِ برداشت تھا۔ جس نے اسکی کمر توڑ کررکھ دی تھی اور دماغ میں اتھل پتھل مچادی تھی ، جس کی اس نے کبھی امید بھی نہیں کی تھی اور میں سوچتا رہا۔
کیا ساجد اس صدمے سے باہر نکل پائے گایانہیں ۔؟
بس یہی ایک سوال تھا جو بار بار اپنی شکل بدل کرمیرے ذہن میں اٹھ چکاتھا۔
میں شیخ پورہ پولیس چوکی میں بحیثیت ِ سب انسپکٹر نیا نیا آیا تھا۔ یہی کوئی ایک ہفتہ پہلے یہاں میرا تبادلہ ہوگیا تھا اور میں نے سب انسپکٹری کا چارج سنھبال لیا۔
جوائین کرنے کو محض تین دن ہی ہوئے تھے ۔ اس دوران مجھے باہر کہیں بستی یا بازار میں آنے جانے کا موقع نہ ملا، جسے دیکھنے کو دل بھی مچل رہاتھا۔ دراصل جوئینگ رپورٹ کے ساتھ ساتھ ہیڈ آفس کو متعلقہ چوکی کی کچھ اہم دستاویزات ، جن کی انہیں اشد ضرورت تھی، بھی بھجنی تھی۔
ایک دن کچھ ایسا اتفاق ہواکہ قرب وجوار میں کسی مسجد کے اسپیکرپراذان بلند ہوتی سنائی دی، یاد آیاکہ آج جمعۃ ُ المبارک ہے ، لہٰذا میں نے فوراً وردی اُتارلی اور سرپر سفید گول ٹوپی رکھی ۔ سفید رنگ کی کھلی ڈ ھیلی قمیض شلوار پہن لی اور پھر مسجد کی جانب چل دیا ۔
راستے میں چلتے چلتے آسمان پر ہلکے ہلکے بادل تیررہے تھے ۔ ایسا لَگ رہاتھا کہ کسی وقت بوندا باندی شروع ہوگی ۔تقریباً ایک ڈیڑھ گھنٹہ کے بعد نماز سے فارغ ہوکر جب سڑک پر آیا تو آسمان بالکل صاف تھا۔ بادل چھٹ چکے تھے اور موسم ایک دم بدلا ہوا تھا۔
دوپہر کا سورج اپنی تیز کرنوں کے نیزے برسارہاتھا اور میرا بدن پسینہ پسینہ ہورہاتھا۔ پیاس کی شدت سے گلا سوکھ کرکانٹا ساہوگیا تھا اور ساتھ ہی مجھے بھوک بھی لگ گئی تھی ۔
میںکسی اچھے ڈھابے یا ریسٹورنٹ کی تلاش میں اپنی نظریں اِدھر اُدھر دوڑانے لگا۔ اچانک میری نظر سامنے ایک ریسٹورنٹ پر جاٹکی۔آگے بڑھا اور دیکھا، ریسٹورنٹ کی پیشانی پرایک بورڈ آویزان تھا جس پر موٹے جلی حروف میں ’’ساجد ریسٹورنٹ ‘‘ لکھا ہواتھا۔
ساجد کا نا م پڑھ کر نہ جانے کیا سوچ کرایک لمحہ کے لئے میری آنکھیں چمک سی اٹھیں ۔ ساجدؔکا اندازہ لگاتے ہوئے یک لخت میرے ذہن میں بچپن سے جوانی تک کی تمام یادیں تازہ ہوگئیں ۔ جن پر زمانے کی سُست وتیز آندھیوں نے ایسی خاک جمائی تھی کہ ہر تصویر کا ہر نقش دھول وگرد کی موٹی دبیز تہہ کے نیچے چھپ چکا تھا اور میں حالات کے ایّامِ گردش میں بھول چکاتھا ۔ میں مسحور ہوکر دیر تک بورڈ کو تکتا رہ گیا۔
ساجدؔمیرا بے تکلف دوست تھا۔ہم دونوں نے ایک ساتھ ایک ہی اسکول میں دسویں جماعت تک پڑھاتھا۔ ہم دونوں بھائیوں کی طرح ایک دوسرے کوچاہتے تھے ۔ کبھی کرکٹ ، کبڈی یاکبھی چورسپاہی کا کھیل کھیلا کرتے ۔ میں سپاہی اور ساجد چورہوتا۔ وہ اکثر بستی کے ایک نزدیکی سرکا ری فارم سے چوری چھپے سیب چراکر لاتا اور میں بیچ راستے میں سپاہی بن کر پکڑ لیتاتھا۔ پھر ہم دونوں پاس ندی کے کنارے پر بیٹھ کر مال سروقہ دوحصوں میں بانٹ لیتے اور خوب مزہ لوٹتے تھے ۔
ساجد میٹرک امتحان کی تیاری کررہا تھا اچانک اس کا باپ حرکت ِ قلب بند ہونے کی وجہ سے دم توڑ بیٹھا ۔ جس کی وجہ سے وہ مزید تعلیم جاری رکھ نہ سکا۔ گھر کا وہ واحد کمائو تھا لہٰذا گھر کا سارا بوجھ اِس کے کاندھوں پر پڑگیا۔ مجبوراً اُسے باپ کا ٹھیلہ سنبھالنا پڑا جسے اسکے باپ نے مرتے وقت اسکے ورثے میں چھوڑ اتھا۔ جس پر ساجد چائے پان ، بیڑی، سگریٹ اور ٹافی مٹھائی کی دکان سجائے بیٹھا۔
میں نے میٹرک پاس کیا ۔ منزل کو پانے کی خواہش تھی ،اسی لئے شوق میں آگے بڑھتا رہا ۔ بی اے فسٹ ڈویژن میں پاس کیا کہ نوکری کی تلاش شروع کردی ۔
اتفاق سے پولیس میں چند اسامیاں خالی تھیں جس کے لئے میںنے بھی اپنی اُمید واری کا فارم بھردیا ۔ خوش قسمتی سے مجھے وہاں زبانی وتحریری مقابلہ جاتی امتحانوں میں کامیابی ملی اور میر ی نوکری لگ گئی۔ شاید یہ میرے ان خوابوں کی تعبیر تھی جنہیں میں اکثر بچپن سے جوانی تک دیکھا کیا کرتاتھا ۔
وقت کا پرشور اور بلاخیز دریا بہتا رہا۔
میں الگ الگ مختلف چوکیوں وتھانوں میں ڈیوٹی نبھاتارہا۔ زینہ بہ زینہ ترقی کی منزلیں طے کرتا رہا ۔ اس طرح ترقی پاکر لگ بھگ بیس سال بعد شیخ پورہ آیا۔ خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ یہ علاقہ میری اپنی بستی سے یہی کوئی دس بارہ کیلومیٹر دورتھا۔ جہاں میرا آبائی خاندان آباد تھا۔
میں بت بنا ریسٹورنٹ کو دیکھے جارہاتھا ۔وقت جیسے ٹھہر گیا ۔ میر ی آنکھیں کبھی ریسٹورنٹ اور کبھی تصوّر کی دنیا میں ساجد کے چہرے کا طواف کرتی رہیں ۔
اچانک کوئی غیر مرئی قوّت جیسے میرے جسم میں عود کرآئی کہ دیکھتے ہی دیکھتے مقناطیسی کشش کے انداز میں ریسٹورنٹ کے اندر جاگھسا۔
ہال لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہواتھا۔ دُورایک کونے میں ایک خالی کرسی پڑی تھی ۔ لپک کر اس میں دھنس گیا۔ ویٹر کو چائے کاآڈر دیا، جتنی دیر تک وہ چائے لے کرآتا تب تک میں نے میز پر پڑے جگ میں سے دو/تین پانی کے گلاس غٹا غٹ حلق میں اتارلئے ۔
چائے پی کر پیسے دینے کی بار ی آئی تو اُٹھ کر کائونٹر کی جانب بڑھا۔ ایک ادھیڑ مولوی نُما شخص کائونٹر پر سرجھکائے بیٹھا تھا۔
’’ حاجی صاحب! کتنے پیسے ہوئے؟‘‘
بات سن کر اس نے سراُٹھا کردیکھا اور پیسے لینے کے لئے ہاتھ بڑھادیا کہ وہ دیکھتا رہ گیا۔ حیرت سے اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں ۔ ہونٹ ہلے پر اسکے منہ سے ایک لفظ تک نہ نکلا۔ صرف بد بدا کررہ گیا۔
ایک لمحہ میں نہ جانے کتنی باتیں سوچ گیا ۔ مجھ کو اس کی خاموشی اچھی نہیں لگی اور میں جھٹ بول پڑا۔
’’ میںنے پوچھا حاجی صاحب ! کتنے پیسے ہوئے ۔ کیا پیسے لینے کا ارادہ نہیں ہے۔؟‘‘
میں نے غصے بھرے انداز میں ایک بار پھر اپنا سوال داغامگر قدرے اونچی آواز میں تاکہ اس کے خیالات کاسلسلہ ٹوٹے یا پھر اگر اونچی آواز میں سنتا ہوتو سُن سکے ۔
میرے کہنے پر و ہ خفا ہوا اور نہ ہی اپنی ناراضگی جتائی ، مسکراتے ہوئے کرسی سے اُٹھ کر کائونٹر سے باہر نکل آیا اور میرے روبرو کھڑے ہوکرمسکراتے ہوئے گویا ہوا
’’ اتنی جلد ی بھی کیا ہے ۔ لے لوں گا، سودسمیت وہ بھی ‘‘۔
لمحہ بہ لمحہ میں کوفت کا شکار ہوتاجارہاتھا ۔اس کی باتوں سے مجھے عجیب سی اکتاہٹ محسوس ہورہی تھی اورتھوڑا ساغصہ بھی ۔۔۔۔ میں نے من ہی من میں سوچا۔
’’خدانے یہ کیسی عجیب سی مخلو ق پید اکی ہے۔ پیسے کے معاملے میں شاید اس نے فراخ دلی کا شوق دل میں پا ل رکھا ہے۔ شرافت کی بھی کوئی حدہوتی ہے۔‘‘ ایسی سوچ جسے اظہار کرنے کے بعد مجھے لگا کہ وہ کہیں نظروں کے دھوکے میں آکر یہ سب کچھ نہیں کررہاہے۔
’’چھوڑدویار ! طوطے کی طرح کیا رَٹ لگارکھی ہے ۔ کتنے پیسے ہوئے ، لینے نہیں۔ ذرااپنی آنکھیں اٹھاکر مجھے غور سے دیکھو۔‘‘
یہ کہتے ہوئے اس نے بے تحاشہ ایک قہقہہ بلند کیا کہ اسکے منہ کے بتیس کے بتیس دانت نظر آنے لگے ۔ کچھ توقف کے بعد وہ پھربولا۔
’’ بورڈ پر ساجد نام پڑھا نہیں ۔ کیا آنکھوں پر اتنی چربی چڑھ گئی یا کہیں تمہار ا دماغ تو نہیں چل گیا ۔‘‘
اچانک میری آنکھوں کے سامنے سے جیسے پردہ اُٹھ گیا ۔ تبھی ایک زبردست دھماکے کیساتھ میرے دماغ کی ساری بتیاں روشن ہوگئیں ۔ اپنائیت کے جذبے سے مغلوب ہو کر میں بھی بے ساختہ چیخ اُٹھا۔
’’یار ساجد تم ، معاف کرنا بھائی ۔دراصل پہلی مرتبہ تمہیں اتنی لمبی گھنی سفید داڑھی میں دیکھا ہے ۔لہٰذا پہچان نہ سکا۔‘‘
میںنے اپنی حیرانگی ظاہر کی ۔ کچھ خفیف سا میں ساجد کو دیکھ کر حیران رہ گیا تھا اور میرے چہرے پر حیرت ومسرت کی لکیریں اُبھر آئیں ۔ ماضی کاایک ایک لمحہ جی اٹھا۔
’’ بھئی ! اس بار مات کھاگئے ہو۔اور پھر تمہاری شیخی بگھارنا کسی کا م نہ آئی ۔‘‘
میں نے بڑی گرم جوشی کے ساتھ ساجد سے ہاتھ ملایااور اُسے گلے سے لگالیا۔ اُدھر ساجد نے بھی بڑی فراخ دلی کے ساتھ میرا ہاتھ تھام لیا اور میرا ماتھا چوما۔ ایک دم دونوں کے چہرے گلاب کی طرح کھل اُٹھے ، ہونٹوں پر خوشیاں مچلنے لگیںاور دل کی ڈھرکنیں تیز ہونے لگیں ۔
’’ خدا جانتاہے کب ہماری ملاقات ہوئی تھی ۔ یاد بھی نہیں ، اس دوران تم نے حد ہی کردی ۔ اپنا حلیہ ہی بدل دیاہے ۔‘‘___ میں نے اپنی صفائی پیش کرنے کی ناکام کوشش کی ۔
’’اچھا یہ تو بتا ۔آج ہماری گلی میں کیسے آناہوا۔‘‘
’’ چند دن پہلے میں نے چوکی میں جوائین کیا ہے ۔ لیکن کام کی وجہ سے باہر نکل نہ پایا۔‘‘
’’کیا کہا۔ شیخ پورہ چوکی میں جوائن کیا ہے ۔ چلو اچھا ہوا ۔پر ا تنے سالوں میں کبھی گھر نہیں آئے۔ ہواکیا ، یامجھ سے ملنا نہیں چاہتے تھے ۔؟
’’ کیا بتائوں ۔ جب بھی پہلے تین چار مہینوں کے بعد گھر لوٹتا تو مشکل سے ایک دو دن کی چھٹی ملتی ۔۔۔اب توہی بتا۔ ان قلیل دنوں میں کہاں کہاں اور کس کس سے ملتا۔ سارا بنابنایا پروگرام ٹھپ ہوکر رہ جاتا۔ ۔۔اب ایسا نہ ہوگا۔ نصف حصہ چوکی میں باقی سار ادن ریسٹورنٹ میں میرا پروگرام رہے گا۔ ‘‘
میں نے صرف اس کی دِلجوئی کی خاطر جھوٹ سراسر جھوٹ سے کام لیا کیونکہ یہ میری دسترس سے باہرتھا ۔
’’کسی نے سچ کہا ہے نوکری چاکری پس از گدائی ۔ تمہاری ان باتوں کو وقت ہی ثابت کرے گا۔خیر جانے دو۔ اچھا یہ بتائو ۔ بھابی حلیمہ کیسی ہے ؟ارجمند کیا کررہا ہے۔ نجمہ بیٹی نے تعلیم مکمل کرلی یا ابھی پڑھ رہی ہے َ‘‘
’’ ارجمند نے بنگلہ دیش میں ایم بی بی ایس کا تیسرا سال پورا کیا ہے ۔نجمہ بی ٹیک کررہی ہے ۔ حلیمہ اچھی ہے ۔ تمہارے بارے میں اکثر باتیں کرتی ہے۔میں نے اپنی رام کہانی سنائی ۔ اب تم بتائو!۔۔۔
’’اپنی آپ بیتی کیا سنائوں ۔ وہ کھلی کتاب کی طرح ہے ۔ صادق نے بی اے کیا ۔ دل میں خواہش تھی کہ ٹیچر بنے اور اپنے قوم و وطن کے سپوتوں کو اچھی تعلیم وتربیت دے ۔ مگر نوکری ۔۔وہی ڈھاک کے تین پات۔اب کوئی کوچنگ سینٹر چلارہاہے۔ اس کی ماںاکثر ناساز طبیعت رہنے کی وجہ سے روز بروز کمزور ہوتی جارہی ہے ۔ بچاری کوبیٹے کا غم کھائے جارہاہے ۔ دوسر ا بیٹا شکیل ایک میڈیکل دوکان پر سیلز مین کا کام کررہاہے۔ ‘‘
’’بات کرتے کرتے ایسا لگا کہ اسکے سفید لمبی داڑھی دار چہرے پہ پھیکی سی مسکراہٹ چند لمحوں میں کہیں کھوگئی اور وہ آنکھیں جوکبھی جگنو کی طرح روشن تھیں مدہم پڑگئیں تھیں اور پھر آج طوطے کی طرح رٹ لگانے والا بات بات پر ہکلانے لگا ۔
’’اللہ تعالیٰ نے چاہاتوسب ٹھیک ہوگا۔ دل چھوٹا نہ کر۔ ‘‘
دفعتاً میری نظر کھڑکیوں کے شیشوں سے باہر دو سپاہیوں پر جاپڑی جوکسی نوجوان کے بازو میں ہتھکڑی ڈال کر ریسٹورنٹ کی جانب آرہے تھے ۔ شاید اُنہوں نے دورسے مجھے یہاں چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے دیکھاہے ۔اندر داخل ہوکر وہ دونوں سیدھے میرے پاس آکر کھڑے ہوگئے۔ نوجوان زاروقطار رورہاتھا۔
’’کون ہے یہ! کہاں سے لائے ہواِسے ؟میں نے سوال داغااور اپنی معلومات کے لئے تفصیلات جانے کے لئے انتظار کرنے لگا۔
’’جناب ! اس علاقے کا خطرناک ڈان لگتاہے ۔ یہ حاجی صاحب کا نالائق کپوت ہے ۔ ابھی ا بھی ہم نے اُسے کوچنک سینٹر کے باہر چرس وگانجا بچو ں میں بیچتے ہوئے رنگے ہاتھوں سے پکڑ لیا ہے ۔
یہ سن کر میرے پائوں تلے سے زمین سِرک گئی ۔ آنکھو ں کے سامنے شام کا اُداس ملگجا سااندھیرا چھا گیا اور دماغ مائوف ہوگیا۔ نظر پھیر کر میں نے ساجد کی اور دیکھا ۔ تو وہ جیسے اپنی سُدھ بُدھ کھوبیٹھا تھا۔ اس پر رِقت طاری ہوگئی تھی ۔ جیسے کسی نے اسکے بدن سے ساراخو ن نچوڑ لیاتھا۔ اُسے بیٹے سے نفرت سی ہوگئی ۔ ایسی نفرت کہ اس کا چہرہ دیکھنا بھی گوارا نہ ہوا۔
یکایک میرے اندر ایک سپاہی کا خون جوش سے ٹھاٹھیں مارنے لگا۔
میں بناء کچھ کہے سنے اور بغیر سوچے سمجھے فوراً کرسی سے اُٹھااور لمبے ڈگ بھرتا ہوا ریسٹورنٹ سے باہرآیا۔ ایسالگا ایک طوفان سا آیا ۔ اور سب دھندلاگیا اور میں دُور سے چپ چاپ کھڑا شکستہ دھسنتی دیوار کو دیکھتارہا، اور سوچتارہا ۔ آہ! کیا ساجد اس سانحہ سے باہر نکل پائے گایا نہیں ۔
بس یہی ایک سوال تھا جوبار باراپنی شکل بدل کر میرے دل ودماغ اورروح میں کلبلا رہاتھا۔
���
ٹینگہ پورہ نواب بازا سرینگر
موبائل نمبر؛6005368893