ناری نکیتن مینڈھر ناقابل رسائی،جھولا پل کی تعمیرناگزیر

مینڈھر//سب ڈویژن مینڈھر کے واحد ناری نکیتن سینٹر کی بچیوں کی طرف کوئی دھیان نہیں دے رہاہے۔ علاقہ کے لوگوں نے سرکار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کئی سال قبل ناری نکیتن مینڈھر کا سینٹر نالہ مینڈھر کے کنارے بنا تھا جہاں پر 25کے لگ بھگ غریب ،بے سہارا اور یتیم بچیاں رہتی ہیں ان بچیوں کو ناری نکیتن سینٹر میں پہنچنے کیلئے ایک دریا عبور کرنا پڑتاہے جہاں پر ایک جھولا پل کی اہم ضرورت ہے۔لوگوں کا کہنا تھا کہ ناری نکیتن سینٹر کے آگے پیچھے ایک بہت بڑا محلہ ہے اور بہت سارے لوگوں کو دریا عبور کرکے گھروں کو جانا پڑتاہے جبکہ ناری نکیتین کی بچیاں دریا میں بارشوں کے موسم میں پانی ہونے کی وجہ سے انکو کئی کلومیٹر پیدل سفر طے کرکے سکول یا واپس سینٹر جانا پڑتاہے جہاں پر وہ رات کو گزارا کرتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پل کے معاملہ کو لیکر ہم نے کئی بار ضلع انتظامیہ کے علاوہ کئی عہدیداران سے بھی بات کی اور انہوں نے ہمارے ساتھ یہ وعدہ بھی کیا کہ بہت جلد آپ کو جھولا پل بنواکر دیا جائے گا کیوں کہ اس دریا سے بہت سارے سکولی بچوں کو بھی گزرنا ہوتاہے لیکن اعلی حکام کے وعدہ کرنے کے باوجود بھی اس وقت تک جھولا پل تعمیر نہیں ہو سکا اور ناری نکیتین میں رہنے والی یتیم بچیوں کے علاوہ کئی سکولی بچوں کو بھی کئی قسم کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتاہے اور کئی بار دریا میں پانی ہونے کی وجہ سے بچے سکول بھی نہیں جاتے۔