نئے اراضی قوانین صنعت کاری کو فروغ دینے اور زرعی شعبے کو بہتر بنانے میں مدد کرینگے

نیوز ڈیسک
سرینگر//جموں و کشمیر میں متعارف کئے گئے نئے اراضی قوانین نے 11 زمینی قوانین کی جگہ لے لی جو سابق ریاست جموں و کشمیر میں موجود تھے، جن میں جدید، ترقی پسند اور عوام دوست دفعات شامل ہیں۔نئے اراضی قوانین نہ صرف جموں و کشمیر میں زائد از 90 فیصد اراضی کو بیرونی لوگوں سے بیگانہ ہونے سے تحفظ فراہم کریں گے بلکہ یہ زرعی شعبے کو بہتر بنانے، تیز رفتار صنعت کاری کو فروغ دینے، اقتصادی ترقی میں مدد دینے اور جموں و کشمیر میں ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے میں بھی مدد کریں گے۔جموںوکشمیر حکومت جو ایک جدید مؤثر ، شفاف اور شہری دوست یوٹی بنانے کی سمت میں مسلسل کام کر رہی ہے ، نے نئے اَراضی قوانین متعارف کرنے کے بعد زمین کے تحفظات کو یقینی بنایا ہے۔ حکومت کے اِس تاریخی اقدام سے زراعت اور اس سے منسلک شعبوں کی بحالی کے علاوہ تمام شعبوں کی مجموعی ترقی کو یقینی بنایا جائے گا۔وزارتِ داخلہ نے 26 ؍اکتوبر کو ایک حکم نامے کے ذریعے سابقہ ریاست جموں و کشمیر کے 14 قوانین میں ترمیم کی اور 12 دیگر کو منسوخ کیا۔ ریاست کے چار بڑے قوانین میں کلیدی ترامیم کی گئیں جو سابقہ ریاست میں زمین کی ملکیت، فروخت اور خریداری پر حکومت کرتی تھیں۔ یہ جے اینڈ کے ڈیولپمنٹ ایکٹ 1970، جے اینڈ کے لینڈ ریونیو ایکٹ 1996، زرعی اصلاحات ایکٹ 1976 اور جے اینڈ کے لینڈ گرانٹس ایکٹ 1960 ہیں۔صنعتی مقاصد کی خاطر اَراضی کا تعین ان نوجوانوں کے لئے روزگار کے زیادہ مواقع مہیا کرے گا جو ہمیشہ سے جموں و کشمیر میں صنعتی انقلاب کی خواہش رکھتے ہیں تاکہ انہیں روزگار کے بہتر مواقع مل سکیں۔نئے اَراضی قانون کے مطابق زرعی زمین صرف ایک کسان کو فروخت کی جا سکتی ہے اور اسے ایسے شخص کے طور پر بیان کیا گیا ہے جو جموںوکشمیر یوٹی میں ذاتی طور پر زمین کاشت کرتا ہے۔’’زرعی زمین‘‘کی اِصطلاح کو واضح طور پر نہ صرف زراعت بلکہ باغبانی اور اس سے منسلک زرعی سرگرمیوں کو بھی شامل کرنے کے لئے واضح کیا گیا ہے۔ سب سے زیادہ وسیع تعریف میں نہ صرف باغبانی بلکہ پولٹری، اینمل ہسبنڈری، کھیتی کی زمین وغیرہ بھی شامل ہیں۔منسوخ شدہ قوانین کی ترقی پسند دفعات کو ترمیم شدہ لینڈ ریونیو ایکٹ میں شامل کرکے برقرار رکھا گیا ہے۔ بورڈ آف ریونیو کے قیام، زمین کے اِستعمال کو منظم کرنے کے لئے علاقائی منصوبہ بندی، اجنبیت اور تبدیلی، زمین کی لیز، کنسولیڈیشن اور کنٹریکٹ فارمنگ کے اِنتظامات ہیں۔ سینئر افسران پر مشتمل بورڈ آف ریونیو نہ صرف علاقائی منصوبے تیار کرنے کے لئے ڈویلپنگ اتھارٹی ہو گا بلکہ زمینوں کو مضبوط کرنے کی سکیم اور زراعت کو قابل عمل بنانے کے لئے زرعی زمینوں کی تقسیم کو محدود اور ریگولیٹ کرنے کی سکیم کو بھی مطلع کر سکتا ہے۔گذشتہ برس اکتوبر میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ایس کے آئی سی سی میں ایپل فیسٹول 2021 ء کا آغاز کرنے کے بعد اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جموں و کشمیر میں ’’زرعی زمین کا ایک انچ بھی نہیں‘‘ یوٹی سے باہر کسی کو دیا گیا ہے ۔اُنہوں نے کسانوں کو یقین دلایا کہ باہر سے کسی کو بھی زرعی زمین نہیں دی گئی ہے اور جموں و کشمیر کی زمین کی حفاظت جموں و کشمیر حکومت کی ذمہ داری ہے۔اس قانون سے یہ جموں و کشمیر حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ زرعی زمینوں کی حفاظت کرے۔‘‘محکمہ ریونیو نے بہتر حکمرانی او رشہریوں کی آسانی کے لئے ایک بڑی پہل کے طور پر جموں اور سری نگر کے اضلاع سے 19؍ فروری 2022ء سے زمینداروں کو ہندی، اردو اور انگریزی میں سہ زبانی لینڈ پاس بکس کا اجرأ شروع کیا۔ہر زمیندار کو جاری کی جانے والی زمین کی پاس بکس ریونیو اسٹیٹ میں جمعبندی کے سینٹری پر مشتمل ہوتی ہیں تاکہ وہ اسے کریڈٹ کی سہولیات اور اس سے جڑے یا اس سے متعلقہ دیگر معاملات کے لئے اِستعمال کر سکے۔ محکمہ ریونیو کی طرف سے تجویز کردہ لینڈ پاس بک ریکارڈ کے مطابق ہے اور زمیندار کسی پٹواری یا تحصیلدار یا کسی ریونیو آفس میں جانے کے بغیر آن لائن تیار کر سکتے ہیں۔محکمہ نے وضع کردہ قانون کے مطابق لینڈ پاس بک کے آن لائن اجرأ کے لئے جموں و کشمیر لینڈ پاس بک رولز۔ 2022 بھی تیار کیا ہے۔