نئی صنعتی پالیسی 2021-30| نئی مراعت یافتہ سکیم سیاحتی شعبے کو تقویت بخشے گی: ڈاکٹر ایتو

 سری نگر//جموں کشمیرکی نئی صنعتی پالیسی میں سیاحت کے شعبے کو شامل کرنے سے اس شعبے کوتقویت حاصل ہوگی اور سیاحت کے شعبے سے وابستہ لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔ان باتوں کااظہار محکمہ سیاحت کے ڈائریکٹر ڈاکٹرجی این ایتو نے ایس کے آئی سی سی میں ایک ہینڈ ہولڈنگ سیشن سے خطاب کرت ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ حکومت کی طرف سے رواں سال اپریل میں نئی صنعتی پالیسی 2021-30 منظر عام پر آئی تھی اور اِس نے سیاحت کے اہم شعبے سمیت مختلف سیکٹروں کو مزید حوصلہ افزائی فراہم کی ہے ۔ اِس سے خطے میں سیاحت سے متعلق شراکت داروں اور کاروباری اَفراد کے لئے  نئے مواقع مہیا ہوئے ہیں۔اِس موقعہ پر ڈاکٹر اِیتو نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا ، پرنسپل سیکرٹری آئی اینڈ سی اور سیکرٹری سیاحت کا شکر یہ اَدا کیا جوانہوں نے نئی صنعتی پالیسی میں سیاحتی شعبے کو شامل کیا ۔اُنہوں نے نئی سکیم کا مختصر تعارف پیش کرتے ہوئے سیاحتی شعبے کے حوالے سے اِس سکیم کا بنیادی مقصد اور شراکت داروں کو دستیاب مختلف مراعات کے بارے میں روشنی ڈالی۔ڈاکٹر اِیتو نے اُمید ظاہر کی کہ اِس سیشن کے نتیجے میں سیاحتی شعبے سے وابستہ لوگوں کو فائدہ ہوگا کیوں کہ نئی ترغیبی سکیم اِس شعبے کو مطلوبہ تقویت بخشے گی۔اِس موقعہ پر محکمہ صنعت و حرفت کے تکنیکی ماہرین نے ایک پاور پوائنٹ پرزنٹیشن پیش کی۔دوسری دیگر چیزوں کے علاوہ صنعتی پالیسی میں ڈیزل جن سیٹ کی خریداری یا تنصیب پرصد فیصد سبسڈی اور آلودگی پر قابو پانے والے آلات پر ترغیبات کے علاوہ نئی سینٹرل سیکٹر سکیم کے تحت آٹومیشن پر سبسڈی دی جائے گی۔سیشن میں سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال اور استفساری سیشن بھی منعقد ہوا۔ اس کے علاوہ شراکت داروں نے اپنے تاثرات اور مختلف تجاویز پیش کیں۔قابل ذکر ہے کہ جموںوکشمیر محکمہ سیاحت نے صنعت و حرفت محکمہ کے اشتراک سے نئی صنعتی پالیسی 2021-30کے تحت کشمیر سے سیاحت کے شراکت داروں کے مراعات پر ایک ہینڈ ہولڈنگ سیشن منعقد کیا۔سیشن  یہاں ایس کے آئی سی سی میں منعقد ہوا جس میں ناظم سیاحت کشمیر ڈاکٹر  جی این ایتو ، آئی ای  سی کے تکنیکی ماہرین اور ٹریول اینڈ ٹریڈ ، ایڈونچر ٹوراِزم ، ٹورسٹ گائیڈوں ، ہاوس بوٹ مالکان اور ممتاز ہوٹلوں کے نمائندوں نے ذاتی طور پر شرکت کی۔ سیشن کے دوران جوائنٹ ڈائریکٹر کشمیر تبسم کاملی ،ڈپٹی ڈائریکٹر ( رجسٹریشن ) ٹور اِزم کشمیر ڈاکٹر اَحسان الحق چشتی اور دیگر متعلقہ اَفراد بھی موجود تھے۔