نئی صبح ، نیا سورج ، نئی امید !

 صبح کا سورج طلوع ہوتے ہی خالق برحق ہمیں ایک نئی اڑان بھرنے کا پیغام سناتا ہے۔ نئی صبح یعنی نئی امید،جس طرح خزاں کے موسم میں بکھرے ہوئے، سہمے ہوئے پیڑ پودے، بہار کی آمد سے ہی اک نئی امید سے اپنا آشیانہ سنوارنے نکلتے ہیں۔ اندھیری تاروں بھری رات کے اختتام پر، سورج کی کرنیں ہمیں اپنی زندگی کے ٹوٹے ہوئے گھونسلے کو پھر سے آباد کرنے کا درس دیتی ہیں۔اک نئی شروعات، اک نیا مقصد،اک نئی منزل کی طرف سفر اختیار کرنے کا حوصلہ دیتی ہیں۔رب العالمین نے اپنے بندوں میں ایک صفت عظمیٰ پوشیدہ رکھی ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان کتنا بھی بے بس کیوں نہ ہو، کتنے ہی مشکلات میں کیوں نہ ہو،اگر دل میں اک نئی امید پیدا ہوگئی ،یہ انسان کے وجود کو بلندیوں پر فائز کردیتی ہیں۔یہ رب العزت پر توکل ہی تو ہے جو فقیر کو بادشاہ، سائل کو غریب نواز ، مفلس کو امیر کبیر بنادیتا ہے۔بندگان خدا کو چاہئےکہ زندگی کی تاریکیوں میں رب العزت کے در کا دامن نہ چھوڑیں، مقابلہ کرنا سیکھیں اور اس کشمکش میں جو چیز آپ کا ساتھ دے گی وہ ہے اللہ تعالیٰ پر کامل یقین، امید اور توکل۔
اہل علم رقمطراز ہیں کہ زندگی میں بہت سے واقعات ایسے ہوتے ہیں جن میں تمام تدبیریں ختم ہوجاتی ہیں ، اور کام نہیں ہوتا ، بس گرہ اس وقت کھلتی ہے جب بندہ یوں کہتا ہے کہ اے اللہ! آپ ہی اس کام کو پورا کریں گے تو پورا ہوگا، میں تو عاجز و درماندہ ہوں۔یہاں پر انسان کو جو چیز مار دیتی ہے وہ ہے غفلت۔ یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ ہی تو اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لانے والا ہے۔ اللہ کے ابواب کبھی بند نہیں ہوتے۔ چھیننے والی اور عطا کرنے والی ذات، رب العزت کی ہی ذات مبارکہ ہے۔ سیدنا لقمان نے اپنے بیٹے کو وعظ ارشاد فرمایا کہ، ’’اے بیٹے! بے شک ناپسندیدہ اشیاء پر صبر کرنا حسن یقین ہے، بے شک ہر عمل کا ایک کمال اور انتہا ہوتی ہے اور عبادت کا کمال ورع اور یقین ہے‘‘۔یہ یقین بڑے بڑے پہاڑوں کو ہلا دیتا ہے۔ رب العزت پر توکل رکھ اور دیکھ کائنات کی ہر چیز تیری معاون بن جائے گی۔امام احمد نے کتاب الزھد میں سیدنا ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ وہ فرماتے ہیں’’جسے تمنا ہو کہ وہ لوگوں میں سے طاقتور بن جائے ،اسے چاہیے کہ رب العزت پر توکل کرے، جسے تمنا ہو کہ لوگوں میں عزت دار بن جائے ،اُسے چاہیے کہ اللہ سے ڈرے، جسے تمنا ہو کہ لوگوں میں امیر بن جائے، اُسے چاہیے کہ اللہ کے رزق پر قناعت اختیار کرے‘‘۔
اللہ کے نبیؐ نے اپنے صحابہ کو توکل کی عظمت کچھ اس طرح سمجھائی کہ ’’ جس طرح اللہ تعالیٰ بھوکے پرندوں کو کھلاتا اور پلاتا ہے، جب وہ اپنے گھونسلوں سے صبح کے وقت نکلتے ہیں، اسی طرح اللہ تمہارے رزق کا انتظام کرے گا ، پرندے صبح بھوکے پیٹ نکلتے ہیں لیکن شام کے وقت پیٹ بھر کے واپس آجاتے ہیں‘‘۔(احمد، ترمذی، ابن ماجہ۔ مفہوما) گویا ہمیں ان پرندوں سے سبق لینا چاہیے،پرندے ہمیں سکھاتے ہیں کہ صبح سویرے، ایک پختہ عظیم و یقین سے گھروں سے نکلو، اپنی ہر effort کام میں لاؤ، اللہ تمہاری محنت کی لاج رکھے گا۔یعنی اسباب اختیار کرنا توکل کے منافی نہیں۔ توکل کا یہ قطعی مطلب نہیں کہ آپ ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھ جائیں، ہر گز نہیں۔ امام بیہقی ؒنے سلف کا ایک اثر نقل فرمایا ہے کہ، ’’اس امت میں سب سے پہلی خیر اور اصلاح رب العزت پر یقین اور دنیا کی بے رغبتی تھی اور اس امت کا سب سے پہلا فساد بخیلی اور لمبی امیدوں کی شکل میں نمودار ہوگا۔(یہ اثر مرفوعاً بھی آیا ہے لیکن اس کی سند پر مکمل تحقیق نہ ہوسکی)
حافظ ابن ابی الدنیا کی الموسوعۃ میں سیدنا ابوبکر ؓ کی دعا نقل کی گئی ہے کہ وہ اللہ کے حضور دعا کیا کرتے تھے’’اے اللہ! مجھے ایمان، یقین، عافیت و اخلاص کی دولت عطا کر‘‘۔صحابہ دعا کیا کرتے تھے کہ ہمیں یقین کامل حاصل ہوجائے کیونکہ جب انسان ناامیدی کی راہوں سے نکل کر توکل و یقین کی راہ پر گامزن ہوجاتا ہے۔ دنیا کی کوئی بھی چیز اس کے سفر میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ ضرورت ہے کہ انسان ہمت کرکے اونچی پرواز بھرے ، اپنے جذبات کو اپنے جنون کو عملی جامع پہنانے کے لئے ہر ممکن راہ اختیار کریں۔ تمہاری جگہ میخانوں میں نہیں ہے، تمہاری جگہ منشیات کے مراکز میں نہیں ہے، تمہاری جگہ صنم کدوں میں نہیں ہے، تم آئے ہو اس دنیا پر راج کرنے، تم آئے ہو اس کائنات میں اپنا لوہا منوانے۔ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن ہمت نہیں ہارنی، لوگ باتیں کریں گے لیکن ہمت نہیں ہارنی، بار بار ٹھوکر لگیں گے لیکن ہمت نہیں ہارنی۔ ثابت کرکے دو کہ تم انبیاء، اسلاف کے حقیقی وارث ہو۔ دنیا حرام کاریوں میں مبتلا ہے، تمہیں ھادی بن کر انہیں راہ دکھانی ہے۔ دنیا فحش کاریوں میں مبتلا ہے، تمہیں مصلح بن کر انکی اصلاح کرانی ہے۔ دنیا الحاد کے دلدل میں ڈوب چکی ہے تمہیں جگنو کی طرح انہیں تاریکیوں سے نکالنا ہے۔تم ہی اس قوم و ملت کے مستقبل ہو۔
حافظ ابن جوزیؒ نقل کرتے ہیں کہ’’کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ احتیاط واحتراز توکل کے منافی ہے ،اور توکل دراصل انجام سے غفلت اور عدم احتیاط کا نام ہے۔لیکن یہ خیال علماء کے نزدیک عاجزی کے مترادف ہے اور بے اعتدالی پر مبنی ہے ، اس خیال کے حامل افراد اہل عقل سے محض زجر وتوبیخ ہی کی توقع رکھ سکتے ہیں ، اللہ تبارک وتعالیٰ نے تو بچاؤ کے تدابیر حتی الامکان اپنانے کے بعد توکل کا حکم دیا ہے ، چنانچہ فرمایا : وشاورہم فی الامر فاذا عزمت فتوکل علی اللہ ۔(آل عمران :۱۵۹)اور ان سے (اہم)معاملات میں مشورہ لیتے رہو ،پھر جب تم رائے پختہ کرکے کسی بات کا عزم کرلو تو اللہ پر بھر وسہ کرو۔اگر اسباب کا اختیار کرنا توکل کم ہونے کی بنا پر ہوتا تو اللہ اپنے حبیب کو مشورہ کا حکم نہ دیتا‘‘ ۔(تلبیس ابلیس:۲۴۸) فرمان ربانی ہے کہ، ’’اور جوکوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ اس(کا کام بنانے)کے لئے کافی ہے‘‘۔(الطلاق: ۳)
اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ ملت کے شباب کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہوجائے اور اللہ ملت کی پریشانیوں کو دور کرے۔ آمین  
مدرس:سلفیہ مسلم انسٹی چیوٹ ۔
پرے پورہ ،رابطہ نمبر 6005465614