نئی حد بندی سے علاقہ نیل کے مکین نالاں

بانہال // ریاستی سرکار کی طرف سے 2014 میں قائم کئے گئے نئے انتظامی یونٹوں کی حدبندی میں محکمہ مال نے کئی فاش غلطیاں کی ہیں جس کی وجہ سے بہت سارے علاقوں کا انتظام نئے انتظامی یونٹوں سے جوڑا گیا ہے جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بانہال کے علاقہ نیل کے درجنوں دیہات بانہال تحصیل سے کاٹ کر تحصیل اکڑال کے ساتھ جوڑ دیئے گئے ہیں جس کی وجہ سے عوام میں محکمہ مال اور حد بندی سے وابستہ حکام کے خلاف غم وغصہ پایا جارہا ہے۔ تحصیل صدر مقام بانہال سے بیس کلومیٹر دور وادی نیل کے لوگوں کا کہنا ہے کہ پندرہ ہزار کی آبادی پر مشتمل علاقہ نیل کے درجنوں دیہات تحصیل اکڑال سے جوڑے گئے ہیں جو یہاں سے چالیس کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے جبکہ اْن کی نزدیک ترین تحصیل بانہال سے انہیں کاٹ دیا گیا  ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی حد بندی کی وجہ سے علاقے کا ایک بھائی اْکڑال کے ساتھ جبکہ دوسرا بھائی بانہال کے ساتھ رکھا گیا ہے جو عوام کے ساتھ سراسر نا انصافی ہے اور علاقہ کے ساتھ ارباب اقتدار کی زیادتی ہے ۔ خلیل احمد نامی سابقہ سرپنچ نیل نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ نیل سے اکڑال کی مسافت کم از کم چالیس کلومیٹر دور سے اور لوگوں کو بانہال سے ہوکر اْکڑال پہنچنا ہے جبکہ سابقہ تحصیل ہیڈ کواٹر نیل کے علاقوں سے پندرہ سے بیس کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی حد بندی کی وجہ سے نیل کا ایک بھائی اْکڑال سے منسلک رکھا گیا ہے جبکہ دوسرا بھائی بانہال تحصیل کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال نے لوگوں کو پریشان کر رکھا ہے اور پندرہ سو کے قریب کنبوں کو اس مسئلے نے مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو اپنی کاغذی دستاویزات تیار کرنے کیلئے بانہال اور اکڑال کے تحصیل دفاتر کے چکر کاٹنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور انہیں ایک تحصیل سے دوسری تحصیل کا رخ کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔ عمر حیات نامی ایک مقامی شخص نے بتایا کہ نیل سے اکڑال تک ایک طرف سے تقریباً  دو سو روپئے کا کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے اور اکڑال پہنچتے پہنچتے دفاتر بند ہوئے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیل ، باٹو ، چدوس ، زراڈی ، ڈھک ، کھاروان ، ہرواڑی ، نیل ٹاپ ، واسا مرگ ، سنیگام ، لدھنیہال ، سرنگہ ، ٹاٹکا وغیرہ میں اباد ہزاروں لوگوں کا ذریعہ معاش کھیتی باڑی ہے اور غربت کی وجہ سے غریب لوگوں کا اکڑال کا رخ کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ نیل کے لوگوں نے حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس عوامی مسئلے کی  طرف توجہ دیکر عوام کو درپیش مشکلات سے چھٹکارہ دینے میں اپنا کردار ادا کریں ورنہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ شاہراہ کا رخ کرنے پر مجبور ہوں گے اور اس کی تمام تر ذمہ داری حکام پر عائید ہوگی۔
؎