نئی بھرتی پالیسی نوجوان کُش

 سرینگر //2015میں لاگو کی گئی نئی بھرتی پالیسی کے خلاف وادی کے اطراف واکناف سے آئے پڑھے لکھے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے پریس کالونی سرینگر میں احتجاج کیا اور مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کی طرف سے لاگو کی گئی بھرتی پالیسی کو فوراً واپس لیا جائے ۔ احتجا ج کرنے والے نوجوانوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ریاسی ہائی کورٹ نے نئی بھرتی پالیسی کی شق 8اور9کو پہلے ہی کالعدم قرار دی ہے جو پہلے ہی اپما نے اپنے ملازمین پر لاگو کی ہے اور وہاں کام کرنے والے ملازمین کو راحت نصیب ہوئی ہے ۔اُمیدواروں نے نئی بھرتی پالیسی کو نوجوان مخالف قرار دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو 7سے 8ہزار روپے کی تنخواہ پر کام کرنا ہے ،کیلئے جو بھارت کی عدالت عالیہ کے ہدایت کے خلاف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کم سے کم تنخواہ کیلئے بھی کم سے کم تنخواہ قانون اور ایک ہی کام کیلئے برابر تنخواہ کا قانون بنا کر لوگوں کے ساتھ انصاف کیا تھا مگر انہیں یہ دیکھ کر حیرانگی ہوتی ہے کہ کشمیری پنڈتوں اور مہاجرین کیلئے جموں وکشمیر سروس سلیکشن بورڈ کی طرف سے نکالی گئی نوٹفکیشن میں اُن کو ایس آر او 202سے مستشنی رکھا گیا ہے ۔امیدواروں نے بتایا کہ یہ کشمیری نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی ہے جو وہ کبھی برداشت نہیں کریں گے ۔انہوں نے احتجاج کرتے ہوئے سرکار سے مطالبہ کیا کہ اس بھرتی پالیسی پر ازسرنو غور کر کے اُس کو واپس لیا جائے ۔