میڈیکل بلاک مینڈھر کا حال بھی بے حال ، 22میں سے ڈاکٹروں کی20اسامیاں خالی

 مینڈھر//خطہ پیر پنجال کے دیگر علاقوں کی طرح سب ڈیویژن مینڈھر کے طبی مراکز میں بھی طبی عملے کی شدید قلت پائی جا رہی ہے۔مینڈھر بلاک میں ڈاکٹروں کی 22اسامیاں ہیں جن میں سے صرف دو ہی تعینات ہیں جس سے محکمہ میں پائی جارہی افرادی قوت کی قلت کا اندازہ ہوتاہے ۔بائیس میں سے بیس اسامیاں خالی رہنے کے باعث مقامی لوگوں کو علاج کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھاناپڑتی ہیں اور انہیں مقامی سطح پر وہ سہولیات نہیں ملتی جس کے محکمہ صحت کی طرف سے دعوے کئے جارہے ہیں۔مینڈھر کے کئی لوگوں نے اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے کہاکہ ایک انجکشن لگوانے کے لئے کئی کلو میٹر کا سفرکرناپڑتاہے اور پھر پورا پورا دن بھی ضائع ہوجاتاہے ۔انہوں نے کہاکہ سب ضلع ہسپتال مینڈھر علاج کی سہولت میسر ہے تاہم سپیشلسٹ فیزیشن اور خواتین کے امراض کے دو اہم ڈاکٹر تعینات نہیں جس کے باعث مریضوں کو سخت مشکلات کاسامناہے ۔ان کاکہناہے کہ حکام انتہائی درجہ کی لاپرواہی برت رہے ہیں اورلوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کیاجارہاہے ۔ان کاکہناہے کہ خواتین کے امراض کا ڈاکٹر تعینات نہ ہونے کی وجہ سے حاملہ خواتین کو مشکلات کاسامنارہتاہے اور انہیں ڈیلوری کیلئے جموں بھی منتقل کرناپڑتاہے ۔لوگوں کاکہناہے کہ ہسپتال میں الٹراسائونڈ کی مشین کافی پرانی ہوچکی ہے جس سے نتائج صاف نہیں آتے اور صحیح نتائج کیلئے انہیں جموں جاکر الٹراسائونڈ کرناپڑتاہے ۔ انہوں نے کہاکہ فوری طور پر جدید اور ڈیجیٹل مشین نصب کی جائے ۔بلاک میڈیکل افسر مینڈھر ڈاکٹر پرویز احمد خان کاکہناہے کہ انہوں نے بار بار ڈاکٹروں کی کمی اور مشینری کی فراہمی کے بارے میں حکام کو تحریری طور پر لکھا ۔انہوں نے کہاکہ اس وقت ڈاکٹروں کی دو اہم اسامیاں خالی ہیں جس کے بارے میں بھی حکام سے بات کی گئی ہے ۔بی ایم او نے کہاکہ پرانی مشینری سے ہی کام چلایاجارہاہے ۔وہیں لوگوں کا الزام ہے کہ یہاں پہلے تو قابل ڈاکٹر تعینات ہی نہیں ہوتے اور اگر ایسا ہوبھی ہوجائے تو تعیناتی کے ساتھ ہی ان کا تبادلہ کردیاجاتاہے اور انہیں ہزاروں روپے خرچ کرکے علاج کرواناپڑتاہے ۔ انہوں نے کہاکہ فوری طور پر طبی عملے کی تعیناتی عمل میں لائی جائے اور مقامی سطح پر ہی علاج معالجے کی سہولت میسر رکھی جائے تاکہ انہیں دربدر نہ ہوناپڑے ۔