میوہ پیداواریت میں بہتری کیلئے ٹیکنالوجی کا معقول استعمال لازمی:وزیراعلیٰ

سرینگر//وزیرا علیٰ محبوبہ مفتی نے باغبانی شعبے میں ٹیکنالوجی کے زیادہ سے زیادہ استعمال اور تبادلوں پر زور دیا ہے تاکہ میوہ جات کی پیداواریت میں اضافہ کے ساتھ ساتھ اس کی شیلف لائف میں بھی اضافہ ہو پائے۔ باغبانی شعبے میں عملائی جارہی مختلف طرح کی ٹیکنالوجی کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لئے طلب کی گئی ایک میٹنگ صدارت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی اور کھوج سے باغبانی صنعت کا ریاست میں دائرہ کافی وسیع ہوگا۔انہوںنے کہا کہ پودے لگانے سے لے کر میوہ جات کی اترائی تک نئی ٹیکنالوجی کے استعمال سے نہ صرف پیداواریت میں اضافہ ہوگا بلکہ میوہ درختوں کی گنجائش بھی بڑھے گی اور میوہ جات کی شیلف لائف میں اضافہ ہوگا۔محبوبہ مفتی نے خصوصی طور سے اعلیٰ معیاری سیب درختوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان درختوں میں ریاست میں سیبوں کی پیداواریت کی گنجائش میں انقلاب لانے کی صلاحیت ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاستی سرکار نے باغبانی شعبے میں سیبوں کی پیداواریت بڑھانے کے لئے رواں سال کے اوائل میں سکیم شروع کی اور اُمید ہے کہ اس سکیم کے مثبت نتائج نکلیں گے۔وزیرا علیٰ نے باغبانی شعبے بالخصوص سیبوں کی اترائی میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی ضرورت اُجاگر کی تاکہ بازاروں میں اچھے میوہ جات کی بہتر مارکیٹنگ ہوسکے۔باغبانی کے وزیر سید بشارت بخار ی نے وزیر اعلیٰ کو محکمہ میں عملائی جاری مختلف طرح کی ٹیکنالوجی سے آگاہ کیا۔ میٹنگ میں امریکہ ، کینڈا اور دیگر یورپی ممالک میں عملائی جاری ٹیکنالوجی کے بارے میں بھی وزیر اعلیٰ کو جانکاری دی گئی جس سے پھلوں کی تعداد اور معیار میں کافی بہتری آئی ہے۔اس موقعہ پر محکمہ باغبانی کے سیکرٹیر ی ایم ایچ ملک اور سائنس برادری سے تعلق رکھنے والے کچھ ممبران بھی موجود تھے۔