میوہ بردار ٹرانسپورٹ کیلئے مغل شاہراہ بہتر متبادل

سرینگر//سرینگر ۔جموں شاہراہ بار بار بند ہونے کے باعث دہلی کے میوہ تاجروں نے ریاستی گورنر ایس پی ملک کے نام مکتوب روانہ کرتے ہوئے ان گاڑیوں کو مغل شاہراہ سے سفر کرنے کی اجازت کا مطالبہ کیا ہے۔ میوہ تاجروں نے گورنر سے اپیل کی ہے کہ مغل شاہراہ پر میوہ بردار گاڑیوں کو روزانہ بنیادوں پر سفر کرنے کی اجازت دی جائے،تاکہ درماندہ ہونے کے نتیجے میں ہو رہئے نقصانات سے بچا جائے۔ کشمیر ایپل مرچنٹ ایسو سی ایشن کے صدر ایم آر کرپلانی نے یہ مکتوب ریاستی گورنر اور آئی جی ٹریفک کے نام روانہ کیا ہے،جس میں کہا گیا’’ آپ نے مغل روڑ سے گاڑیوں کو چلانے کا سلسلہ شروع کیا ہے،جس کے نتیجے میں میوہ تاجروں کو کافی راحت ملی ہے،تاہم معذرت کے ساتھ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ان گاڑیوں کو ایک دن چھوڑ کے سفر کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے،جس سے میوہ تاجروں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔‘‘انہوں نے گورنر سے اپیل کی ہے کہ ان گاڑیوں کو روزانہ کی بنیادوں پر مغل شاہراہ سے سفر کی اجازت دی جائے۔ کرپلانی کی طرف سے ارسال کردہ مکتوب جس کی ایک کاپی کشمیر عظمیٰ کے پاس بھی موجود ہے، میں مزید کہا گیا ہے’’ آپ سے استداء ہے کہ سیب سے بھری ان ٹرکوں کو مغل روڑ سے روزانہ کی بنیادوں پر چھوڑا جائے،تاکہ کولڈ اسٹور میں موجود پھل اور ’’گلاس ‘‘کو منزل مقصود تک پہنچایا جائے،جس سے میوہ تاجروں کو نقصانات سے بچایا جاسکتا ہے۔‘‘ انہوں نے تحریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک سرینگر جموں شاہراہ مکمل طور پر قابل آمدرفت ہوتی ہے،تب تک مغل شاہراہ سے روزانہ کی بنیادوں پر میوہ سے بھری ان ٹرکوں کو جانے کی اجازت دی جائے۔ رواں سال کے دوران قریب50دنوں تک سرینگر جموں شاہراہ گاریوں کی آمدرفت کیلئے بند رہی،جس سے تاجروں اور دیگر کاروباریوں کے علاوہ ٹرانسپوٹروں کو کافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن کے صدر حاجی محمد صادق بقال کا ماننا ہے کہ رواں سال کے دوران اب تک تاجروں کو قریب5ہزار کروڑ روپے کے نقصانات شاہراہ بند ہونے کے نتیجے میں اٹھانے پڑے،جبکہ مٹن ڈیلرس ایسو سی ایشن کے جنرل سیکریٹری معراج الدین گنائی کا ماننا ہے کہ صرف مٹن ڈیلروں کو25کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔