مین سٹریم اور علیحدگی پسند ایک ہوجائیں

نئی دہلی //سابق وزیراعلیٰ اورنیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ مین اسٹریم اور علیحدگی پسند جماعتوں کے درمیان اتحاد ہی موجودہ صورتحال کو ٹھیک کرسکتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ سرگرم جنگجو اپنی مرضی کے خود مالک ہیں اور ان پرکسی کاکنٹرول نہیں اور نہ وہ کسی کے کہنے پر اپنی سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔ ایک نیوز ایجنسی کو انٹرویو کے دوران ڈاکٹر فاروق نے کہاکہ کشمیرمیں سرگرم جنگجو اپنی مرضی کے مالک ہیں اور یہ کہنا صحیح نہیں کہ وہ کسی کی ہدایت پر یا کسی کی ایماء پر اپنی سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔فاروق عبداللہ کا کہناتھا کہ میں نہیں جانتا کہ جنگجوئوں کو کوئی کنٹرول کررہاہے کہ نہیں اورمیں یہ بھی نہیں جانتا کہ ان کی قیادت کون کررہا ہے۔سابق وزیراعلیٰ نے کہاکہ موجودہ صورتحال میں یہ نہیں کہاجاسکتاکہ آیا  علیحدگی پسندوں سمیت کسی بھی سیاسی گروپ کیلئے وادی میں کوئی افادیت ہے یا نہیں ۔ ڈاکٹر فاروق نے بتایاکہ کشمیر کی موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ مین اسٹریم اور علیحدگی پسند جماعتیں ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر کشمیری عوام کو دہائیوں سے جاری مصائب اور مشکلات سے نجات دلانے میں اپنا رول ادا کریں۔انہوںنے کہاکہ ہم سب کو متحدہونا پڑے گا تاکہ ہم کشمیر وادی اور کشمیریوں کو دہائیوں کی مشکلات اور سانحات سے بری صورتحال سے نجات دلاسکیں۔ ڈاکٹر فاروق کا کہناتھا کہ انہیں امید ہے کہ کشمیری نوجوان بہت جلد تشدد کے منفی اثرات بشمول ملی ٹنسی اور سنگباری سے اُکتا جائیں گے اور تشدد کے سبھی راستوں کو خیرباد کہہ دیں گے ۔ انہوںنے کہاکہ ایک دن ضرورآئیگا جب پتھر پھینکنے والوں کے ہاتھ میں قلم ہوگی اور بندوق اٹھانے والوں کے کاندھے پرکتابوں سے بھرا بستہ ہوگا۔ ڈاکٹر فاروق نے بتایاکہ موجودہ صورتحال کی وجہ سے ہماری نوجوان نسل اور نئی پود کا مستقبل تاریک بنتا جارہاہے اوراس کے ساتھ ساتھ ہماری سیاحتی صنعت بھی بری طرح سے متاثر ہورہی ہے ، اس لئے لازمی ہے کہ ہم سب مل بیٹھ کر مستقبل کے حوالے سے ایک بہتر حکمت عملی اور سوچ پیدا کریں۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ایس کے آئی سی سی میں دوروز قبل وزیراعظم ہندنریندرا مودی کی تقریر کاحوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اپنی تقریر میں ہمارے وزیراعظم نے بھی اس بات کا ذکر کیاکہ ریاست کی سیاحتی صنعت میں کتنی گنجائش موجود ہے کہ وہ یہاں کے عوام کی معاشی اور اقتصادی صورتحال میں بہترلاسکے۔ایک اور سوال کے جواب میں سابق وزیراعلیٰ کاکہناتھا کہ موجودہ صورتحال کے لئے صرف کشمیری ذمہ دار نہیں بلکہ یہاں جو کچھ ہورہاہے ،اس میں پاکستان ملوث ہے۔انہوںنے کہاکہ اگر پاکستان اپنی سرزمین سے جنگجوئوں کو یہاں بھیجنا بندکردے تو کشمیر کی صورتحال میں قابل قدر بہتری واقع ہوگی۔ تاہم انہوںنے کہاکہ مودی سرکار کو کشمیر اور پاکستان کے حوالے سے واجپائی کانقشہ قدم اختیار کرتے ہوئے مذاکرات کاعمل بحال کرنا چاہیے ۔انہوںنے کہاکہ بھارت اورپاکستان کو کشمیر کا تنازعہ مل بیٹھ کر بات چیت کے ذریعے حل کرنا پڑے گا کیونکہ مذاکرات کے بغیر آگے بڑھنے کاکوئی راستہ نہیں ہے ۔جنگ بندی کے حوالے سے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاکہ مرکزی سرکار کا یہ اقدام خوش آئند ہے اور امید کی جانی چاہیے کہ پاکستان کی جانب سے اس کا مثبت جواب دیاجائیگا۔