مینڈھر کے 4طبی مراکز میں ایمبو لینس سروس دستیاب نہیں | لوگ مریضوں کونجی گاڑیوں میں ہسپتال منتقل کرنے پر مجبور

مینڈھر //مینڈھر سب ڈویژن کے چار پرائمری ہیلتھ سنٹروں میں ایمبو لینس گاڑیاں دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے لوگ بھاری کرائے پر مریضوں کونجی گاڑیوں میں ہسپتال منتقل کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ حکومت سب ڈویژن میںشعبہ صحت کی بہتری کیلئے سنجیدہ نہیں ہے جس کی وجہ سے ان کو مریضوں و حاملہ خواتین کو منتقل کرنے میں مشکلات درپیش ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ پرائمری ہیلتھ سنٹر بھاٹہ دھوڑیاں ،پرائمری ہیلتھ سنٹر چھترال ،پرائمری ہیلتھ سنٹر ہرنی اور پرائمری ہیلتھ سنٹر بھروتی میں کوئی بھی ایمبو لینس دستیاب نہیں ہے جبکہ ہسپتالوں میں گاڑیوں کی فراہمی کیلئے اعلیٰ حکام کیساتھ ساتھ سیاستدانوں سے بھی رابطہ قائم کیا گیا لیکن برسوں بعد بھی کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جاسکا ۔انہوں نے بتایا کہ پرائمری ہیلتھ سنٹر بھروتی حد متارکہ کے نزدیک قائم ہے جبکہ ایمبولینس سروس نہ ہونے کی وجہ سے مقامی لوگ مریضوں کو کرائے پر نجی گاڑیوں میں مینڈھر یا راجوری کے ہسپتالوں میں منتقل کرتے ہیں ۔غور طلب ہے کہ سب ڈویژن میں قائم سبھی پرائمری ہیلتھ سنٹر مرکزی جگہوں پر ہیں جبکہ ان کے زیر تحت کئی پنچایتیں آتی ہیں جہاں پر طبی سہولیات کا کوئی متباد ل بھی موجود نہیں ہے ۔ضلع ترقیاتی کونسل رکن بالاکوٹ نے بتایا کہ پرائمری ہیلتھ سنٹر بھاٹہ دھوڑیاں سے ایمبو لینس کو کئی عرصہ قبل جموں منتقل کیا گیا تھا لیکن اس کے بعد گاڑی کو واپس ہی نہیں دیا جارہا ہے ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ پرائمری ہیلتھ سنٹر ہرنی ایک ایسی جگہ پر قائم ہے جس کے ملحقہ علاقوں میں ایک وسیع آبادی رہائش پذیر ہے لیکن انتظامیہ کی لاپرواہی کی وجہ سے مذکورہ طبی مراکز میں بنیادی سہولیات کی دستیابی کی جانب کوئی دھیان نہیں دیا جارہا ہے ۔مکینوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ پرائمری ہیلتھ سنٹروں میں بنیادی سہولیات کیساتھ ساتھ ایمبولینس سروس مہیا کروائی جائے ۔