مینڈھر نالہ پر پل نہیں بن پایا

 
مینڈھر//مینڈھر کاناری نکیتن ادارہ انتظامات کے حوالے توہمیشہ سرخیوں میں رہتاہے لیکن اس میں رہ رہی غریب گھرانوں کی لڑکیوں کو نالے پر پل نہ ہونے کی وجہ سے آمدورفت میں بھی مشکلات کاسامناہے ۔ناری نکیتن کی عمارت مینڈھر نالے کے کنارے پر واقع ہے جہاںسے آگے نالہ ہی نالہ ہے اور یہاں رہ رہی طالبات کو عبور و مرور میں سخت مشکلات درپیش ہیں ۔بدقسمتی کی بات ہے کہ اس وقت تک سرکار نے ان یتیم بچیوں کے لئے پل بنانے کا کوئی بھی منصوبہ مرتب نہیں کیا جبکہ مقامی لو گ بھی بارہا حکومت سے پل تعمیر کرنے کی اپیل کرچکے ہیں۔مقامی لوگوںکا کہنا تھا کہ ناری نکیتن کے علاوہ ایک بہت بڑا محلہ بھی ہے جس میں بڑی تعداد میں لوگ رہتے ہیں جن کا راستہ بھی اسی نالے سے ہوکر جاتاہے اور بارشوں کے موسم میں یاتو انہیں اپنی زندگی جوکھم میں ڈالناپڑتی یاپھر کئی کلو میٹر کا سفر طے کرکے مینڈھر قصبہ آناجاناپڑتاہے ۔ناری نکیتن کی بچیوں کو بھی روزانہ کئی کلو میٹر کا سفر پیدل طے کرناپڑتاہے ۔لوگوں کاکہناہے کہ سرکار نے یتیم بچیوں کے لئے ناری نکیتن کی عمارت بنا کر رہنے کا تو بندو بست کیا لیکن یہ نہیں سوچا کہ یہ یتیم بچیاں کس راستہ سے وہاں تک پہنچیں گی ۔ ان کہنا ہے کہ ان بچیوں کو نظرانداز کردیاگیاہے اور صرف فوج کی طرف سے کچھ امداد دی جارہی ہے ۔ان کاکہناہے کہ حکومت بڑے بڑے پل تعمیر کرنے کے دعوے کررہی ہے لیکن اس سے بڑھ کر زیادہ ضروری پل کی تعمیراور کہاں ہوسکتی ہے ۔انہوںنے کہاکہ اس نالے پر صرف ان بچیوں کیلئے ہی نہیں بلکہ مقامی آبادی کیلئے بھی پل بننا ضروری ہے لیکن نہ جانے حکومت کس گھڑی کا انتظار کررہی ہے ۔انہوںنے مانگ کی کہ اس مقام پر پل تعمیر کیاجائے ۔