میر واعظ کے بعد قریشی کا گیلانی سے ٹیلیفون رابطہ

سرینگر+اسلام آباد// میر واعظ عمر فاروق کیساتھ ٹیلیفونک بات چیت ، جس پر ہندوپاک حکومتوںکے درمیان لفظی کشیدگی بھی بڑھی،پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے لندن میں منعقد ہونے والی کشمیر کانفرنس میں شرکت سے قبل سید علی شاہ گیلانی کیساتھ بھی فون پر رابطہ کیا۔لندن روانگی سے قبل قریشی نے کہا کہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کا موقف انتہائی واضح اور دو ٹوک ہے۔وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ لندن میں یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر نہتے کشمیریوں پر ہونے والے بھارتی مظالم اور جبر استبداد کے خلاف بھر پور آواز اٹھائیں گے، کشمیر کے حوالے سے پاکستان کا موقف انتہائی واضح اور دو ٹوک ہے، کشمیر ہماری خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور کردہ قراردادوں کی روشنی میں کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حصول تک ان کی بھرپور سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا جب کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے لئے ہائی کمشنر کے دفتر (اوایچ سی ایچ آر) اوربرطانوی پارلیمانی گروپ کی حالیہ رپورٹس نے پاکستانی موقف کی تائید کی ہے۔دوسری طرف ایک بیان کے مطابق قریشی نے سنیچر کی رات ساڑھے آٹھ بجے سید علی گیلانی کے ساتھ ٹیلیفون پر کشمیر کی صورتحال پر بات کی۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے گیلانی نے کہا کہ کشمیری قوم کے لیے پاکستان کی اہمیت اور افادیت کسی بھی طور کم نہیں ہے، یہ دنیا کا وہ واحد ملک ہے، جو ان کے حقِ خودارادیت اور مطالبۂ آزادی کی کھل کر نہ صرف حمایت کرتا ہے، بلکہ  ان کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی سطح پر بھی مدد کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے ایک مضبوط پاکستان اولین ضرورت ہے اور اس لیے کشمیر کے ہر فرد کے دل میں اس ملک کے ساتھ محبت ہے اور وہ اس کے استحکام کے لیے دُعا کرتا ہے۔حریت رہنما نے کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کا ایک اہم فریق ہے اور اس مسئلے کا حتمی حل پاکستان کی شمولیت کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے اس موقع پر پاکستانی وزیر خارجہ نے حریت(گ) چیئرمین کو یقین دلایا کہ پاکستان کی حکومت بھارت کی جارحیت اور جموں کشمیر کے عوام کے خلاف ظلم وجبر اور بربریت کے خلاف موثر آواز بلند کریں گے۔  قریشی نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ جموں کشمیر کے مظلوم عوام کی حقِ خود ارادیت کی تحریک کو سیاسی، اخلاقی اور سفارتی سطح پر اپنی مدد جاری رکھے گا اور اس مسئلے کو اقوامِ متحدہ کی منظور کردہ قراردادوں کے مطابق حل کرانے میں اپنی سیاسی اور سفارتی کوششوں میں تیزی لائے گا۔