میر واعظ کی سیکورٹی کیلئے سینکڑوں نوجوان پیش پیش

سرینگر// حکومت کی طرف سے علیحدگی پسند لیڈروں کی سیکورٹی واپس لینے کے بعد نوجوانوں نے رضاکارانہ طور پر سیکورٹی کے فرائض انجام دینے کی پیش کش کی ہے۔ جمعہ کو جامع مسجد سرینگر کے باہر کئی نوجوان رضاکارانہ طور پر جامع مسجد کے دروازوں پر رہے اور جامع مسجد کے اندر جانے والے لوگوں کی جامہ تلاشی لینے میں مصروف رہے۔ اس دوران عوامی مجلس عمل (یوتھ)نے وادی کے طول و عرض کے ان ہزاروں نوجوانوں کے جذبے اور ایثار کو خراج تحسین پیش کیا ہے جنہوں نے گزشتہ کئی دنوں سے سربراہ تنظیم و حریت(ع) چیرمین  میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق کی حفاظت کیلئے رضاکارانہ طور اپنے اپنے ناموں کا اندراج کرایا ہے۔ چنانچہ اس سلسلے میں کل مرکزی جامع مسجد سرینگر میں ایک Volunteer Recruitment Campکے دوران سینکڑوں نوجوانوں نے اپنے ناموں کا اندراج کرکے خود کو میرواعظ کی حفاظت (Security) کیلئے رضاکارانہ طور اپنے آپ کو پیش کیا۔ اس مرحلے پریوتھ رہنما مشتاق احمد صوفی نے کہا کہ نوجوانوں کی اتنی بڑی تعداد میں سامنے آکر اپنے آپ کو پیش کرنا اور ان کے والہانہ جذبے اور جوش اور میرواعظ کے ساتھ انکی عقیدت و محبت کو ہر لحاظ سے قابل قدر اور لائق تحسین ہے۔انہوں نے کہا کہ فی الحال رضاکاروں کی بھرتی کا عمل روک دیا گیا ہے اور ضرورت پڑنے پر اس مہم کا دوبارہ پھر سے آغاز کیا جائیگا۔ صوفی نے کہا کہ نوجوانوں کا جذبہ اور ان کا ایثار ہمارے لئے ایک قیمتی اثاثہ ہے اور ان نوجوانوں نے میرواعظ کے تئیں جس عقیدت و محبت کا اظہار کیا ہے اس کو ہم قدر و منزلت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور اللہ سے ان تمام نوجوانوں کی سلامتی کیلئے دعا گو ہے۔