میر واعظ مولوی فاروق قتل میں ملوث 2مفرورملی ٹینٹ32سال بعد گرفتار ایس آئی اے یونٹ نے نیپال سے حراست میں لیا گیا، سی بی آئی کے سپرد

 نیوز ڈیسک

سرینگر//جموں و کشمیر پولیس کی خصوصی تفتیشی ایجنسی  ایس آئی اے نے تین دہائیوں قبل میر واعظ کشمیر مولوی محمد فاروق کے قتل میں ملوث دو مفرور ملی ٹینٹوں کو گرفتار کیا ہے۔ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، خصوصی ڈی جی، سی آئی ڈی، آر آر سوین نے کہا کہ 21 مئی 1990کو میر واعظ مولوی محمد فاروق کے قتل کا مقدمہ نگین پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا، جس میں 5ملی ٹینٹوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ایک تحریری بیان میں پولیس نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں پانچ دہشت گرد ملوث تھے۔ ان کی شناخت عبداللہ بنگرو اور رحمان شگن، ایوب ڈار، جاوید بٹ اور ظہوربٹ کے نام سے کی گئی۔ بنگرو اور شگن سیکورٹی فورسز کے ساتھ الگ الگ مقابلوں میں مارے گئے اور مقدمے کا سامنا نہیں کر سکے، جبکہ ایوب ڈار پر مقدمہ چلا اور انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ وہ اس وقت سری نگر سینٹرل جیل میں سزا کاٹ رہا ہے۔

 

جاوید بٹ اور ظہور بٹ مفرور تھے اور اس لیے مقدمے سے بچ گئے، جنہیں اب پکڑا گیا ہے۔پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ ایک اہم کارروائی میں پولیس کے SIA یونٹ نے حزب المجاہدین کے دو ملی ٹینٹوں جاوید احمد بٹ عرف اجمل خان ولد مرحوم حبیب اللہ بٹ ساکن سولنہ بالا، حا ل آزاد بستی نٹی پورہ سرینگر اور ظہور احمد بٹ عرف بلال ولدمرحوم محمد رمضان بٹ ساکن داندر کھاہ بٹہ مالو سری نگر کو گرفتار کیا ہے۔دونوں 21 مئی 1990 کو میر واعظ کو قتل کرنے کے بعد مفرور تھے۔ “دونوں زیر زمین چلے گئے تھے اور ان تمام برسوں کے دوران کچھ سال قبل خفیہ طور پر کشمیر واپس لوٹنے سے پہلے نیپال اور پاکستان کے علاوہ دیگر جگہوں پر چھپے رہے تھے۔

 

کم پروفائل کو برقرار رکھتے ہوئے، پتے بدلتے ہوئے اور رہائش گاہیں بدلتے ہوئے، وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے گریز کرتے تھے۔”سی بی آئی کیس کی طرف سیمیرواعظ فاروق کے قتل سے متعلق کیس کے سلسلے میں ملزمان اب دہلی کی ایک نامزد ٹاڈا عدالت میں مقدمے کا سامنا کریں گے۔، جس نے پانچ ملزمان میں سے ایک کے سلسلے میں پہلے ہی مقدمے کی سماعت مکمل کر لی ہے یعنی ایوب ڈارعرف اشفاق ولد مرحوم عبدالاحد ڈارساکن راولپورہ کو سزا سنائی گئی ہے اور عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ میرواعظ کے قتل میں قصوروار پائے جانے والے دو دیگر مفرور ملزمان عبداللہ بنگرو اور عبدالرحمان شگن 1990 کی دہائی میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں مارے گئے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ 21 مئی 1990 کو میرواعظ فاروق کو حزب المجاہدین کے ملی ٹینٹوںنے ان پر امن پسند اور ہندوستانی ایجنٹ ہونے کا الزام لگا کر قتل کر دیا تھا۔اس سلسلے میںکیس زیر نمبر 61/1990 پولیس اسٹیشن نگین، سرینگر میں جرم کی تحقیقات کے لیے درج کیا گیاہے۔ اس کے بعد اس دن کی حکومت نے 11 جون 1990 کو تفتیش سی بی آئی کو منتقل کر دی۔”تفتیش اور استغاثہ کے ایک طویل اور مشکل قانونی عمل کے بعد، نامزد ٹاڈا عدالت نے 2009 میں، واحد گرفتار ملزم ایوب ڈار کو عمر قید کی سزا سنائی۔ باقی چار روپوش تھے۔ بعد میںعبداللہ بنگرو اور رحمان شگن) مقابلوں میں مارے گئے، جاوید بٹ اور ایوب بٹ فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔”ایوب ڈار، سزا یافتہ ملی ٹینٹ نے اپنی سزا کے خلاف اپیل کی جسے 21 جولائی 2010 کو معزز سپریم کورٹ کے ڈویژن بنچ نے کرمنل اپیل نمبر 535 آف 2009 میں برقرار رکھا۔””میرواعظ کو قتل کرنے سے پہلے، حزب کے پانچوںملی ٹینٹ1990 میں تربیت کے لیے پاکستان گئے تھے۔ سری نگر واپسی پر، عبداللہ بنگرو کو اپریل 1990 میں پاکستان میں آئی ایس آئی ہینڈلر سے میرواعظ کو ختم کرنے کی ہدایات موصول ہوئیں۔”سپریم کورٹ کے حکم کے اقتباسات کے مطابق سال 1990 میں ہی اپریل کے مہینے میںحزب المجاہدین سے تعلق رکھنے والے ملزمان عبداللہ بنگرو، جاوید احمد بٹ عرف اجمل خان اور محمد ایوب ڈار عرف اشفاق نے میرواعظ مولوی فاروق کو ختم کرنے کی مجرمانہ سازش کی تھی۔ ملزم عبداللہ بنگرو، جو اس وقت حزب المجاہدین کا سربراہ تھا، نے جاوید احمدبٹ عرف اجمل خان اور محمد ایوب کو ہدایت کی کہ ایوب ڈار عرف اشفاق، میر واعظ مولوی فاروق کے خاتمے کا منصوبہ بنائیں گے۔ جاوید احمد بٹ عرف اجمل خان اس وقت سری نگر کے مرکزی علاقے میں حزب المجاہدین کے ایریا کمانڈر کے طور پر کام کر رہے تھے۔جبکہ جاوید اسی علاقے میں بطور گروپ کمانڈر کام کر رہا تھا۔ بعد ازاں عبدالرحمن شگن عرف عنایت اور ظہور احمد عرف بلال بھی سازش میں شامل ہو گئے۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ مئی 1990 کے دوسرے ہفتے میں جاوید احمد بٹ عرف اجمل خان کی ہدایت پر محمد ایوب ڈار عرف اشفاق اور عبدالرحمن شگن عرف عنایت نے نگین میں مولوی فاروق کی رہائش گاہ پر جا کر ان سے اپنی تنظیم حزب المجاہدین کی مالی مدد کی درخواست کی تھی۔ مولوی فاروق نے ان کی مدد کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی اور انہیں 2/3 دن بعد صبح کے اوقات میں ملنے کو کہا تھا۔ اس کے بعد دو ملزمان نے اپنے منصوبے کے مطابق علاقے کا سروے کیااور جاوید احمد بٹ عرف اجمل خان کو اطلاع دی۔21 مئی 1990کو تین ملزمان محمد ایوب ڈار عرف اشفاق، عبدالرحمان شگن عرف عنایت اور ظہور احمد عرف بلال عرف جانہ نے لوڈڈ پستول سے لیس ہو کر نگین میں واقع ”میرواعظ منزل” کا دورہ کیا۔ ملزم جاوید احمد بٹ عرف بلال نے ہدایت کی تھی کہ تین ملزمان میں سے ظہور احمد عرف بلال، مولوی فاروق پر گولی چلائیں گے اور باقی دو ملزمان ایوب ڈار اور عبدالرحمان شگن اور ظہور احمد عرف بلال کو کور فراہم کریں گے۔ منصوبے کے مطابق وہ سب میر واعظ منزل کے گیٹ پر پہنچے اور گیٹ کیپر مقبول شاہ سے ملاقات کی اور بتایا کہ وہ مولوی فاروق سے ملنا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد مقبول شاہ نے باغبان غلام قادر صوفی سے کہا کہ وہ انہیں پرسنل اسسٹنٹ کے پاس لے جائیں کیونکہ وہ خود بازار جا رہے تھے۔اس کے مطابق باغبان غلام قادر صوفی تینوں کو ذاتی معاون سید الرحمان کے پاس لے گیا، جس نے ان سے ان کے نام پوچھے تو ان میں سے ایک نے اپنا فرضی نام گلزار فاروق ساکن بٹہ مالو بتایا۔یہ نام پرسنل اسسٹنٹ نے کاغذ کی پرچی پر لکھا اور یہ پرچی باغبان غلام قادر صوفی کے ذریعے مولوی فاروق کے کمرے کے اندر بھیجی گئی تھی۔ کچھ دیر بعد مولوی فاروق نے تینوں ملزمان کو دفتر کے اندر بلایا جس پر ظہور احمد عرف بلال ،مولوی فاروق کے کمرے میں داخل ہوئے اور جاوید بٹ سمیت باقی دو ملزمان پی اے کے کمرے میں آ گئے۔ مولوی فاروق کے کمرے میں داخل ہوتے ہی ظہور احمد عرف بلال نے اپنے پستول سے مولوی فاروق پر کئی رانڈ فائر کیے جس کے فورا بعد ملزم عنایت نے پی اے کے کمرے سے باہر نکلتے ہوئے اپنے پستول سے ہوا میں فائر کیا جو دفتر کی بیرونی دیوار سے جا لگا۔ فائرنگ کی آواز سن کر مالی دفتر کے اندر آیا اور فرار ہونے کی کوشش کرنے والے اشفاق کو پکڑنے کی کوشش کی۔تاہم تمام ملزمان باغبان غلام قادر صوفی کو دھکا دیتے ہوئے فرار ہوگئے۔ ملزم بلال نے بھاگنے کی کوشش بھی کی تاہم اسے غلام قادر صوفی نے پکڑ لیا۔ دونوں کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی جس میں بلال کی دائیں آنکھ کے نیچے چوٹ آئی۔ بعد ازاں اپنے پستول سے ایک رائونڈ فائر کرنے کے بعد بلال بھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ ملزمین کشمیر یونیورسٹی کی طرف بھاگے، جن کے بعد غلام قادر صوفی مین روڈ تک اور یونیورسٹی گیٹ کے قریب پہنچے، حملہ آور یونیورسٹی کے احاطے سے ہوتے ہوئے صورہ کی طرف بھاگے اور سہ پہر کو چھتر گام پہنچے۔ پھر انہوں نے عبداللہ بنگرو اور اجمل خان کو مولوی فاروق کے قتل کی اطلاع دی۔ تینوں ملزمان کو عبداللہ بنگرو نے کچھ وقت کے لیے زیر زمین جانے کی ہدایت کی تھی۔کئی سالوں تک جاری رہنے والی تحقیقات کے دوران، یہ ثابت ہوا کہ اس وقت کے ایچ ایم کمانڈر عبداللہ بنگرو کی ہدایت پر، جس ملی ٹینٹ نے میر واعظ فاروق پر گولی چلائی وہ ظہور بٹ تھا، جو روپوش ہو کر گرفتاری سے بچنے میں کامیاب ہو گیا۔