میر آباد لین 3بٹہ مالو کی سڑک عوام کیلئے سوہان روح

سرینگر// میر آباد بٹہ مالو میں خستہ حال سڑ ک لوگوں کیلئے وبال جان بن چکی ہے ۔ مقامی لوگوں کے مطابق گزشتہ2برسوں سے سرکاری دفاتروں اور متعلقہ محکمہ کے چکر کاٹنے کے بعد بھی انہیں راحت نہیں ملی ہے۔میر آباد لین نمبر3بٹہ مالو میں رابطہ سڑ ک خستہ ہونے کی وجہ سے مقامی لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔مقامی لوگوں کے ایک وفد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سڑک اس قدر خستہ ہوچکی ہے کہ معمولی بارشوں سے پانی مکانوں کے صحن میں داخل ہوتا ہے اور یہ سڑک جھیل کی شکل اختیار کرتی ہے اورہفتوں تک پانی کا اخراج نہیں ہوتا۔میر آباد لین نمبر3کے لوگوں نے بتایا کہ گرمیوں میں اس سڑک سے اٹھنے والے گرد و غبار کی وجہ سے لوگوں کا جینا حرام ہوچکا ہے اور بچوں اور بزرگوں کے علاوہ بیماروں کیلئے سڑک سوہان روح بن چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر چہ سرینگر میں سڑکوں کی مرمت کی گئی اور میگڈم بھی بچھایا گیاتاہم میر آباد کی لین نمبر3کو نظر انداز کیا گیا۔مقامی لوگوں کے مطابق اس سڑک پر واقع اسکول میں زیر تعلیم بچے بھی گرد و غبار اور پانی کے جمع رہنے کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے شکار ہوتے ہیںاور اگر فوری طور پر اس سڑک کی مرمت نہیں کی گئی تو اہل علاقہ ہی بیماریوں میں مبتلا ہوجائے گا۔وفد نے بتایا کہ ایسا لگ ہی نہیں رہا ہے کہ یہ علاقہ شہر کے قلب میں واقع ہے بلکہ دوردراز پہاڑی علاقوں میں بھی اس سے بہتر سڑکیں موجود ہیں۔وفد کا کہنا ہے کہ اگر چہ اس سلسلے میں گزشتہ2برسوں سے وہ انتظامیہ اور متعلقہ محکمہ سے درخواست کر رہے ہیں کہ سڑک کی مرمت کر کے میگڈم بچھایا جائے مگر انکی دادرسی نہیں کی گئی۔ وفد نے کہا کہ متعلقہ حکام کی طرف سے یقین دہانیوں بھی سراب ثابت ہوچکی ہے،اور اب لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔مقامی لوگوں نے دھمکی دی کہ اگر اس سڑک کی مرمت کرکے فوری طور پر میگڈم نہیں بچھایا گیا تو وہ سڑکوں پر آئے گے،اور اس دوران اگر امن و قانون کی صورتحال پیدا ہوئی تو اس کیلئے متعلقہ محکمہ اور اس کے افسران ذمہ دار ہونگے۔