’میری زندگی کھلی کتاب ہے‘:انجینئر رشید

سرینگر//کچھ ٹیلی ویژن چینلوں کی جانب سے آمدن سے زیادہ جائیداد بنانے کے الزام کے بعد اپنی منقولہ و غیر منقولہ جائیدادکی تفصیل جاری کرتے ہوئے عوامی اتحاد پارٹی کے صدر اور ممبر اسمبلی لنگیٹ انجینئر رشید نے ٹیلی ویژن چینلوں کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان تفصیلات کو غلط اور اپنے الزامات کو درست ثابت کریں۔ جمعرات کو یہاں ایک پریس کانفرنس کے دوران انجینئر رشید نے مرکزی سرکار کے بعض اداروں اور ذرائع ابلاغ کے ایک حصے پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے کشمیری قیادت کو بدنام کرنے کی ایک مشترکہ مہم شروع کی ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ انکی کردار کشی کرنے والے ٹیلی ویژن چینلوں کے صحافیوں کے خلاف جموں کشمیر ہائی کورٹ اور دیگر دستیاب فورموں میں ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرنے پر سوچ رہے ہیں۔انجینئر رشید نے کہا کہ انکی زندگی ایک کھلی کتاب کی طرح ہے جس میںچھپانے کیلئے کچھ بھی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات معمول کی طرح ٹیلی ویژن دیکھتے ہوئے وہ تب سکتے میں آگئے جب اپنے آپ کو نمبر ون کہنے والی ایک چینل یہ دعویٰ کرتے ہوئے ان کی کردار کشی کی جا رہی تھی کہ انجینئر رشید نے آمدنی سے زیادہ اور بہت بھاری جائیداد کھڑا کی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس طرح کے ٹیلی ویژن چینل کشمیر کے حوالے سے پہلے ہی اپنی اعتباریت ختم کرچکے ہیںتاہم یہ اندازہ بھی نہیںلگایا جاسکتا تھا کہ وہ اس حد تک بھی گر سکتے ہیں۔انجینئر رشید نے کہا ’’ میں شائد خود بھی کرائم برانچ سے میری جائیدادکی تحقیقات کرنے کی باضابطہ درخواست کروںکیونکہ ایسے میں ایک مثال قائم ہوسکتی اور پھر ان پولیس افسروں،بیوروکریٹوں اور مین اسٹریم کے سیاسی لیڈروں کی جائیداد کیلئے تحقیقات کا راستہ ہموار ہوسکتا ہے جنہوں نے واقعی بھاری جائیداد کھڑا کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض لیڈر حضرات نے کرناہ سے دبئی اور سویزرلینڈ سے برطانیہ تک جو جائیداد بنائی ہے، حکومت ہند کو سچ بولنے والے کشمیریوں کی کردار کشی سے تھوڑا فرصت نکال کر اسکی بھی تحقیقات کرانی چاہئے ۔انجینئر رشید نے اس موقعہ پرآٹھ سال قبل ممبر اسمبلی بننے سے لیکر آج تک اپنی اور اپنے پورے گھر کی آمدن کا گوشوارہ سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی دلچسپی رکھنے والا چاہے تو اسکی کرائم برانچ سے لیکر این آئی اے تک کسی بھی ادارے کے ذریعے تحقیقات کرواسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ میرے ممبر اسمبلی بننے سے لیکرابھی تک انکے علاوہ انکے بھائی اور بھابی کی تنخواہ اور سابق ہیڈماسٹر والد کی پنشن وغیرہ سے گھرکی کل آمدن پونے 3 کروڑ روپے تک بنتی ہے جبکہ انہوں نے اور انکے بھائی نے قریب 60 لاکھ روپے کا بنک سے قرضہ لیا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں میں ان کے پاس پانچ مرلہ زمین پر ایک مکان ہے جس کیلئے ان کے والد نے 1996میں زمین خریدی تھی جبکہ سرینگر میں دس مرلہ زمین پر انکا یک منزلہ مکان ہے۔کشمیری قیادت کی کردارکشی کا مرکزی سرکار پر الزام عائد کرتے ہوئے انجینئر رشید نے کہا کہ ایسے حربے کشمیریوں کو سچ بولنے اور حق خود ارادیت کا مطالبہ کرنے سے روکنے کیلئے کئے جاتے ہیں لیکن ایسا نہ پہلے ممکن ہو سکا ہے اور نہ ہی اب ممکن ہے۔انہوں نے مزاحمتی قیادت کے اس الزام کو درست ٹھہرایا کہ حکومت ہند این آئی کو کشمیریوں کے خلاف ایک ہتھیار کے بطور استعمال کرنے لگی ہے تاہم انہوں نے کہاکہ یہ ہتھیار خود ہندوستان کے خلاف استعمال ہوتا نظر آرہا ہے۔پریس کانفرنس کے دوران انجینئر رشید نے ا علان کیا کہ وہ اگلے ایک ماہ تک بھارتی میڈیا کے جھوٹے پروپیگنڈہ کے خلاف احتجاج کے بطور کسی بھی بحث و مباحثے میں شریک نہیں ہوں گے۔