میرواعظ کی خانہ نظربندی کی انتقام گیری: حریت (ع)

 سرینگر//حریت (ع)ترجمان نے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق کی ایک بار پھرخانہ نظر بندی اور انکی جملہ دینی، سیاسی ، سماجی اور تبلیغی سرگرمیوں پر عائد پابندی کو نہ صرف بلا جواز اور غیر جمہوری بلکہ ریاستی حکمرانوں کی میرواعظ کے تئیں جارحانہ رویوں سے عبارت پالیسی قرار دیا۔ ترجمان نے کہاکہ میرواعظ کو ایک بار پھر نماز جمعہ اور منصبی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے روکنا مداخلت فی الدین کے زمرے میں آتا ہے جوعوام کیلئے ناقابل قبول اور ہر لحاظ سے قابل تشویش اور لائق مذمت ہے۔ترجمان نے کہا کہ عاشورہ محرم کے ان مقدس ایام میں بھی میرواعظ کی سرگرمیوں پر آئے روز کی پابندیوں سے نہ صرف ایک مذہبی اور سیاسی رہنما ہونے کی حیثیت سے انکی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں بلکہ سماجی سطح پر انکی روزانہ کی مصروفیات بھی پابندی کے دائرے میں آنے کی وجہ سے عام لوگوںکو شدید پریشانیوںکا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ریاستی حکمران جب چاہیںمیرواعظ کو بلا کسی معقول جواز کے آئے روز ان کو اپنی رہائش گاہ میں نظر بند کرکے انکی سرگرمیوں پر قدغنیں عائد کررہے ہیں اور اس طرح انہیں اور ان کے اپنے عوام سے روابط کو محدود کرنے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے جوبے حد افسوسناک ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ حکمرانوں کی اس طرح کی روش نہ صرف ہر لحاظ سے غیر جمہوری اور غیر اخلاقی ہے بلکہ میرواعظ کے تئیں یہ پالیسی سراسر انتقام گیرانہ سیاست کاری سے عبارت ہے ۔ترجمان نے سینئر حریت رہنما مختار احمد وازہ کی عوامی رابطہ مہم کے دوران انہیں ایک بار پھر گرفتار کرنے کی مذمت کی۔