میرواعظ کا این ا ٓئی اے کے سامنے پیش نہ ہونے کا فیصلہ

سرینگر// حریت(ع) چیئرمین میرواعظ عمرفاروق نے مرکزی تحقیقاتی ایجنسی’’این آئی ائے‘‘ کے سامنے ذاتی طور پر پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے برعکس اپنے وکیل کے ذریعے ایجنسی کے نام تحریری طور پر جوابی دعویٰ پیش کیا۔ میر واعظ عمر فاروق کے قانونی مشیر نے جوابی نوٹس این آئی کو روانہ کیا جس میں کہا گیا ’’ ایسا نظر آرہا ہے کہ نوٹس(میر واعظ کے نام) غلط تاثرات اور معلومات کے نتیجے میں اجراء کی گئی ہے،جس کا واحد مقصد میر واعظ کشمیر کی شبیہ کو بگاڑنا ہے،اور انکی حیثیت اور پوزیشن معلوم ہونے کے باوجود یہ قانون کے برعکس خیالات کا نتیجہ نظر آرہا ہے۔‘‘ جوابی ردعمل میں کہا گیا ہے کہ میر واعظ عمر فاروق  ایف آئی آر/این آئی ائے کرائم نمبر RC -10/2017/NIA/DLI سے واقف نہیں ہیں۔ میر واعظ کشمیر کے قانونی صلاح کار کی طرف سے روانہ کئے گئے جوابی ردعمل میں کہا گیا ہے کہ انکے کیلئے دہلی کا سفر’’ غیر یقینی ماحول کی صورتحال میں‘‘ دانشمندی نہیں ہے،’’اور انکی ذات کو خطرات ہیں۔‘‘
نوٹس میں تحریر کیاگیا ہے کہ اگر این آئی ائے میر واعظ عمر فاروق کی پوچھ تاچھ کرنا چاہتی ہے تو’’ وہ سرینگر میں ایسا کرسکتے ہیں،اور وہ اس سلسلے میں تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں،اور ان کے پاس کوئی چیز پوشیدہ رکھنے کیلئے نہیں ہے۔‘‘ این آئی کے نام روانہ کئے گئے جوابی ردعمل میں کہا گیا ہے ’’ وادی میں نامساعد صورتحال پیدا ہونے کا احتمال ہے جبکہ ریاستی عوام کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچنے سے ممکنہ طور پر نازک اور کشیدہ صورتحال میں خلل پڑ سکتا ہے۔‘‘ میر واعظ کے قانونی مشیرنے نوٹس میں تحریر کیا ہے کہ حریت(ع) چیئرمین نے تحقیقاتی ایجنسی کے ساتھ حال ہی میں اس وقت تعاون کیا،جب این آئی ائے نے انکی رہائش گاہ پر26فروری2019کو چھاپہ مارا،اور کسی قسم کا رخنہ نہیں ڈالا۔ جوابی ردعمل میں مزید کہا گیا ہے’’ کئی دستاویزات،ذاتی اشیاء،لیپ ٹاپ،سیل فون وغیر چھینے گئے،اور کوئی بھی رسید نہیں دی گئی،جبکہ اس سے قبل بھی کئی مواقع پر میر واعظ کے قریبی رشتہ داروں کو تحقیقاتی ایجنسی نے طلب کیا،اور یہ بھی حقیقت ہے کہ انہوں نے بھی تعاون کیا۔ اس جوابی ردعمل میں خاندان میر واعظ کی طرف سے ریاست کے علمی،مذہبی اور روحانی میدانوں میں کاموں کا بھی ذکر کیا گیا ہے،جبکہ اس بات کی وضاحت بھی کی گئی ہے کہ موجودہ میر واعظ ،عمر فاروق بھی اسی روایت پر گامزن ہیں۔این آئی ائے کو روانہ کئے گئے جوابی ردعمل میں میر واعظ کے منصب اور کشمیری عوام کے اس سے جڑے مذہبی جذبات اور احساسات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔جوابی نوٹس میں میر واعظ کے قانونی مشیر نے کہا ہے کہ حریت(ع) چیئرمین کا موقف واضح ہے،اور انہوں نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو ایک انسانی اور سیاسی تنازعہ قرار دیا ہے،’’ جس کا سیاسی حل، اقوام متحدہ کی قرار دادوں یا ہندوستان،پاکستان اور کشمیری عوام کے درمیان سہ فریقی مذاکرات سے برآمد کیا جاسکتا ہے۔ میر واعظ عمر فاروق کے قانونی صلاح کار کی طرف سے این آئی ائے کو روانہ کئے گئے جوابی ردعمل میں کہا گیا’’ میر واعظ نے ہمیشہ کہا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان خوشگوار تعلقات مسئلہ کشمیر اور خطہ کیلئے لازمی ہے۔
میر واعظ عمر فاروق کی سربراہی والی حریت کانفرنس کی طرف سے مرکز کے ساتھ  مذاکراتی عمل کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ کونسل کے مطابق’’ یہ ریکارڑ میں موجود ہے کہ2004اور2005میں میر واعظ اور حریت میں انکے ساتھیوں نے،وزیر اعظم ہند اٹل بہاری واجپائی کی پہل پر شروع کی گئی مذاکراتی عمل میں شرکت کی،جس کے بعد یہ سلسلہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کے ساتھ بھی جاری رہا،جبکہ حکومت ہند ہی میر واعظ اور انکے ساتھیوں کو پاکستان کیلئے پرامن اور مسئلہ کا پرامن حل کی تلاش میں سفری دستاویزات فراہم کرنے میں سہولیت کار بنی۔‘‘ اس جوابی ردعمل میں میر واعظ کے قانونی صلاح کار نے این آئی سے کہا موجودہ نازک صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے پوچھ تاچھ کیلئے جائے جگہ تبدیل کرنے کی درخواست کی ہے۔