میجر گگوئی کی کرتوت کا معاملہ: قانون کے شکنجے میں لانافوج اور پولیس کیلئے آزمائش

سرینگر// حریت(گ) چیئر مین سید علی گیلانی نے بھارتی فوج  کے ہاتھوں سرزمین کشمیر پر انسانی حقوق کی پامالیوں بالخصوص عفت مآب خواتین کے جنسی استحصال کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برس نام نہاد الیکشن کے موقع پر بڈگام کے ایک دوردراز گاؤں میں بھارتی فوج کے ایک آفیسر میجر گگوئی کی طرف سے فاروق احمد ڈار کو فوجی گاڑی کے بانٹ پر رسیوں سے باندھ کر انسانی ڈھال بنانا جہاں بھارتی افواج کے سامنے کشمیری عوام کی بے بسی اور لاچاری کا عنوان بن کر تاریخ کشمیر کے ماتھے پر ایک بدنما اور عبرت آمیز داغ کی حیثیت رکھتا ہے وہیں آج ماہ رمضان کے مقدس مہینے میں جب کہ شیطان لعین کو بھی قید سنگین میں پابند سلاسل رکھا جاتا ہے، اسی انعام یافتہ فوجی میجر کی طرف سے کشمیری قوم کی ایک کمسن معصوم بیٹی کو ورغلا پھسلا کر ایک ہوٹل میں لے جانے کا سانحہ کشمیر کی سرزمین پر بھارت کے افواج کی ایک ایسی داستان کی پردہ کُشائی ہے، جسے بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ حریت چیئرمین نے کہا کہ فوج، نیم فوجی دستوں اور انتظامیہ کی طرف سے کشمیری عوام کی غلامانہ اور مظلومانہ زندگی کا استحصال کرتے ہوئے عورت ذات کے دامن حرمت کو داغدار بنائے جانے کی شرمناک کارروائیاں اب مستقل جنگی پالیسی کے طور پر استعمال کرنے کا ایک بین ثبوت ہے۔ گیلانی نے کہا کہ فوج کی طرف سے منعقد کی جانے والی افطار پارٹیوں، مفت طبی کیمپوں، آرمی گڈول اسکولوں، بھارت درشن، سیروتفریح اور کھیل کود کے پروگراموں کا مکمل بائیکاٹ کریں۔ حریت رہنما نے کہا کہ میجر گگوئی کو ایک نابالغ لڑکی کا جنسی استحصال کرنے پر عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کرنا بھارت کی فوجی انتظامیہ اور مقامی پولیس کے لیے ایک آزمائش ہے، بصورت دیگر اگر ایسے مجرمین کو بری الذمہ قرار دے کر آزاد گھومنے پھرنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے تو عوام کا پیمانہ صبر لبریز ہونے کا اندیشہ لاحق ہوسکتا ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری بھارت کے ارباب اقتدار پر عائد ہوگی۔