میجر گگوئی کو کورٹ مارشل اور انضباطی کاروائی کا سامنا

سرینگر// سرینگر پارلیمانی نشست کے ضمنی انتخابات کے دوران بیروہ کے ایک شہری کو گاڑی سے باندھ کر انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے پر بیرون ریاست ’’ہیرو‘‘ جیسے سراہنے والا فوجی میجر لتل گگوئے مصیبت میں پڑ گئے ہیں،کیونکہ فوج نے کورٹ آف انکوئری کے دوران میجر گگوئے کو ایک دوشیزہ کے ساتھ تعلقات بنانے اور تعیناتی کے مقام سے دور رہنے پر فرد جرم عائد کیا ہے۔ کورٹ آف انکوئری میں میجر لتل گگوئے کے خلاف کاروائی کرنے اور کورٹ مارشل کرنے کی بھی وکالت کی ہے۔فوج کی با اختیار کمیٹی اب آئندہ کاروائی کا فیصلہ کرنے کیلئے ثبوتوں کے خلاصہ کو قلمبند کریں گی۔ فوجی ذرائع کے مطابق فوج کی باختیار اتھارٹی نے23مئی کو اس وقت کورٹ آف انکوائری کا حکم دیا تھا،جب میجر لتل گگوئے کو سرینگر کے ایک ہوٹل میں ایک خاتون کے ہمراہ ہوٹل عملے نے کمرہ دینے سے انکار کیا تھا،اور بعد میں آپسی تو تو میں میں کے بعد انہیں پولیس نے حراست میں لیا تھا۔ذرائع کے مطابق’’ کورٹ آف انکوئری کے دوران میجر لتل گگوئے کو ہدایات کے برعکس ایک مقامی دوشیزہ کے ساتھ تعلقات بنانے کیلئے ذمہ دار ٹھرایا گیا،جبکہ میجر کو جائے تعیناتی سے دور رہنے کیلئے بھی قصور وارپایاگیا‘‘۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کورٹ آف انکوئری کے دوران میجر لتل گوئے کے خلاف کورٹ مارشل اور انضباطیکاروائی کرنے کی بھی وکالت کی گئی ہے۔ ذرئع نے بتایا کہ کورٹ آف انکوائری افسران کی ایک ٹیم نے کی جنہوں نے اپنی رپورٹ با اختیار فوجی حکام کو سونپا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے’’ میجر لتل گگوئے پر سب سے بڑا الزام یہ ہے کہ وہ جائے تعیناتی سے دور پائے گئے،جبکہ انکی جائے تعیناتی آپریشنل علاقہ ہے،اور اس پر کوئی بھی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا،اور اسی وجہ سے میجر لتل گگوئے ایک بڑے مصیبت میں پھنس گئے ہیں‘‘۔فوج نے 23مئی کو سرینگر ہو ٹل معاملہ سامنے آنے کے بعد اس حوالے سے کورٹ آف انکوائری کے احکامات صادر کئے تھے اور 25مئی کو اسوقت فوجی سر براہ جنرل بپن راوت نے کہا تھا کہ اگر فوجی میجر گو گوئی نے ضابطہ کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا تو اس کو مثالی سزا دی جائے گی ،تاہم سرینگر میں ضمنی پارلیمانی حلقہ انتخاب کے وقت ایک نوجوان فاروق احمد کو گاڑی کے آگے باندھ کر انسانی ڈھال بنا کر کئی علاقوں کا گشت کرانے وقت فوجی سربراہ نے میجر لتل گگوئے کی پشت پناہی کی تھی۔جنرل راوت کا کہنا تھا’’میجر گگوئے کو کس بات کی سزا دی جائے گی،جبکہ میجر گگوئے کو فوجی چیف کے اعزازی میڈل سے بھی نوازا گیا تھا۔جنرل بپن راوت کا کہنا تھا کہ نوجوان افسران کی حصولہ افزائی کیلئے میجر گگوئے کو اعزاز سے نوازا گیا،کیونکہ وہ جنگجوئت سے متاثر ریاستوں میں مشکل ترین صورتحال میں کام کرتے ہیں۔