میجر،3فوجی،پولیس اہلکار،3جنگجو اور شہری ہلاک

 ڈی آ ئی جی جنوبی کشمیر، بریگیڈئر، لیفٹنٹ کرنل ،کیپٹن اور پولیس سب انسپکٹر سمیت 6 زخمی

۔2 رہائشی مکانوں سمیت 5 تعمیراتی ڈھانچے خاکستر، علاقے میں پرتشدد جھڑ پیں، ہڑتال اور انٹر نیٹ سروس معطل

 
پلوامہ //پنگلنہ پلوامہ میں فوج اور جنگجوئوں کے مابین15گھنٹے تک خونین تصادم آرائی کے دوران ایک میجر،3جونیئر کمیشنڈ آفیسر، پولیس ہیڈ کانسٹبل، شہری اور 3جنگجو ہلاک جبکہ ڈی آ ئی جی جنوبی کشمیر امت کمار ، ایک بریگیڈئر،ایک لیفٹنٹ کرنل اور ایک کیپٹن سمیت پانچ اہلکار زخمی ہوئے ۔مسلح تصادم آرائی میں 2رہائشی مکان ، دو گائو خانے اور ایک کچن بھی خاکستر ہوئے جبکہ قریب 10مکانوں کو شدید نقصان پہنچا۔پولیس کا دعویٰ ہے کہ مارے گئے جنگجوئوں میں جیش محمد کا چیف آپریشنل کمانڈر کامران بھی ہے، جو اونتی پورہ واقعہ کا ماسٹرمائنڈ تھا۔اس دوران تصادم  کے مقام کے متصل دن بھر نوجوانوں اور فورسز میں پتھرائو اور شلنگ کے واقعات ہوتے رہے جبکہ پنگلنہ میں کرفیو نافذ کیا گیا اور پلوامہ کے علاوہ دیگر مقامات پر مکمل ہڑتال کی گئی۔پلوامہ اور شوپیان اضلاع میںانٹر نیٹ سروس معطل کی گئی۔

مسلح تصادم کب ہوا؟

مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ فوج، سی آر پی ایف اور پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ نے اتوار کی رات قریب 11بجکر45منٹ پر پنگلنہ  سرینگر روڑ پر واقع گائوں کی ایک بستی نائیک محلہ کا محاصرہ کیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں کم سے کم 3 جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی جس کے بعد55 آر آر،سی آ ر پی ایف اور اسپیشل آپریشن گروپ نے محاصرہ کیا۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ قریب12بجکر 15منٹ پر فائرنگ شروع ہوئی، اور وہ گھروں میں سہم کر رہ گئے۔انہوں نے کہا کہ فائرنگ کا سلسلہ قریب 15بیس منٹ تک جاری رہا۔جس کے بعد مکمل خاموشی چھا گئی۔عین شاہدین نے مزید بتایا کہ اسکے بعد فورسز اہلکار کچھ گھروں میں گھس گئے اور انہوں نے تین نوجوانوں کو مقام جھڑپ پر اپنے ساتھ لیا تاکہ محلہ کی تلاشی لی جاسکے۔ایک نوجوان، جو تلاشی پارٹی کیساتھ تھا، نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ جونہی وہ نائیک محلہ کے نزدک پہنچ گئے تو انہوں نے شہری مشتاق احمد کی لاش دیکھی، اور تھوڑی دوری پر خون میں لت پت فوج کے 4اہلکاروں کی لاشیں بھی دیکھیں،جنہیں اٹھانے کیلئے انہوں نے فوجی اہلکاروں کی مدد بھی کی۔انکا کہنا تھا کہ اسکے بعد رات بھر ایک ایک گھر کی تلاشی بڑی احتیاط سے لی گئی،لیکن حملہ آور جنگجوئوں کے بارے میں فورسز کو کوئی سراغ نہیں ملا۔مذکورہ نوجوان نے کہا کہ جب صبح تک تلاشی کارروائی جاری رکھی گئی توقریب 7بجے دوبارہ فائرنگ کا آغاز ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اسکے بعد وقفے وقفے سے دھماکے اور شدید فائرنگ ہوتی رہی۔انہوں نے مزید کہا کہ صبح 11بجے کے قریب فائرنگ پھر رک گئی اور مکمل خاموشی چھا گئی۔تاہم محض ایک گھنٹے کے بعد شدید فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا جو 4گھنٹے تک مسلسل جاری رہا۔عین شاہدین نے بتایا کہ زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر گاڑیوں میں بھر کر لیا گیا ۔انکا کہنا تھا کہ وہ فائرنگ کے مقام سے زیادہ دور نہیں تھے، لیکن ڈی آئی جی اور دیگر فوجی افسر اس وقت زخمی ہوئے جب وہ ایک جگہ پر مشورہ کررہے تھے کہ اسی دوران ایک جنگجو نے کہیں سے نکل کر ان پر شدید فائرنگ کی۔جس کے بعد وہ زخمی ہوئے۔مذکورہ نوجوان نے مزید بتایا کہ سہ پہر پانچ بجے مسلح تصادم آرائی اس وقت ختم ہوئی اور محاصرہ اٹھایا گیا جب محمد عبداللہ حجام ولد مرحوم غلام محمد حجام اور اسکے بھائی کا مشترکہ مکان اور کچن،انکے چیچرے بھائی محمد یوسف حجام کا رہائشی مکان اور گائو خانہ اور علی محمد بٹ کا گائو خانہ خاکستر ہوئے۔ انکا کہنا تھا کہ بعد میں ملبے سے تین لاشیں بر آمد کی گئیں۔تصادم آرائی کے دوران دو طرفہ شلنگ اور فائرنگ کے باعث عبدالغنی گنائی، مشتاق احمد اور دیگر متعدد افراد کے رہائشی مکانوں کو نقصان پہنچا۔

ہلاکتیں اور زخمی

 گو لیوں کے تبادلے میں ایک میجر سمیت چار فوجی اہلکار جاں بحق ہوئے۔مہلوک فوجیوں کی شناخت55آر آر کے میجر وی ایس ڈونڈئیل ، جونیئر کمیشنڈ آفیسر شیورام، جے سی او اجے کمار،اور جے سی او ہری سنگھ کے طور پر ہوئی ہے۔جبکہ ڈی آئی جی جنوبی کشمیر کے ذاتی محافظ ہیڈ کانسٹیبل عبدالرشید بھی گولیوں کی زد میں آکر مارا گیا جب وہ آفیسر کیساتھ کھڑا تھا۔اسکے علاوہ اتوار کی رات کو ہی 46سالہ شہری مشتاق احمدصوفی بھی جاں بحق ہوا تھا۔جھرپ کے دوران مقامی جنگجو ہلال احمد نائیک ساکن پنگلنہ عرف غازی ہلال کے علاوہ غیر ملکی کامران نامی جنگجو بھی جاں بحق ہوئے، جبکہ تیسرے کی شناخت کی جارہی ہے لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ وہ بھی غیر ملکی ہے۔دو طرفہ فائرنگ کے تبادلے میں جنوبی کشمیر کے ڈی آئی جی امت کمار، آر آر 12سیکٹر کے بریگیڈیئر ہر بیر سنگھ،55آر آر کے لیفٹنٹ کرنل،کیپٹن، سپاہی گلزار محمد اورپولیس کا ایک سب انسپکٹر زخمی ہوئے۔معلوم ہوا ہے کہ ڈی آئی جی کی ٹانگ میں گولی لگی،تاہم انکی حالت مستحکم ہے جبکہ بریگیڈئر ہر بیر سنگھ شدید طور پر زخمی ہوئے ، جنہیں بادامی باغ فوجی اسپتال لیجایا گیا۔

جھڑپیں اور کرفیو

پنگلنہ میں جب مسلح تصادم آرائی شروع ہوئی تو صبح سویرے  پلوامہ اور سرینگر جانے والے راستے بند کئے گئے، جبکہ گائوں کی مکمل طور پر ناکہ بندی کی گئی۔اس کے بعد گائوں کے کسی بھی فرد کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی اور کرفیو نافذ کردیا گیا۔گائوں کے اوپری حصے میں متعدد مظاہرین جمع ہوئے اور انہوں نے  نعرے بازی اور پتھرائو کیا۔ اسکے ساتھ ہی کچھ او مقامات پر مظاہرین اور فورسز میں تصادم آرائی ہوئی۔ فورسز اہلکار گاڑیوںمیں نصب پبلک ایڈریس سسٹم کے ذریعے دن بھر مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے اپیلیں کرتے رہے۔ لیکن وہ بہت کم تعداد میں ہی فورسز پر پتھرائو کرتے رہے لیکن فورسز نے انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف دور سے شلنگ کا سہارا لیا اور انہیں پیش قدمی نہیں کرنے دی۔سوموار دن بھر یہی صورتحال جاری رہی۔ اس دوران کاکہ پورہ، مارول اور پلوامہ میں بھی اکا دکا پتھرائو کے واقعات رونما ہوئے۔پلوامہ ، کاکہ پورہ،پاہو، اور دیگر علاقوں میں مکمل ہڑتال رہی اور ہر قسم کے تجارتی اور دیگر ادارے بند رہے۔پنگلنہ کی پوری آبادی 17گھنٹے تک محصور رہی اور جونہی محاصرہ ختم کیا گیا  تو یہاں احتجاج شروع ہوا۔

پولیس بیان

پولیس کا کہنا ہے کہ پنگلنہ میں مسلح جھڑپ کے دوران 3جنگجو مارے گئے جن میں 2غیر ملکی ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ مارے گئے جنگجوئوں سے اسلحہ و دیگر گولہ بارود ضبط کیا گیا۔ پولیس کا مزید کہنا ہے کہ جیش محمد کا کامران 2017سے سرگرم تھا ۔ وہ پہلے اونتی پورہ اور بعد میں پلوامہ میں سرگرم رہا۔ انہوں نے ہی جیش کے لئے جنگجوئوں کی بھرتی کا کام کیا اور وی جیش سربراہ اظہر مسعود کیا قریبی بھی تھا۔پولیس نے بتایا کہ اسکے خلاف پولیس نے کئی کیس بھی درج کئے تھے اور اس بات کی تحقیقات کی جارہی ہے کہ اسکا اونتی پورہ حملے کیساتھ کیا تعلق تھا۔ پولیس کے مطابق دوسرا جنگجو بھی غیر ملکی ہے تاہم اسکی شناخت کی جارہی ہے جبکہ ہلال غازی ساکن پنگلنہ بھی پولیس کو مطلوب تھا جس نے فورسز پر کئی حملے کئے تھے۔ پولیس نے عوام سے پْر زور اپیل کی ہے کہ وہ جائے تصادم پر جانے سے تب تک گریز کیا کریں جب تک اسے پوری طرح سے صاف قرار نہ دیا جائے کیونکہ پولیس اور دیگر سلامتی ادارے لوگوں کے جان و مال کی محافظ ہے لہذا لوگوں کی قیمتی جانوں کو بچانے کیلئے پولیس ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔ چنانچہ ممکن طور جھڑپ کی جگہ بارودی مواد اگر پھٹنے سے رہ گیا ہو تو اس کی زد میں آکر کسی کی جان بھی جاسکتی ہے۔