میانمار کے قانون ساز فوجی بغاوت کے بعد نظر بند

 رنگون//میانمار کی پارلیمنٹ کے سینکڑوں ممبران فوجی بغاوت کے ایک روز بعد ملک کے دارالحکومت میں اپنی سرکاری رہائش گاہ کے اندر قید رہے اور نوبل انعام یافتہ اور ڈی فیکٹو رہنما آنگ سان سوچی سمیت سینئر سیاستدانوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اسی دوران آننگ سان سوچی کی نیشنل لیگ برائے ڈیموکریسی پارٹی نے ایک بیان جاری کیا جس میں فوج سے گزشتہ نومبر کے انتخابات کے نتائج کا احترام کرنے اور ان تمام افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔زیر حراست قانون سازوں میں سے ایک نے بتایا کہ وہ اور پارلیمنٹ کے تقریباً 400 ارکان کمپاؤنڈ کے اندر ایک دوسرے سے بات کر سکتے ہیں اور فون کے ذریعے اپنے انتخابی حلقوں سے بات چیت بھی کرسکتے ہیں۔