میانمار:مظاہرین پر فائرنگ ،8افراد ہلاک

ینگون//میانمارکے انو بان شہر میں ہوئے تازہ تشدد کے نتیجے میں کم از کم آٹھ مزید افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف عوامی مظاہروں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ملک بھر کے تقریبا سبھی بڑے شہروں میں روز مرہ کی زندگی مفلوج نظر آ رہی ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق جمعے کے دن وسطی شہر انوبان میں پرامن مظاہرہ کیا جا رہا تھا لیکن فوج نے اس احتجاج کو منشتر کرنے کی خاطر فائرنگ کر دی۔میانمار میں گزشتہ دو ماہ میں ان مظاہروں کے دوران فوج اور پولیس اہلکاروں سے جھڑپوں کے دوران کم ازکم دو سو چوبیس شہری مارے جا چکے ہیں۔ اس فوجی کریک ڈاؤن کے باوجود میانمار میں جموریت نواز شہریوں کی طرف سے مظاہروں اور احتجاجات کا سلسلہ ترک نہیں کیا گیا ہے۔ میانمار کے لیے اقوام متحدہ کے مندوب کائیو مو نے کہا ہے کہ کوشش کی جا رہی ہے کہ ریاستی سطح پر ہونے والی ان پرتشدد کارروائیوں کو روکنے کی خاطر بین الاقوامی فوجداری عدالت مداخلت کرے۔یورپی یونین کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ عوام کے خلاف تشدد کا مرتکب ہونے پر ذمہ دار افراد کے خلاف پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ بتایا گیا ہے کہ میانمار کی فوج سے منسلک اہم عہدیداروں کے خلاف پابندیاں کی ایک تجویز تیار کر لی گئی ہے ۔